کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشل

کیا امریکا ایران سے جنگ کرے گا؟

تحریر : عین علی  /  شیعت نیوز اسپیشل

 

 

دنیا بھراور خاص طور پر پاکستان میں اس وقت بین الاقوامی منظر نامے کے حوالے سے سب سے زیادہ زیر بحث موضوع امریکا کی ایران سے محاذ آرائی میں شدت ہے۔ پورے خطے میں افواہیں اور سرگوشیاں ہیں گویا امریکا ایران کے مابین جنگ ہونے جارہی ہو۔ لیکن کیا واقعی جنگ ہونے جارہی ہے؟ اگر یہ سوال ایران سے کیا جائے تو انکا جواب آچکا ہے کہ پہل انکی جانب سے نہیں ہوگی، وہ جنگ نہیں چاہتے۔ اگر یہ سوال امریکا سے کیا جائے تو بھی اسکا جواب نہ واضح طور پر ہاں ہے اور نہ ہی ناں!

اس کے باوجود اگر جنگ جنگ کا شور مچایا جارہا ہے تو اسکا سبب یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور انکی حکومت کے بعض ایسے حکام جو زایونسٹ لابی سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اپنے پرانے کھیل کا نیامرحلہ شروع کررہے ہیں۔ پچھلے سال انہوں نے ایران کے ساتھ بین الاقوامی نیوکلیئر معاہدے سے امریکا کو دستبردار کرکے اس معاہدے کی خلاف ورزی کا آغاز کیا۔ ساتھ ہی ایران پر نئی امریکی پابندیاں بھی لگائیں۔دنیا کو دھمکی دی کہ جو بھی ایران سے خام تیل خریدے گا، امریکا اس پر اقتصادی پابندیاں لگادے گا۔ اس کی زد پر اسکے اتحادی اور شراکت دار و دوست ممالک بھی آرہے تھے تو انہیں وقتی طور پر مہلت دی گئی اور اب وہ مہلت بھی ختم ہوچکی ہے۔

چونکہ امریکا کی ان پابندیوں کے باوجود ایران نے ا پنی آزادی و خودمختاری پرسمجھوتے سے انکار کردیا اور اپنے میزائل پروگرام کے خلاف امریکی ڈکٹیشن کو مسترد کردیا۔ اور نیوکلیئر ڈیل کے دیگر فریقوں پر یہ واضح کردیا تھا کہ نیوکلیئر ڈیل میں جو یقین دہانیاں ایران کو کروائیں گئیں تھیں، اگر ایران کے حق میں ان پر عمل کو یقینی نہیں بنایا گیا یا با الفاظ دیگر امریکا کی ایران پر پابندیوں کو ناکام نہ بنایا گیا تو ایران بھی نیوکلیئر ڈیل کی بعض شقوں پر عمل روک دے گا۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی حکام نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت 8اپریل2019ع کو ایران کے آئینی و قانونی عسکری ادارے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو غیر ملکی دہشت گرد گروہ قرار دے کر اس خطے میں زایونسٹ لابی کے پرانے کھیل کو نئے مرحلے میں داخل کیا۔

ایران نے جوابی کارروائی کرکے امریکا کی اس خطے میں جو سینٹرل کمانڈ فوج ہے اسکو دہشت گرد گروہ قرار دیا۔ 6مئی 2019ع کو ایران اور اسکی حامی مقاومتی مسلح تنظیموں کو امریکی افواج کے لئے خطرہ قرار دے دیا۔ 6مئی کو ہی امریکا کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جون بولٹن نے بیان جاری کیا کہ امریکا فوجی بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ اور سینٹرل کمانڈ کے لئے ایک بمبار ٹاسک فورس مشرق وسطیٰ کے لئے بھیج رہا ہے۔ اسکے باوجود اسی دن امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان چارلس سمر کا بیان تھا کہ امریکا ایران سے جنگ نہیں چاہتا بلکہ خطے میں امریکی مفاد اور افواج کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے بحری بیڑہ بھیج رہا ہے۔

ان تیاریوں سے زایونسٹ لابی امریکا کے ذریعے ایران اور مقاومت کے بلاک پر اپنا رعب و دبدبہ بٹھانا چاہتی ہے لیکن نتیجہ یہ ہے کہ یہ خود امریکا ہے جو خطے میں اپنے مفادات کی ضمانت کی بھیک مانگ رہا ہے۔

