اہم ترین خبریںپاکستان

غذائی اجناس سے پٹرولیم مصنوعات تک عوامی پہنچ سے باہر، بھاری یوٹیلٹی بلز نے عوام کی کمر توڑ دی،علامہ ساجدنقوی

، ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ مستقل بنیادوں پر عوام دوست پالیسیا ں مرتب کریں تاکہ ایسی صورتحال معاشرے کو انارکی کی طرف نہ دھکیل دے۔

شیعت نیوز: سربراہ شیعہ علماءکونسل پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ غذائی اجناس کی صورتحال یہ ہے کہ اچانک ٹماٹر عوام کی پہنچ سے دور ہوا تو آٹے کے بحران کا عوام کو سامنا کرنا پڑ ا اور اب آٹے کے بعد چینی کا بحران سر اٹھا رہاہے، پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے ساتھ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ اضافے کے بعد خود حکومتی ادارہ شماریات یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ صرف ایک ہفتے میں 22فیصد سے زائد مہنگائی ریکارڈ کی گئی۔

حکومت نے معیشت درست کرنے کے دعوے کرتے ہوئے کہاکہ دوست ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی مذاکرات کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہتر ہوئے ،اینٹی کرپشن مہم کے ذریعے احتساب کا عمل بھی شروع ہوا ، اسٹیٹ بینک سے لے کر ایف بی آر تک اصلاحات کا عمل اور تاجروں، صنعت کاروں کےساتھ مذاکرات اور ٹیکسیشن کی سمت بھی درست کی اور اسٹیٹ بینک میں عدم مداخلت کا اعلان کرکے روپے کی قدر مستحکم کرنے بارے خود مختار پالیسی کا بھی اعلان ہوا مگردوسری طرف عوام کے مسائل جوں کے توں، دوائیں مہنگی، غذائی اجناس ہوں یا پٹرولیم مصنوعات ، گیس اور بجلی کی صورتحال ہو یا آٹا چینی کے بھاؤ، عام آدمی نہ صرف پریشان حال بلکہ تشویش میں مبتلا ہوچکاہے، عوامی مسائل کے حل کی کوئی پالیسی اب تک سامنے آئی نہ ہی حکومت کی جانب سے اس کیلئے کوئی ٹھوس اقدام ہوا ۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ پر واضح کردیا کہ ایران کے ساتھ جنگ پورے خطے کیلئے تباہی کا سبب ہوگی،عمران خان

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ معاشی پالیسی کے ہمیشہ دوپہلو یا فیز ہوتے ہیں ، ایک پہلو ادارہ جاتی اصلاحات، معاشی اشاریوں کی درستگی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، کرنسی کی قدر کو مستحکم کرنا اور ٹیکسیشن کی سمت کو درست کرنا ہوتاہے۔ موجودہ حکومت نے آتے ہی بنیادی تبدیلیوں کا اعلان کیا، حکومت کی جانب سے دعویٰ کیاگیا کہ دوست ممالک، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات اور اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے اقدامات کے بعد زر مبادلہ کے ذخائر بہتر ہوگئے، اینٹی کرپشن مہم کے ذریعے احتساب کا عمل شروع کرکے کرپشن کی روک تھام کی گئی، اسٹیٹ بینک سے لے کر ایف بی آر تک ادارہ جاتی اصلاحات کا نہ صرف عمل مکمل کیا بلکہ تاجروں، صنعت کاروں کےساتھ مذاکرات، ٹیکسیشن کی سمت بھی درست کی، اسٹیٹ بینک کو خود مختارکرتے ہوئے ر وپے کی قدر مصنوعی کی بجائے حقیقی بنیادوں پر مستحکم کی ۔کہا جارہا ہے کہ بین الاقوامی معاشی اداروں اور سروے ان اصلاحات کے معترف ہیں کہ پاکستان کی معیشت درست سمت پر گامزن ہوچکی ۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی حکومت ناتجربہ کاری کی بھینٹ چڑھتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے، علامہ باقرعباس زیدی

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ دوسرا پہلو یا تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ حکومت کی ان معاشی اصلاحات کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچا،بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے برسوں سے بند پڑے کاروبار کا پہیہ روا ں نہیں ہوا۔ مہنگائی کنٹرول نہیں ہوئی ،صورتحال یہ ہے کہ ادویات کی قیمتیں 100فیصد بڑھ گئی جبکہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ،غذائی اجناس کی صورتحال یہ ہے کہ اچانک ٹماٹر عوام کی پہنچ سے دور ہوا تو آٹے کے بحران کا عوام کو سامنا کرنا پڑ ا اور اب آٹے کے بعد چینی کا بحران سر اٹھا رہاہے، پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے ساتھ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ اضافے کے بعد خود حکومتی ادارہ شماریات یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ صرف ایک ہفتے میں 22فیصد سے زائد مہنگائی ریکارڈ کی گئی، بے روزگاری ہر دن کےساتھ بڑھ رہی ہے جبکہ چھوٹے کاروبار اور کارخانے تقریباً بند ہوچکے ہیں، ایسی صورتحال میں عوام کرب کاشکار ہیں ۔ملک میں ریڑھ کی ہڈی متوسط طبقہ کو سفید پوشی برقرار رکھنا مشکل تو دوسری جانب خط غربت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ مستقل بنیادوں پر عوام دوست پالیسیا ں مرتب کریں تاکہ ایسی صورتحال معاشرے کو انارکی کی طرف نہ دھکیل دے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close