اہم ترین خبریںپاکستان

محرم الحرام ، سکیورٹی کے نام پررکاوٹیں، شہریوں کو تنگ کرنا ملت جعفریہ کا مطالبہ نہیں 

واضح رہے کہ دہشت گردی کے خطرات اور ماضی کے سانحات عزاداری کے اجتماعات کے تحفظ کا تقاضہ ضرور کرتے ہیں لیکن سکیورٹی کے نام پر شہریوں کی مشکلات میں اضافے کا نہیں

شیعیت نیوز: محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی سکیورٹی اداروں کی جانب سے ملک بھرمیں مجالس وجلوس عزاکے روٹس پر سکیورٹی کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کرکے شہریوں کی مشکلات میں اضافے کی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں ، قناتیں اور کنٹینرز لگا کر نا فقط اہل سنت عوام بلکہ خود اہل تشیع شرکاءمجالس وجلوس کو بھی شدید اذیت اور ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔محرم الحرام میں سکیورٹی کے نام پر شہریوں کو تنگ کرنا ملت جعفریہ کا مطالبہ نہیں بلکہ یہ انتظامی نااہلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق محرم الحرام میں مجالس وجلوس ہائے عزا کی سکیورٹی کے نام پر روٹس کو کئی کئی دن اور کئی کئی گھنٹوں قبل رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردینے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ دیکھنے میں آتاہے ،مریضوں کو بروقت اسپتالوں پہنچنے میں شدید دشواری سامنا کرنا پڑتا ہے، ملک بھرمیں قانون نافذ کرنے والےادارے قناتوں اور کنٹینرز کے ذریعے گلیاں اور سڑکیں بلاک کرکے نا فقط عوام شہریوں بلکہ خود عزاداران حسینی ؑ کو بھی شدید تکلیف اور اذیت میں مبتلا کرتے ہیں ۔جنہیں اپنی منزل مقصودتک پہنچنے میں ویسے ہی دشواری ہوتی ہے جیسے ایک عام شہری کو۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کی یزید گردی، عزاداروں کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج شروع

واضح رہے کہ دہشت گردی کے خطرات اور ماضی کے سانحات عزاداری کے اجتماعات کے تحفظ کا تقاضہ ضرور کرتے ہیں لیکن سکیورٹی کے نام پر شہریوں کی مشکلات میں اضافے کا نہیں ، یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ملت جعفریہ نے کبھی بھی سکیورٹی کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کرنے یا بازار اور مارکیٹیں بند کروانے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان اقدامات سے عام شہریوں پر یہ تاثر جاتا ہے کہ شاید یہ تمام اقدامات شیعہ مکتب فکر کی ایماءپر ہورہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: عزاداری میں رکاوٹ تحریک انصاف کی بدنامی کا باعث ہے،علامہ عارف واحدی

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شہریوں کی مشکلات کے پیش نظر ایسی حکمت عملی بنانی چاہئے جس سے عزاداری کے اجتماعات کا تحفظ بھی یقینی بنایاجاسکے اور عام شہریوں کو اذیت کاسامنا بھی نا کرنا پڑے، قانون نافذ کرنے والے ادارے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے انٹیلی جنس بنیادوں پر سکیورٹی کے نظام کو بہتر بنائیں اور کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نپٹنےکیلئے اداروں کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دیں ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close