اہم ترین خبریںپاکستان

رویت ہلال کمیٹی سےچھٹی ،مفتی منیب الرحمٰن حکومت کےخلاف فرقہ وارانہ کارڈ لیکر میدان میں آگئے

حکومت پر الزام عائد کیا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ اس فسادی تحریک کے پیچھے نہ صرف بین الاقوامی قوتیں ہیں ، بلکہ حکومت کی صفوں میں موجود عناصر بھی ہیں

شیعیت نیوز: فواد چوہدری کے ہاتھوںرویت ہلال کمیٹی سےچھٹی ،مفتی منیب الرحمٰن حکومت کےخلاف فرقہ وارانہ کارڈ لیکر میدان میں آگئے،ملک میں جاری حالیہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی ترویج میں مفتی منیب کا اہم کردار،مسلسل وفاقی حکومت میں شیعہ وزراءکے خلاف زہرافشانی،مفتی منیب کا بھی اصل مسئلہ ایمان نہیں پیٹ ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج دارالعلوم امجدیہ میں مفتی منیب الرحمٰن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ اس فسادی تحریک کے پیچھے نہ صرف بین الاقوامی قوتیں ہیں ، بلکہ حکومت کی صفوں میں موجود عناصر بھی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈالا جارہا اور انہیں تحفظ فراہم کیا جارہا ہے ۔ اہلسنت وجماعت اس ملک کی غالب اکثریت ہیں ،

یہ بھی پڑھیں: مولوی برقعہ پوش کیخلاف اسلام آباد میں جلوس حملے پر ایف آئی آر کی درخواست، اسلام آباد پولیس تذبذب کا شکار

انہوں نےکہاکہ ایف آئی آر کوئی تعویذ نہیں ہے کہ گلے میں لٹکاکر ردِّبلا کا کام دے گا، اصل مسئلہ مجرمین کے خلاف قانونی کارروائی ہے ۔ مزید یہ کہ کچھ قوتیں اہلسنّت کے بے قصور علماء پر ایف آئی آر کاٹنے کی دھمکی دے رہی ہیں، کیا اہلسنّت کے علماء نے کسی کے مقدّسات پر یا عقائد پر حملہ کیا ہے ، کسی جلسۂ عام میں فرقہ واریت اور انتشار کی باتیں کی ہیں ، کیا تحریکِ انصاف کا یہ معیارِ انصاف ہے کہ بے قصور اور قصور وار کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا جائے ، کیا اس سے ملک کی غالب اکثریت کو مشتعل کرنا مقصود ہے۔ اہلسنّت پرامن تھے اور پرامن رہیں گے ، اس ملک کی سلامتی ہمیں کسی اور سے زیادہ عزیز ہے ، لیکن بنیادی عقائد اور دینی مسلّمات پر سودے بازی نہیں ہوسکتی ۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، کالعدم سپاہ صحابہ ،لال مسجد اورتحریک لبیک کے دہشت گردبےلگام ، جلوس نواسہ رسولؐ پر حملہ

انہوں نے قبول کیاکہ عقائد توصدیوں سے چلے آرہے ہیں ، لیکن پاکستان کی تہتّر سالہ تاریخ میں عوامی جلسوں اور اجتماعات میں اشتعال انگیز باتیں نہیں ہوئیں اور اہلسنّت نے دوسروں کے معمولات میں کوئی دخل اندازی نہیں کی، یہ سب کچھ 74ویں سال میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت میں پہلی بار ہوا ہے ، کاش کہ ایسا نہ ہوتا، ہمیں بلاوجہ سڑکوں پر آنے کا شوق نہیں ہے، لیکن ریاست وحکومت کے تمام عناصر اور مقتدر حلقوں کو یہ ذہن نشین کرنا چاہیے کہ یکطرفہ جبر کے نتائج ملک وملّت کے لیے مفید نہیں ہوں گے۔لوگوں کو اُن سب عناصر کا پتا ہے جو ریاست میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہوکر نفرت انگیزی کی پشت پناہی کر رہے ہیں ، وزیرِ اعظم اپنے گِردوپیش کا جائزہ لیں تو انہیں پتا چل جائے گا۔ اہلسنّت کی خبروں کا بلیک آئوٹ کرنے کے لیے میڈیا کو باقاعدہ ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور اہلسنّت کے عقائد کے خلاف توہین آمیز باتیں ڈائریکٹ میڈیا پر نشر ہوتی ہیں ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close