مقالہ جات

لبنان اور عراق میں عوامی غصہ یا سازش ۔۔؟ | شیعت نیوز نیٹ ورک

انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی احتجاج اور اس احتجاج کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ثمرات کو تباہ کیا جاسکتا ہے اور لبنان کو بیرونی کسی سازش کا شکار بنایا جاسکتا ہے

شیعت نیوز: اس بات پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے کہ عراق اور لبنان میں جاری مظاہروں کے پچھے دونوں ملکوں میں موجود کرپشن ،مہنگائی اور شہری سہولیات کا فقدان ہے لیکن کیا یہ صرف ایک اتفاق ہوسکتا ہے کہ ان دونوں ملکوں میں جاری عوامی بے چینی کے پچھے کسی قسم کا کوئی اور خفیہ ایجنڈا نہ ہو؟کیا یہ تخلیقی افراتفری کا پروجیکٹ ہوسکتا ہے؟

عرب دنیا کے انتہائی اہم سمجھے جانے والے تجزیہ کار انیس نقاش لبنان کے مظاہروں کے بارے میں کہتے ہیں’’ یہ ایک مثبت اقدام ہے گرچہ ہماری آرزو رہی ہے کہ لبنان میں خوشی اور کامیابی کے موقع پر ایک قسم کا باہمی اتفاق و اتحاد دیکھائی دے لیکن اس وقت کم کم ازکم مشکلات کے حل کے لئے سب اکھٹے تو دیکھائی دے رہے ہیں۔

سب اس بات پر متفق ہیں کہ ایک بحران موجود ہے اور عوام کو مشکلات کا سامنا ہے جیسا کہ کہا جارہا ہے اس وقت یہ مسئلہ فرقوں اور گروہوں سے بالاترچکا ہے لیکن مشکلات اور متعددرائے کا سامنا اس وقت کرنا پڑے گا کہ جب ہم ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنے بیٹھیںکہ آخر اس (معیشتی اور کرپشن )بحران کا ذمہ دار کون ہے اور کیسے اس مسئلے کا حل نکالا جائے ؟

میں کئی بار بہت پہلے سے خبردار کررہا رہا تھا کہ ہمیں اس طرح کے ایک عوامی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے کہ معیشتی مسائل عوامی دھماکہ خیز احتجاج کی شکل میں نکل آئے اور عوام باہمی طور پر دست و گریبان ہوجائیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ آج عوام متفقہ طور پر دھرنا لگائے ہیں پرامن احتجاج ہورہا ہےاور سارا دباو اور سب کے نشانے پر سیاسی ایلیٹ ہے ،مطلب یہ ہےکہ ہمیں جس خطرے کا سامنا تھا ہم اس سے بچ گئے گرچہ ابھی پوری طرح اطمنان رکھنا مشکل ہے ۔

ہمیں اس مسئلے کی جڑوں کو دیکھنا ہوگا ،جب بھی ہم کسی مسئلے کی ظاہری شکل و صورت کو پرکھیں تو درست تصویر نہیں ملتی ۔میرے خیال میں تین بنیادی نکات ہیں جس پر یہ سارا ایشو کھڑا ہے.

یہ بھی پڑھیں: امریکااوراسرائیل عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کوسزادینا چاہتے ہیں ، علامہ شفقت شیرازی

الف:لبنانی معیشت کا انفرا اسٹریکچر لبنان کی آزادی سے لیکر اب تک کبھی معیشتی ترقی اور نمو کے لئے کسی قسم کی سنجیدہ حکمت عملی نہیں بنائی گئی

بـ:رشوت اور کک بیگ سرکاری سطح پر

ج:قومی سرمائے کا فرار ہونا اور عالمی اقتصادی مسائل ‘‘عراقـ: عراق میں ہونے والے احتجاج کے بارے خود عراقی کیا کہتے ہیں ؟

گرچہ عراق میں ہونے والے سابقہ احتجاج اور حالیہ احتجاج کے بارے میں ملک سے باہر بیٹھے زیادہ تر غیر عراقی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ ایک سازش ہے جس کا نشانہ مزاحمتی بلاک ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ عراق کو اس بلاک سے دور کیا جائے ۔مزاحمتی بلاک کیخلاف سازش سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ مسلسل ایک قسم کی گرم و سرد دونوں جنگ کا سامنا کررہا ہے گرچہ اس جنگ میں اس کا پلڑہ بھاری اور مضبوط ہے۔