 
7مئی کو امریکی وزیر خارجہ بغیر کسی طے شدہ پروگرام کے عراق پہنچے اور عراق حکومت سے امریکی مفادات کے تحفظ کی ضمانت چاہی۔ 8مئی 2019ع کو امریکا نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا جس میں ایرانی صنعتی دھات کی برآمدات کو ہدف بنایا گیا۔ 9مئی کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کے اراکین اور قائم مقام وزیر دفاع کا اجلاس ہوا جہاں وزیر دفاع نے نیا فوجی منصوبہ پیش کیا جس کے تحت ایران کی جانب سے امریکی افواج پر حملے یا مبینہ طور پر نیوکلیئر ہتھیاروں پر کام کی رفتار بڑھانے کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں ایک لاکھ بیس ہزار امریکی فوجی بھیجے جائیں گے۔

اور اسکے بعد 12مئی2019ع کو متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کے قریب چار بحری جہازوں پر پراسرار حملہ ہوا۔ ان میں سے دو سعودی عرب کی ملکیت تھے جب کہ ایک پر متحدہ عرب امارات اور ایک پر ناروے کا پرچم لہرارہا تھا۔ ایران نے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک خاص طور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکا کے اتحادی ہیں اور انہوں نے یمن پر مارچ 2015ع سے جنگ مسلط کررکھی ہے۔ یمنی فوج اور رضاکار تنظیمیں اور خاص طور پر حرکت انصار اللہ جسے حوثی تحریک کہا جاتا ہے، سعودی اماراتی فوجی اتحاد کی جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں اور جوابی کارروائی میں کبھی کبھار وہ بھی سعودی و اماراتی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن فجیرہ حملے کی ذمے داری انہوں نے قبول نہیں کی۔

16مئی کو سی این این نے جو رپورٹ دی اس کے مطابق امریکی حکومت کے ایران مخالف بیانیہ پر اسکے اتحادیوں نے سوالات اٹھادیے ہیں۔ ایک برطانوی جرنیل جو شام و عراق میں امریکی قیادت میں نام نہاد داعش مخالف کوالیشن میں شامل ہے، اس تک نے امریکی موقف سے عدم اتفاق کیا ہے۔

البتہ انہوں نے بحیرہ احمر کی طرف سعودی تیل پہنچانے والی شرقی غربی پائپ لائن پر ڈرون میزائل حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔14مئی سے آرامکونے اس 1200کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے ہونے والی تیل کی پمپنگ معطل کردی ہے۔یہ پائپ لائن صوبہ مدینہ کی ینبع بندرگاہ تک تیل کی ترسیل کا اہم ذریعہ ہے اور بعض خبروں کے مطابق پچاس لاکھ بیرل تیل یومیہ ترسیل کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یمن کی حوثی تحریک کے رہنما سید محمدعلی الحوثی نے بی بی سی کو انٹرویو میں وضاحت کی ہے کہ یمن نے اپنے تیار کردہ ڈرون طیارے سے سعودی حملوں کے جواب میں کارروائی کی ہے اور ایران کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 13مئی کو برسلز میں یورپی یونین کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹنبرگ سے ملاقات کی جبکہ ایران نیوکلیئر ڈیل کے یورپی فریق برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ پومپیو کے ہمراہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے ایران برائن ہک بھی تھے۔ امریکی سفارتکاروں نے یورپی حکام کو ایران سے لاحق مبینہ خطرے سے متعلق اپنی معلومات شیئر کیں۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیریمی نے خبردار کیا کہ خلیج فارس جو پہلے سے ہی غیر مستحکم ہے وہاں امریکا ایران کی کشیدگی کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ 14مئی کو پومپیو نے روس میں صدر پیوٹن اور وزیر خارجہ سرجئی لاوروف سے ملاقات میں ایران، یوکرین، وینزویلا اور شام کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ٹرمپ نے بھی چند روز قبل پیوٹن سے فون پر گفتگو کی تھی۔

16مئی کو سی این این نے جو رپورٹ دی اس کے مطابق امریکی حکومت کے ایران مخالف بیانیہ پر اسکے اتحادیوں نے سوالات اٹھادیے ہیں۔ ایک برطانوی جرنیل جو شام و عراق میں امریکی قیادت میں نام نہاد داعش مخالف کوالیشن میں شامل ہے، اس تک نے امریکی موقف سے عدم اتفاق کیا ہے۔ بظاہر اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو بھی امریکی حکمت عملی پر تشویش ہے۔ 16مئی کو ہی یو ایس نیول انسٹی ٹیوٹ نے خبر دی کہ امریکی بحری بیڑے (گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائر) یو ایس ایس میک فاؤل (ڈی ڈی جی 74) اور یو ایس ایس گونزیلز (ڈی ڈی جی 66) آبنائے ہرمز کراس کرکے خلیج فارس پہنچ چکے ہیں۔ یہ پہلے بھی یہیں تعینات تھے لیکن پچھلے ہفتے خلیج فارس سے نکل گئے تھے۔

