اہم ترین خبریںپاکستان

کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما کی مسجد میں ایسی شرمناک حرکت کہ سن کرسرشرم سے جھک جائے

12 سالہ بچے کی لاش برآمد ہونے کے واقعے کے بعد مسجد کے پیش امام سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی

شیعیت نیوز: کالعدم تکفیری دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ کےزیر انتظام مسجد میں مبینہ طور پرذیادتی کے بعدنابالغ بچے کا بہیمانہ قتل ، تکفیری پیش امام سمیت 5ساتھی گرفتار ، مقدمہ درج تحقیقات شروع ۔ملزمان لاش کو خفیہ طور پر افغانستان منتقل کرنے کی کوشش میں مصروف تھے ۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں یکہ توت تھانے کی حدود میں منگل کو ایک مسجد سے 12 سالہ بچے کی لاش برآمد ہونے کے واقعے کے بعد مسجد کے پیش امام سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق منگل کو یکہ توت تھانے کو اطلاع موصول ہوئی کہ رشید گڑھی گاؤں کی مسجد عمر فاروق میں ایک طالب علم کو قتل کردیا گیا ہے اور واقعے کو خودکشی کا رنگ دے کر پولیس یا علاقہ مجسٹریٹ کو اطلاع دیے بغیر اس کو خفیہ طور پر دفنانے کی کوشش کی گئی۔

ذرائع کے مطابق افغان نژاد اس 12سالہ مقتول طالب علم کومسجد کے پیش امام کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنمااور اس کے ساتھیوں نے جنسی ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بچے کی جانب سے راز فاش کیئے جانے کے ممکنہ خوف کے باعث ملزمان نے گلا گھونٹ کر مار ڈال اور واقعہ کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی ۔

یہ بھی پڑھیں: اقدام قتل کا مقدمہ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو عدالت طلب کرلیا

تھانہ یکہ توت کے ایس ایچ او علی سید نےذرائع کو بتایا کہ اطلاع کو مصدقہ جان کر پولیس کی نفری نے متعلقہ جگہ پہنچ کر لاش کے ساتھ موجود مسجد کے پیش امام اور کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما بسم اللہ سمیت سینیئر طالب قاری قدرت اللہ، نوح اللہ، گل احمد اور عبدالمالک کو گرفتار کر لیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ ’تفتیش کے بعد مقتول کے ماموں زاد عبدالمالک نے پولیس کو بتایا کہ لاش 12 سالہ مصلح الدین کی ہے، جن کا تعلق افغانستان سے تھا۔ یہ پانچ لڑکے پشاور کے مختلف مدارس میں دینی علوم حاصل کر رہے تھے۔ تاہم ان کی رہائش رشید گڑھی میں تھی۔‘

ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق طالب علم عبدالمالک نے پولیس کو بتایا کہ رات مسجد عمر فارق میں گزارنے کے بعد نماز فجر کے بعد سب اپنے اپنے مدارس جاتے تھے، تاہم 11 اگست کو انہیں جیسے ہی اطلاع ملی کہ مصلح الدین نے خود کشی کی ہے وہ فوری طور پر اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے ۔ انہوں نے قاری بسم اللہ سے چابی حاصل کرکے مسجد کی دوسرے منزل کا دروازہ کھولا، جہاں برآمدے میں مصلح الدین کی لاش رسی کےساتھ لٹکی ہوئی تھی۔

عبدالمالک نے بتایا کہ یہ سوچ کر کہ الزام ان پر نہ آئے، وہ پولیس کو اطلاع دیے بغیر لاش کو خفیہ طور پر افغانستان منتقل کرنے کا بندوبست کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی توہین کون کر رہا ہے؟؟ وفاقی وزیر کا بڑا انکشاف

ایف آئی آر میں مزید لکھا گیا ہے کہ عبدالمالک اور دیگر ساتھی اصل حقائق چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ دوسری منزل پر جانے کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا۔ علاوہ ازیں مقتول کے لیے خود باہر سے دروازے کو تالا لگانا ممکن نہیں تھا جبکہ مقتول کی عمر کم ہونے کی وجہ سے وہ خود کو پھانسی پر نہیں لٹکا سکتا تھا۔

ایس ایچ او علی سید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مقتول کے حوالے سے ایک ایسے شخص نے بھی گواہی دی ہے جو مسجد عمر فاروق میں سہہ روزہ پر تھا۔

ایس ایچ او نے بتایا: ’مذکورہ شخص نے سہہ روزہ کے دوران سینیئر طالب علم قدرت اللہ کو بچے پر تشدد یعنی مار پیٹ کرتے دیکھا تھا۔ چونکہ وہ فارسی سمجھ سکتے تھے تو انہوں نے پولیس کو بتایا کہ قدرت اللہ نے بچے کو فارسی میں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس کو چھوڑے گا نہیں۔‘

ایس ایچ او نے بتایا کہ مقتول بچے کا پاکستان میں کوئی والی وارث نہیں ہے اور ان کا ایک ہی رشتہ دار یعنی ماموں زاد بھائی عبدالمالک ان کے ساتھ یہاں موجود تھا۔ یہ سب پاکستان کے مدارس میں دینی علوم حاصل کرنے آئے تھے۔

ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ اصل مجرم تک پہنچنے کے لیے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close