اہم ترین خبریںپاکستان

بلوچستان میں جہنم واصل لشکر جھنگوی کا کمانڈر عبدالکریم کردکون ؟ ؟مکمل تفصیل جانئے

حکومت بلوچستان نے سال2015ء میں عبدالکریم کرد کی گرفتاری پر20لاکھ روپے انعام بھی مقرر کیا تھا

شیعیت نیوز:  وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاء لانگو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مستونگ میں سی ڈی ٹی نے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے کوئٹہ میں 11خود کش حملوں میں ملوث کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے اہم کمانڈرعبدالکریم کرد سمیت 4دہشت ہلاک کردیئے۔عبدالکریم کرد کے سرپر 20لاکھ روپے انعام مقرر تھا جبکہ یہ 30سے زائد خودکش حملہ آوروں کو افغانستان سے پاکستان لاچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کی شام سی ٹی ڈی بلوچستان اور حساس اداروں کو اطلاع ملی کہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا اہم کمانڈر عبدالکریم کرد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دشت کے علاقے میں موجود ہے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے منصوبہ بندی کر رہا ہے جس پر کوئٹہ کے مضافاتی علاقے دشت میں ایک آپریشن کیا گیا دوران آپریشن دہشت گردوں کی طرف سے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی جس میں سیکیورٹی فورسز نے حفاظت خود اختیاری میں جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کمانڈر عبدالکریم کرداوراسکے تین ساتھی ہلاک ہوئے جن کے قبضے سے 2خود کش جیکٹس ،ایک عدد کلاشنکوف ،تین پسٹل ،دھماکہ خیز مواد ،پرائما کارڈ اور ہینڈ گرینڈ برآمد ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: یا اللہ پاکستان پرکرم فرما! رحمٰن ملک کا پاکستان کے خلاف سازش اور 3ممالک کی فنڈنگ کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عبدالکریم کرد کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا اہم کمانڈررہا ہے اور تقریباً 30سے زیادہ خود کش حملہ آوروں کو مختلف اوقات میں افغانستان سے پاکستان لاچکا ہے اوراسوقت لشکر جھنگوی کے کمانڈرعثمان سیف اللہ کرد کا نائب اور پیغام رساں رہا ہے جس کا رابطہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ،اسلامک مومنٹ آف ازبکستان ،القائدہ اور این ڈی ایس سے رہا ہے اورسال2015ء میں عثمان سیف اللہ کرد کے مرنے کے بعد دہشت گرد کمانڈر عبدالکریم کرد نے لشکر جھنگوی عثمان سیف اللہ گروپ کی بنیاد رکھی اور تنظیم کو فعال کیا ۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے FATFکی گرےلسٹ میں موجودگی ،کامران خان نے دوست نمادشمنوں کو آشکارکردیا

حکومت بلوچستان نے سال2015ء میں عبدالکریم کرد کی گرفتاری پر20لاکھ روپے انعام بھی مقرر کیا تھا اب سے پہلے کی گئی تفتیش اورپکڑے گئے دہشت گردوں سے پوچھ گچھ سے یہ بات علم میں آئی ہے کہ سابقہ ڈی آئی جی آپریشن وزیر خان ناصر ،ڈی آئی جی ایف سی کے گھر پرخود کش حملوں،بی ایم سی ہسپتال ،سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی خود کش حملوں ،آئی ٹی یونیورسٹی کی بس پر خود کش حملے ،ہزارہ عیدگاہ پرخود کش حملے پرل سینٹر عملدار روڈ پر خودکش حملے ،ہزارہ ٹاون خود کش حملے زائرین کی بسوں پرخود کش حملے ،خالد ائیربیس اور سمنگلی ائیر بیس پر حملے کیلئے استعمال ہونے والے دہشت حملہ آور اسی دہشت گرد نے افغانستان سے پاکستان لائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:کس تیسری عرب مملکت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کا اعلان کیا ؟جان کر حیران رہ جائیں

انہوں نے کہا کہ حالیہ کارروائی سی ٹی ڈی بلوچستان اور سیکورٹی اداروں کی بہت بڑی کامیابی ہے جس کے نتیجے میں کالعدم تنظیم کے 4دہشت گرد جس میں ایک اہم کمانڈربھی شامل ہے مارے گئے کوئٹہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کرنے کے مذموم عزائم کو ناکام بنادیا گیا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close