  ایران کا موقف رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ بیان کرچکے ہیں کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، یعنی پہل ایران کی طرف سے نہیں ہوگی اور (ایران کی آزادی و خودمختاری اور دفاع پر) امریکا سے مذاکرات کے امکان کو بھی انہوں نے یکسر مسترد کردیا ہے۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر عمان کے ساحل سے نزدیک کھڑا کیا گیا ہے جبکہ ایک اور بحری بیڑہ یو ایس ایس کیئرسارج متحدہ عرب امارات کے ساحل پر خلیج فارس کے داخلی مقام سے نزدیک تعینات ہے۔ قطر میں ایک فوجی اڈے میں امریکا کے بی 52 بمبار طیارے لاکر کھڑے کردیئے گئے ہیں۔ ایک اور جنگی بحری بیڑہ یو ایس ایس آرلنگٹن، پانی میں چلنے والی ٹینک نما گاڑیوں اور طیارے کے ساتھ یو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ کے ساتھ کھڑا کردیا جائے گا۔ امریکا خلیج فارس میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام بھی بھیج رہا ہے۔

یہ ہیں امریکا کی فوجی اور سفارتی پھرتیاں۔ اس تحریر میں امریکی الزامات اور اقدامات کی تفصیلات بیان کی گئیں ہیں۔ البتہ ایران کا موقف رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ بیان کرچکے ہیں کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، یعنی پہل ایران کی طرف سے نہیں ہوگی اور (ایران کی آزادی و خودمختاری اور دفاع پر) امریکا سے مذاکرات کو بھی انہوں نے یکسر مسترد کردیا ہے۔ انکی باتوں سے محسوس ہوتا ہے گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ اس وقت امریکا خود اتنے مسائل کا شکار ہے کہ جنگ کی پوزیشن میں ہے ہی نہیں اور جنگ اسکے بھی مفاد میں نہیں ہے اس لئے جنگ نہ ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

ان تیاریوں سے زایونسٹ لابی امریکا کے ذریعے ایران اور مقاومت کے بلاک پر اپنا رعب و دبدبہ بٹھانا چاہتی تھی لیکن نتیجہ یہ ہے کہ یہ خود امریکا ہے جو خطے میں اپنے مفادات کی ضمانت کی بھیک مانگ رہا ہے۔ امریکا کی بھرپور فوجی موجودگی خلیج فارس اور اسکے دوسرے کنارے واقع خلیجی عرب ممالک میں اڈوں کی صورت میں ایک طویل عرصے سے ہے۔ بحرین میں اسکا پانچوان بحری فلیٹ ہے، قطر میں الگ اڈے ہیں تو دیگر جی سی سی ممالک میں بھی امریکی افواج موجود ہیں۔ اس لئے فوجی نقل و حرکت کے ذریعے امریکا اپنے اتحادیوں کی نظر میں بڑا بننا چاہ رہا ہے یا پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے والی صدی کی ڈیل کے تناظر میں اس طرح بوکھلارہا ہے، صورتحال کو ان رخوں سے بھی تو دیکھنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟!

ایران اور مقاومتی بلاک تمام تر مشکلات کے باوجود قدم بہ قدم زایونسٹ بلاک (یعنی اسرائیل کے اتحادیوں) کے گرد گھیرا تنگ کرچکا ہے۔ گوکہ ایران اور مقاومتی بلاک کا دشمن کمزور نہیں ہے لیکن وہ اتنا طاقتور بھی نہیں کہ سرزمین اسلام و عرب کے غیرت مند بیٹوں کو خوفزدہ کرسکے۔ یہ کوئی جذباتی رائے نہیں ہے بلکہ اگر پچھلے چالیس برس کی تاریخ کا ہی سرسری جائزہ لے لیں تو ایران سے عراق، شام و لبنان و فلسطین تک اور یہاں خلیج فارس سے یمن تک مقاومت کے محور کی استقامت روز روشن کی مانند اپنے ناقابل تردید وجود کے ساتھ امریکی زایونسٹ بلاک کی ناکامی دنیا کے سامنے آشکار کررہی ہے!

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close