کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
اہم ترین خبریںلبنان

میں بہت پر امید ہوں کہ میں قدس میں نماز پڑھوں گا، سید حسن نصراللہ

کوئی بھی آئندہ ممکنہ جنگ اسرائیل کو یقینا زوال کی نوید سنائے گی

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) قائد مقاومت و حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میں بہت پر امید ہوں کہ میں قدس میں نماز پڑھوں گا۔

تفصیلات کے مطابق ایک سوال کے جواب میں کہ ’’کیا آپ قدس میں نماز پڑھیں گے، یا آپ کے بیٹے، یا آپ کے پوتے؟؟
(دوسرے لفظوں میں یہ وقت قریب ہے یا دور)

سید حسن نصر اللہ نے جواب میں کہا کہ سب سے پہلے یہ کہ عمر اللہ کے ہاتھ میں ہےلیکن اگر ابھی کے حالات پر نظر کریں اور علاقے میں ہونے والے حادثات اور واقعات پر غور وفکر ہو،
تو میرا اپنا خیال ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو بہت پر امید ہیں کہ وہ قدس میں نماز پڑھیں گے، میں بہت پر امید ہوں کہ میں قدس میں نماز پڑھوں گا۔

سید حسن نصراللہ نے حزب اللہ کی دفاعی قوت کے حوالے سے کہا کہ2006 کی جنگ میں ہم دفاعی قوت رکھتے تھے، آج ہمارے پاس حملہ کرنے کی طاقت ہے، اور ہمارے پاس ہر حوالے سے اسٹریٹجک اسلحہ موجود ہے۔

یہ دفاعی قوت اسرائیل کو ہمارے ساتھ جنگ کرنے سے روکتی ہے اس کو اسرائیل بھی جانتا ہے، اس لئے وہ حملہ کرنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچے گا۔

میزائل ٹیکنالوجی میں ہماری پیشرفت اور گائیڈڈ میزائل دشمن کے لئے پریشانی کا باعث ہیں۔ڈرون طیارے کافی تعداد میں موجود ہیں، اور اس کی تاثیر ناقابل انکار ہے۔ کئی قسم کے اسلحوں میں بڑی حد تک پیش رفت ہوئی ہے، کچھ چیزیں وقت پہ واضح ہوںگی۔

بری، بحری، اور فضائی حوالے سے محور مقاومت نے ترقی کی ہے، نوعیت کے حوالے سے بھی اور تعداد کے اعتبار سے بھی، ٹریننگ کے اعتبار سے بھی اور مدد خدا پر یقین اور ایمان کے حوالے سے بھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جس جگہ پر اسرائیل کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، اور جو زخم مندمل نہیں ہو سکتا وہ یہ کہ ان کا اعتماد ختم ہوچکا، اور روحی اعتبار سے ان کو کاری زخم لگا ہے، جس کا علاج کرنا آسان نہیں۔

اس زخم کے علاج کے لئے آج تک اسرائیل نے جو کچھ بھی کیا ہے، وہ ناکام ہوا ہے، اس میں غزہ کی جنگ میں حماس کی مقاومت بھی شامل ہے، وہ چیز جس کو اسرائیل کبھی درست نہیں کرسکتا وہ اس کا داخلی طور پر تفرق اور ضعف ہے۔

اسرائیل کا یہ کہنا کہ ہم آئندہ ممکنہ جنگ میں لبنان کو پتھر کے دور میں لے جائیں گے، تو ہم جوابا کہیں گے کہ مقبوضہ شمالی اسرائیل ہمارے میزائلوں کی زد میں ہے اور ہر ٹارگٹ کےبارے میں ساری معلومات موجود ہیں۔
ساحلی پٹی نتانیا سے لے کر اشدود تک اگرچہ بڑی تعداد میں غاصب صہیونی سویلین آبادی ہےلیکن اس غاصب وجود کے سب سے بڑے اور اہم مراکز یہاں ہیں۔اس پٹی پر اہم صنعتیں، غیر تقلیدی اسلحہ، ایٹمی ری ایکٹر، دو بندرگاہیں، اہم تر تجارتی مراکز، سٹاک ایکسچینج، بجلی گھر اور گیس کے اہم مراکز موجود ہیں۔

اگر محور مقاومت کے پاس اتنے میزائل موجود ہیں جو ان تمام جگہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، تو کیا اسرئیل کا غاصب وجود یہ برداشت کرے گا۔

اب بتائیں کہ یہاں کون کس کو پتھر کے دور میں لے جائے گا؟

سید حسن نے متنبہ کیا کہ کوئی بھی آئندہ ممکنہ جنگ اسرائیل کو یقینا زوال کی نوید سنائے گی، ہمیں آئندہ ممکنہ جنگ میں کامیابی کا ہر حوالے سے یقین ہے۔

صدی کی ڈیل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ نے کہا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو یقین ہے کہ صدی کی ڈیل ناکام ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ ایسے اسباب ہیں جو اس ڈیل کو اندر سے ختم کردیں گے اور اسے اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہونے دیں گے اوراسکی ناکامی کا سب سے بڑا سبب قدس کا مسئلہ ہے، اگرچہ باقی امور بھی مہم ہیں۔