لیکن کیا اس بلاک سے وابستہ کسی بھی ملک میں ہونے والے عوامی احتجاج کو سازش کہا جاسکتا ہے ؟ اور کیا ان ممالک میں پیدا ہونے والے ہر قسم کے سیاسی سماجی عوامی بحران یا احتجاج کو خالصتا داخلی ایشوز کو قرار دیا جاسکتا ہے ؟واضح رہے کہ عراق کو سولہ سال بعد اس قسم کے مظاہروں اور احتجاج کا سامنا ہے۔

الف:عراق کے بارے میں اب تک سرکاری اور غیر سرکاری ذمہ داروں کی جانب سے بیان ہونے والے بیانات حالیہ اور گذشتہ احتجاج کو سازش قراردینے سے کتراتے دیکھائی دیتے ہیں بلکہ عراقی وزیر اعظم نے روسی خبرساں ادارے سے بات کرتے ہوئےاپنے تازہ ترین انٹریومیں شدت کے ساتھ کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا سازش کی نفی کی اور کہا کہ عراق ایک آزاد و خودمختار ملک ہے ۔

ب:اربعین نواسہ رسول اللہ ص سے کچھ دن قبل شروع ہونے والے خونین احتجاج کے بعد نشر ہونے والی سرکاری خفیہ رپورٹ میں کسی بھی قسم کی سازش کا معمولی سا بھی اشارہ دیکھائی نہیں دیتا ۔

ج:عراقی مرجع اعلی اور دیگر مراجع کی جانب سے نشر ہونے والے بیانات میں بھی اس قسم کی کوئی بات مرکزی حثیت میں دیکھائی نہیں دیتی بلکہ وہ عراقی حکومت کو کرپٹ عناصر اور کرپشن کیخلاف ایکشن پر تاکید کرتے ہیں۔

د:عراقی سیاسی جماعتوں اور مذہبی سیاسی رہنما و جماعتیں بھی اس قسم کی کوئی بات نہیں دہرارہی ہیں ماسوائے چند مرکزی اور انتہائی اہم سیاسی عسکری جماعتوں کے جن کے بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عراق سازش کا شکار ہوسکتا ہے ۔

یہ بھی پٹھیں: امریکہ اور اسرائیل، عراق کو غیرمستحکم کرنے کے لئے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کریں گے

پھر اصل کہانی کیا ہے ؟کیا اپنی ناکامی کو سازش کی تھیوری سے چھپانا مقصود ہے ؟

الف:عراق میں امریکی موجودگی اور مسلسل شکست ،امریکی خواہش کے برعکس عراقی حکومت کی تشکیل اور خارجہ و داخلہ پالیسی ،کافی ہے کہ عراق کیخلاف کسی بھی وقت کسی بھی قسم کی سازش رچی جائے ۔

ب:اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کہ حکومتیں جب دیکھتی ہیں کہ عوام کا غیض و غضب ان کی کرپشن اور نااہلی کے سبب ان کے دروزے تک پہنچا ہے تو وہ اسے روکنے کے لئے کئی قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے جن میں سے ایک سازشی عناصر،بیرونی وابستگی ،غیر ملکی ایجنڈا وغیرہ جیسے عناوین ہواکرتے ہیں۔

ج:اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ عراقی عوام اور سیاسی رہنمااس وقت جمہوری اور آزاد حکومت کے تربیتی مراحل طے کررہے ہیں اور ایک قسم کے تجربے سے گذررہے ہیں ۔

د:عراقی معاشرتی ساخت بھی ایسی ہے ذمہ داروں کو بڑے نپے تلے انداز سے چلنا پڑتا ہے اس وقت عراق عوام کا سیاسی شعور اس قدر بلند نہیں کہ وہ بہتر انداز سے معاملات کو سمجھ سکیں ۔

ابھی تازہ ترین صورتحال اس وقت واضح ہو گئی کہ جب لبنان میں ملک کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعت اور حکومت میں شامل ایک اہم ستون تحریک مزاحمت حزب اللہ کے سربراہ نے ان عوامی مظاہروں کی مختلف پہلو پر گفتگو کی اور انہیں عوام کی آواز کہا لیکن ساتھ ساتھ اس بات سے بھی خبردار کیا اسے ہائے جیک کیا جاسکتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خود جوش عوامی تحریک تھی جو مطالبات کو لیکر اٹھی تھی لیکن ایسا بھی ہرگز نہیں کہ اس کے پچھے کوئی پوشیدہ قوت موجود نہ ہو ۔انہوں نے واضح کردیا کہ کچھ سیاسی گروہ اور شخصیات جو کرپشن میں بھی ملوث ہیں اور ممکنہ طور پر بیرونی وابستگی بھی رکھتیں احتجاج کو فنڈنگ کررہی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی سامراج اربعین کے ملین مارچ سے خوف زدہ نظر آرہے ہیں، حسن نصراللہ

