اہم ترین خبریںپاکستان

قاسم سلیمانی کو پاکستان نے کمانڈو ٹریننگ دی اور ہم اسے شہید کہنے سے ڈر رہے ہیں، خواجہ آصف

ایران ہمارا دوست ملک ہے ۔ہمیں اس معاملے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے ، ترکی، قطر، ملائیشیا ، ایران کوالالمپور میں اکھٹا ہوئے تھے ہمیں وہاں جانا چاہئے تھا اس سے ہمارے قدکاٹھ میں اضافہ ہوتا

شیعت نیوز: پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے حوالے سے ایسا انکشاف کردیا کہ جس نے پوری قومی سیاست میں ہلچل مچادی ہے ۔ سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ قاسم سلیمانی کو پاکستان آرمی نے ایس ایس جی کمانڈو کی ٹریننگ دی اور آج وہ شہید ہوا ہے تو ہم آنکھیں چرا رہے ہیں اور اسے شہید کہنے سے بھی ڈر رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ایرانی قونصلیٹ پہنچ گئے،سردار قاسم سلیمانی کی شھادت پر تعزیت

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی فارن پالیسی کو پولیو کے قطرے پلانے کی ضرورت ہے جو اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو پارہی ۔پاکستان کی سی پیک پر پیش رفت اطمینان بخش نہیں ، ہم نے روس کے ساتھ تعلقات کے جس نئے دور کا آغاز کیا تھا ہم اسے برقرار نہیں رکھ سکے ۔ ہم نے ترکی، ایران، روس، ملائیشیا کے ساتھ اپنی دوستی خطرے میںڈال دی ۔

یہ بھی پڑھیں: سردار مقاومت قاسم سلیمانی اور دیگر شہداء کے خون ناحق کا بدلہ جلد لیں گے،جنرل حسین سلامی

انہوں نے کہاکہ ٹھیک ہے کہ سعودیہ ہمارا بڑا عزیزدوست ہے ہمارے لیئے قابل احترام ہے وہ خادمین حرمین شریفین ہیں ۔میں سعودیہ کے ساتھ کی عزت اور قدر کرتا ہوں لیکن خداکیلئے ایک دوست کیلئے دوسرے دوست کو ذبح نا کریں اس کو قربان نا کریں ۔ ہمارے جو قومی مفادات ہیں ریاستی مفادات ہیں اس کا تحفظ کریں ۔ہماری فارن پالیسی مخمصوں کا شکارہے ہمیں پتہ ہی نہیں کہ صبح کیا ہونا ہے شام کیا کرنا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی پارلیمنٹ نے امریکی وزیر دفاع اور امریکی اعلیٰ فوجی قیادت کو دہشتگرد قرار دے دیا

خواجہ آصف نے کہاکہ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ حالیہ امریکی حملے اور قاسم سلیمانی کی شہادت پر ایران کے ساتھ کھڑی ہوتی ۔ قاسم سلیمانی جسے ہم نے پاکستان بلاکر ایس ایس جی کمانڈو ٹریننگ دی اس کو مار دیا گیا توہم اسے شہید کہنے سے بھی آنکھیں چرا رہے ہیں ۔ ایک وقت تھاکہ پاکستان اور ایران کے تعلقات ایسے تھے کہ ہم قاسم سلیمانی کو بلا کر ٹریننگ دیا کرتے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں: ہم قاسم سلیمانی کے نقش قدم اور ان کے مشن پر گامزن رہیں گے،سربراہ حماس اسماعیل ہنیہ

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اندر اتنی جرات نہیں کہ ہم قاسم سلیمانی کو شہید کہہ سکیں ،ہمارے اندر اتنا خوف ہے ۔ہم نے اپنا ایمان ، اعتماد، قومی خودمختاری چندبلین ڈالروں کے عیوض بیچ ڈالی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر سنجیدگی کے نظر ثانی کرناہوگی ،اسی ایوان نے یمن کے حوالے سے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا تھا اور قرار داد منظور کی تھی کہ ہم نے یمن جنگ کا حصہ نہیں بننا۔ ہم نے اس کے باوجود سعودیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقراررکھا لیکن اپنی خودمختاری کو فروخت نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ۱۲۰علمائے کرام، مشائخِ عظام، مفتیانِ دین کاحکومت سے امریکا کی کسی صورت حمایت نا کرنے کا مطالبہ

انہوں نے مزید کہاکہ ایران ہمارا دوست ملک ہے ۔ہمیں اس معاملے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے ، ترکی، قطر، ملائیشیا ، ایران کوالالمپور میں اکھٹا ہوئے تھے ہمیں وہاں جانا چاہئے تھا اس سے ہمارے قدکاٹھ میں اضافہ ہوتا۔ہم جو مختلف ممالک میں ثالثی کی بھڑکیاں مارتے ہیں اگر ہم کوالالمپور چلے جاتے تو ہماری بات میں وزن رہتا بلکہ جو تھوڑا بہت وزن ہمارے موقف میں تھا وہ بھی ہم نے کھودیا۔ خواجہ آصف نے کہاکہ ہمیں بے سمت اور بے حسی پر مبنی خارجہ پالیسی پر فوری نظر ثانی اور توجہ کی ضرورت ہے ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close