صدی کی ڈیل کی ناکامی کے اسباب میں سے فلسطینیوں کا اس حوالے سے باہمی اتحاد ہے۔

سید مقاومت کا کہنا تھا کہ شامی حکومت مستحکم تر ہوتی جا رہی ہے۔ اور اس کا قبضہ قوی تر ہوتا جارہا ہے۔

فرات کے شرقی علاقہ کا مسئلہ اٹکا ہوا ہے۔ اور بنیادی مسئلہ ادلب شہر ہے، ان تمام مسائل پر کام جاری ہے، البتہ اب پیچھے جانے کا کوئی امکان نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آج تک شام میں ان تمام جگہوں پر موجود ہیں جہاں پہلے دن سے ہیں البتہ تعداد میں کمی کی ہے کیونکہ ضرورت نہیں۔ اس کا تعلق ایران پر پاندیوں سے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے شام میں عسکری پوسٹوں پر جتنی بھی فضائی بمباری کی ہے سب بے سود رہی۔

ایران امریکہ جنگ کے حوالے ان کا کہنا تھا کہ ایران کبھی جنگ شروع نہیں کرے گا، اور میرے خیال میں شاید امریکہ بھی اس کی ابتداء نہ کرے۔
امریکہ میں جو جہت سب سے زیادہ جنگ نہیں چاہتی وہ پینٹاگون ہے لیکن امریکہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو امریکہ کو جنگ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

امریکہ جانتا ہے کہ جنگ انتہائی نقصان دہ ہے۔تیسری ممکنہ چیز تدریجاً جنگ کی طرف جانا ہے کہ یہاں سے حملہ ہو، وہاں سے حملہ ہو، لیکن دونوں اطراف یہ چاہیں گے کہ جنگ کی طرف نہ جایا جائے۔

ایران نے ایک ملک کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اگر ایران کی کسی بھی جگہ پر بمباری ہوئی تو ہم امریکی اہداف کو نشان بنائیں گے، اس لئے حملہ روک دیا گیا۔

ابھی تک جنگ کا ماحول قائم ہے۔ ہم سب کی ذمداری ہے کہ اس جنگ کو روکیں۔

مذاکرات کے حوالے سے سید حسن کا کہنا تھا کہ ایران کبھی بھی براہ راست امریکہ سے مذاکرات نہیں کرے گالیکن وہ ہر اس ثالثی کے حامی ہیں جو ایرانی مفاد میں ہو۔

ایران کبھی بھی پابندیوں کی وجہ سے نہیں جھکے گا،یہ پابندیاں ایران کو اندر سے مضبوط کریں گی۔

ایران ہمیشہ سعودیہ عرب سے مذاکرات کا حامی ہے جبکہ سعودی عرب کی طرف سے جواب ہمیشہمنفی رہا اور مزید سازشیں کی گئیں،ایران ہر قسم کے ڈائیلاگ اور مذاکرات کا حامی ہے۔

سید حسن نے متنبہ کیا کہ یہ بات سب جان لیں کہ اگر امریکی ایرانی جنگ ہوئی تو سب علاقہ تباہ وبرباد ہو جائے گا۔آل سعود کو جان لینا چاہیئے کہ وہ ایرانی دشمنی کو ایک جانب رکھیں کیونکہ یہ جنگ پورے علاقے کو جلا کر رکھ دے گی۔

اگر جنگ ہوئی تو کون اسرائیل کو بچائے گا، جو سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائے گا وہ ایران ہے۔اسرائیل کو جان لینا چاہیئے کہ وہ اس جنگ میں امن و امان سے نہیں رہے گا۔

جب امریکہ کو پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا اور تباہ اور برباد کیا جائے گا تو پھر اسے سوچنا پڑتا ہے۔ایران کے خلاف جنگ کا اعلان پورے علاقے کے خلاف جنگ کا اعلان ہے۔

امریکہ کو یہ بات اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ جنگ کی صورت میں ہر امریکی ہدف کو نشانہ بنایا جائے گا، اور اسرائیل اس جنگ کی آگ کی لپیٹ میں ہوگا۔

ٹرمپ کے پیغام کے بدلے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کا رد عمل ایک آبرو مندانہ اقدام تھا جس میںشجاعت بھی ہے اور حکمت بھی، اور اس وقت کہ جہاں ٹرامپ سب سے پیسے لیتا ہے، ڈکٹیٹ کرتا ہے، وہاں اس کو اس بات کی حسرت رہی کہ ایرانی اسے ایک فون کریں، ایرانی مذاکرات کی پیشکش قبول کریں۔

ٹرامپ کی یہ کوشش ہے کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ روابط کا دروازہ کھولے۔

انصاراللہ کے بارے میں سید حسن نے کہا کہ انصار اللہ اور یمنی قیادت کاہدف ان پر مسلط شدہ جنگ روکنا ہے۔ اور وہ بالتدریج اس طرف جا رہے ہیں، وہ سعودی عرب میں ائیر پورٹس کو نشانہ بنا سکتے ہیں
امارات کے سینئیر اہلکار کے مطابق امارات یمن کے دلدل سے نکلنا چاہتا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close