اہم ترین خبریںپاکستان

مفتی منیب کا غیر منصفانہ موقف ،علامہ ساجد نقوی اورایم ڈبلیوایم کو دھمکیاں

کم سے کم ایک مفتی کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے اور مفتی منیب صاحب آپ خود اہل بیت ع کی اس افضل حیثیت کا اعلانیہ انکار کرچکے ہیں

شیعیت نیوز: رویت ھلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے علامہ ساجد نقوی ، علامہ قاضی نیاز حسین نقوی اور مجلس وحدت مسلمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں متنبہ کرتے ہیں۔ منصفانہ موقف یہ ہوتا کہ وہ آئین مخالف متنازعہ تحفظ بنیاد اسلام بل جو دراصل توھین اھلبیت بل ہے کو مسترد کرتے۔

جب بل ہی اس فورم پر نہیں آیا جہاں جانے کا مشورہ وہ شیعہ اسلامی قائدین کو دے رہے ہیں تو منصفانہ پرامن ردعمل کرنے والوں کو دھمکی کیوں دے رہے ہیںاور اس آئین مخالف متنازعہ بل پر پریس کانفرنس سےخطاب کرکے خود کیوں عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔حتی کہ انہوں نے اس بل کا مکمل متن تو خود بھی نہیں پڑھا تو تبصرے کی ایسی کیا جلدی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: رضویہ امام بارگاہ کو بم سے شہید کرنے کا منصوبہ ناکام، لشکر جھنگوی کے دہشتگرد گرفتار

مفتی منیب نے دھمکی دی کہ علامہ ساجد نقوی اور مجلس وحدت مسلمین کے قائدین حالات کو کنڑول کریں ورنہ ہم اکثریت ہیں اور ہم کو مشتعل کرنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ یعنی اکثریت کے زعم میں وہ پاکستان کے شیعہ شہریوں پر اپنے باطل نظریات مسلط کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیز باتیں کی جارہی ہیں۔

بعض داخلی و خارجی قوتیں ملک کو فرقہ واریت کی جانب دھکیل رہی ہیں قومی سلامتی کے ادارے صورتحال کا ادراک کریں۔ غفلت برتی گئی تو ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔مفتی منیب نے مزید کہا کہ انبیاء کرام، امہات المومینین، اہلبیت، صحابہ کرام کا اعلانیہ انکار کسی صورت قبول نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں فرقہ واریت و افواج پاکستان سے نفرت سعودی عرب سے پھیلائے جانے کا ایک اور ثبوت سامنے آگیا

واضح رہے کہ مفتی منیب نے جھوٹے الزامات لگائے. شیعہ عقائد میں دین اسلام کے یہ پانچ بنیادی اصول ہیں توحید عدل نبوت امامت قیامت. امامت سے مراد بعد از ختم نبوت خاتم الانبیاء حضرت محمد ص حضرت علی ع امت کے پیشوا ہیں یعنی امام. اور اسی شیعہ عقیدے کے خلاف یہ متنازعہ بل پیش کیا گیا اسی لیے شیعہ علماء نے منصفانہ پرامن ردعمل ظاہر کیا. امیر المومنین امام علی ع بی بی فاطمہ زہرا س اور امام حسن اور امام حسین علیہ السلام کو حضرت محمدمصطفی ص کے بعد سب سے افضل ماننے کا عقیدہ علامہ اقبال کا بھی ہے اور یہی شیعہ عقیدہ بھی ہے. کم سے کم ایک مفتی کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے اور مفتی منیب صاحب آپ خود اہل بیت ع کی اس افضل حیثیت کا اعلانیہ انکار کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سربراہ سنی تحریک کی توہین اہل بیتؑ بل کی حمایت،محرم میں حالات خراب کرانے کی دھمکی

ایسا لگتا ہے کہ مفتی منیب خود دشمنوں کی زبان بول کر ملک میں امن و امان خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں. دشمنوں کی سازش ناکام بنانے کے لیے علامہ اقبال کی طرح مولا علی ع اور بی بی فاطمہ اور امام حسن و حسین ع کو بعد از ختم نبوت سب سے افضل ماننا نظریہ پاکستان کے عین مطابق ہے۔ جس اکثریت کی آپ بات کررہے ہیں انکے سامنے اپنا اصل عقیدہ بتائیں کہ آپ اہلبیت علیہم السلام یعنی بی بی فاطمہ مولاعلی اور امام حسن اما حسین کو صحابیوں سے کم تر مانتے ہیں. خود ہی اصلی سنی بتادیں گے کہ آپکا اپنا عقیدہ سنی نہیں ہے۔

مفتی منیب صاحب کو بھی اسی فورم پر بات کرنا چاہیے جسکا مشورہ شیعہ اسلامی قائدین کو دیا ہے اور مفتی منیب صاحب خود ہی اپنی باتوں پر توجہ دے کر اس ایشو پرعوام کے سامنے اشتعال انگیز باتیں نہ کریں۔یعنی جو تنبیہ دوسروں کو کی سب سے پہلے خود اس پر عمل کریں اور اپنے لب و لہجے کو خاتم الانبیاء ص کے حقیقی امتی جیسا کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close