اہم ترین خبریںپاکستان

اہل تشیع کے بعد اہل سنت کی جانب سے بھی یزید لعین کےوکیل مفتی منیب الرحمٰن کے استعفیٰ کا مطالبہ سامنے آگیا

میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں پیر سید محفوظ مشہدی نے کہاکہ مفتی منیب الرحمٰن سیاسی ودینی معاملات میں متنازع ہوچکے ہیں

شیعیت نیوز: شیعہ علماءکونسل کے رہنماعلامہ سبطین سبزواری، مرکزی رویت ہلال کمیٹی سندھ کے رکن علامہ ارشاد حسین نقوی اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی پنجاب کے رکن علامہ محمد حسین اکبر کے بعد اب نامور اہل سنت عالم دین اور جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما پیر سید محمد محفوظ مشہدی نے بھی یزید کے وکیل اور فرقہ وارانہ تعصب کے حامل مفتی منیب الرحمٰن کی رویت ہلال کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیاہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملہوالی اٹک میں تکفیری دہشتگردوں نے شبیہ علم حضرت عباس ؑ کو نذرآتش کردیا

میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں پیر سید محفوظ مشہدی نے کہاکہ مفتی منیب الرحمٰن سیاسی ودینی معاملات میں متنازع ہوچکے ہیں۔انہیں رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ہٹا کر کسی قابل اعتماد، صاحب علم ،غیر جانبداراور تمام مکاتب اسلامیہ کے لئے قابل قبول عالم دین کو تعینات کیاجائے۔

یہ بھی پڑھیں: ناروے میں مقیم پاکستانی نژاد شیعہ سنی علماء کا حکومت پاکستان سے فرقہ وارانہ منافرت کی فوری روک تھام کا مطالبہ

پیر محفوظ مشہدی نے کہاکہ مفتی منیب الرحمٰن کو بحیثیت چیئرمین رویت ہلال کمیٹی منصب سے ہٹاکر کسی غیر متنازعہ شخصیت کو چیئرمین لگایا جائے، واضح رہے کہ مفتی منیب الرحمٰن جو کہ بظاہر بریلوی مکتب فکر سےتعلق رکھتے ہیں درحقیقت وہ ایک ناصبی اہل سنت ہیں جو یزید کو قاتل اما م حسین ؑ قرا ر نہیں دیتے ۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ کا اسلام آباد میں شیعہ مخالف جلسہ،مقدمے میں انسداددہشتگردی کی دفعات شامل کرنے کی درخواست

دوسری جانب حالیہ دنوں سعودی اور بھارتی ایماء پر ملک میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے اور ملک بھرمیں شیعہ مکتب فکر کے خلاف محاذ آرائی سمیت ، نفرت انگیز مہم چلانے میں بھی مفتی منیب الرحمٰن کا مرکزی کردار رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close