ان کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ کرپٹ عناصر جنکے لئے احتجاج ایک خطرہ ہے اسے چلا رہے ہیں تاکہ لبنان کا موجودہ سیاسی ڈھانچہ ختم ہواور ایک نیا بحران جنم لے ظاہر ہے کہ ایک ایسے بحران کی جانب لبنان کے دشمن للچائی نگاہوں سے دیکھے گے ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی احتجاج اور اس احتجاج کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ثمرات کو تباہ کیا جاسکتا ہے اور لبنان کو بیرونی کسی سازش کا شکار بنایا جاسکتا ہے لہذا عوام کو چاہیے کہ اب وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرے اور اپنے حاصل شدہ ثمرات کو محفوظ کریں سید حسن نصر اللہ کو خطے کا سپر برین کہا جاتا ہے اور دوست دشمن ان کی سیاسی سماجی بصیرت کا معترف ہیں وہ جب گفتگو کرتے ہیں تو انتہائی باریک بینی اور مکمل حقائق اور بغیر کسی مبالغے گوئی کے کرتے ہیں ہوسکتا ہے کہ خطے میں بہت سے افراد ظاہری طور پر ان سے اختلاف رکھیں ۔

لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان کے مخالفین بھی اس بات کا معترف ہیں کہ ان کی بات فصل الخطاب ہواکرتی ہے ۔وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر معروف ہیں کہ جو نہ صرف کبھی بھی غلط بیانی ،مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنی عوام کو کبھی بھی اندھیرے میں نہیں رکھتے اور نہ ہی سب ٹھیک یا سب غلط کی تھیوری پر یقین رکھتے ہیں اس بات سے بھی خبردار کیا اسے ہائے جیک کیا جاسکتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خود جوش عوامی تحریک تھی جو مطالبات کو لیکر اٹھی تھی لیکن ایسا بھی ہرگز نہیں کہ اس کے پچھے کوئی پوشیدہ قوت موجود نہ ہو ۔انہوں نے واضح کردیا کہ کچھ سیاسی گروہ اور شخصیات جو کرپشن میں بھی ملوث ہیں اور ممکنہ طور پر بیرونی وابستگی بھی رکھتیں احتجاج کو فنڈنگ کررہی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ اور لبنان کے موجودہ حالات

ان کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ کرپٹ عناصر جنکے لئے احتجاج ایک خطرہ ہے اسے چلا رہے ہیں تاکہ لبنان کا موجودہ سیاسی ڈھانچہ ختم ہواور ایک نیا بحران جنم لے ظاہر ہے کہ ایک ایسے بحران کی جانب لبنان کے دشمن للچائی نگاہوں سے دیکھے گے ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی احتجاج اور اس احتجاج کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ثمرات کو تباہ کیا جاسکتا ہے اور لبنان کو بیرونی کسی سازش کا شکار بنایا جاسکتا ہے لہذا عوام کو چاہیے کہ اب وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرے اور اپنے حاصل شدہ ثمرات کو محفوظ کریں۔

سید حسن نصر اللہ کو خطے کا سپر برین کہا جاتا ہے اور دوست دشمن ان کی سیاسی سماجی بصیرت کا معترف ہیں وہ جب گفتگو کرتے ہیں تو انتہائی باریک بینی اور مکمل حقائق اور بغیر کسی مبالغے گوئی کے کرتے ہیں ہوسکتا ہے کہ خطے میں بہت سے افراد ظاہری طور پر ان سے اختلاف رکھیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان کے مخالفین بھی اس بات کا معترف ہیں کہ ان کی بات فصل الخطاب ہواکرتی ہے ۔

وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر معروف ہیں کہ جو نہ صرف کبھی بھی غلط بیانی ،مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنی عوام کو کبھی بھی اندھیرے میں نہیں رکھتے اور نہ ہی سب ٹھیک یا سب غلط کی تھیوری پر یقین رکھتے ہیں ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close