اہم ترین خبریںپاکستان

مفتی یامین عبد اللہ پر حملہ،معاملہ سعودی خفیہ امدادی رقم کی تقسیم پر جھگڑا تھا جسے اورنگزیب فاروقی نے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ناکام کوشش کی

دوسری جانب موقع پرست کالعدم سپاہ صحابہ کے سرغنہ اورنگزیب فاروقی نے اس واقعے کو بھی فرقہ وارانہ کاروائی قرار دیکر ملزمان اور مذکورہ سابق ایس ایچ جمشید کوارٹرز ظفر اقبال مہمند کو شیعہ قرار دینے کی ناکام کوشش کی مگر تحقیقاتی رپورٹس نے اورنگزیب فاروقی کی تمام سازشوں پر پانی پھیر دیا۔

شیعیت نیوز: جامعہ مسجد سبحانیہ جمشید کوارٹر روڈ کے امام و خطیب مفتی عبداللہ یامین پر قاتلا نہ حملہ کرنے والے ملزم سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے سرغنہ اورنگزیب فاروقی کی جانب سے حملے کو ٹارگٹ کلنگ کی کاروائی قرار دینے اور الزام شیعہ مسلک پر ڈالنے کی سازش ایک بار پھر ناکام ہوگئی۔ دیوبند مسلک سے ہی تعلق رکھنے والےسابق ایس ایچ او جمشید کوارٹرزظفر اقبال مہمند کو شیعہ قرار دینے کا بھانڈا بھی پھوٹ گیا، ملزم نے اپنے دوسرے ساتھی کا نام اور ایڈریس بھی بتا دیا ہے جس کی تلاش میں قانون نافذ کرنے والے ادارے چھاپے مار رہے ہیں لیکن تاحال اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔معاملہ پیسوں کی لین دین پر مبنی ہے ، ذرائع کے مطابق سعودی عرب سے فرقہ وارانہ منافرت کیلئے بھیجے گئے فنڈز کی تقسیم پر اختلاف مفتی یامین عبد اللہ پر حملے کا سبب بنا ۔

ملزم مدثر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ اسے نہیں معلوم کہ وہ کس پر حملہ کر رہے ہیں تاہم یہ ضرور بتایا گیا تھا کہ وہابی مولوی ہے اس کو ختم کرنا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ایک اور ساتھی کو شامل کیا گیا تھا جس کی نشاندہی بھی کردی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ملزم مدثر ماضی میں 3 سال جیل کاٹ چکا ہے اور یہ لیاری گینگ وار سے بھی منسلک رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم مدثر جو میمن برادری کی گھانچی سب کاسٹ سے ہےاور اس کا تعلق بھی دیوبندی گھرانے سے ہے، اس کے پاس جو اینڈرائڈ موبائل فون تھا، اس فون پر آخری کال 4 بج کر 51 منٹ پر 03452776277 سے آئی تھی۔ مذکورہ نمبر راحیل نامی شخص کا ہے، جو MOBI GO کے نام سے آسان اقساط پر موبائل فون مہیا کرنے کا کام کرتا ہے۔ 4 بجکر 33 منٹ پر حملہ آور نے ایک پی ٹی سی ایل نمبر 02136589621 پر کال کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں سینکڑوں شیعہ مسلمانوں کی جبری گمشدگی، پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کی سازش کا انکشاف

جبکہ 4 بج کر 29 منٹ پر اس نے سابق ایس ایچ او جمشید کوارٹرزظفر اقبال مہمند عرف بجولہ کے موبائل نمر 03009222254 کو کال کی تھی۔ مذکورہ نمبر سابق ایس ایچ او جمشید ظفر اقبال کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ اس کے علاوہ بھی ظفر اقبال کے نام پر 03229222254، 03429222254 اور 03339222254 موجود ہیں۔ مذکورہ ایس ایچ او کا تعلق ہائوس نمبر D-28 ، عید گاہ پولیس لائن پشاور اور کراچی میں ٹھٹھہ بس اسٹاپ، لی مارکیٹ، بلاک G-13 اور نیپئر پولیس کوارٹرز کا ہے۔ سابق ایس ایچ او جمشید ظفر اقبال مہنمد عرف بجولہ نے مذکورہ حملہ آور کو 03340327154 کے نمبر سے 4 بج کر 6 منٹ پر کام کی تھی جس کے بعد حملہ آور نے 23 منٹ بعد واپس ظفر اقبال کو کال کی تھی۔

حملہ آور کے موبائل میں ظفر اقبال ایس ایچ او کے نام سے محفوظ ایک اور موبائل نمبر 03340327154 نمبر علی احمد نامی شخص کے شناخی کارڈ نمبر 5440173229281 پر رجسٹرڈ ہے ۔ ریکارڈ کے مطابق مذکورہ شناختی کارڈ نمبر کوئٹہ قلعی بنگلہ زئی سہراب روڈ کا رہائشی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او ممکنہ طور پر ملزم کو گینگ وار کی وجہ سے جانتا تھا، پولیس کے لئے مخبری کا کام بھی کرتا تھا، ملزم دوران تفتیش اپنے بیانات بھی بدل رہا ہے جبکہ اس نے واردات کو دکیٹی کا رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ شب نماز عشا کے بعد مفتی عبداللہ یامین پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے، اور اس وقت زیرِ علاج ہیں۔ ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے، ان کا سرکاری اسپتال میں آنتوں کا آپریشن ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کی تحریک کا اصل ہدف عمران خان سے اسرائیل کو تسلیم کروانا ہے، مبشرلقمان اور طاہر اشرفی کا انکشاف

علم میں رہے کہ مفتی عبداللہ بن یامین دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں، جن کی عمر 47 برس ہے اور جامعہ مسجد سبحانیہ جمشید کورارٹر میں امام و خطیب ہیں۔مولانا مفتی عبداللہ جیل چورنگی پر واقع مدرسہ اویس قرنی کے استاد حدیث بھی ہیں، ان کا اپنا بھی ایک مدرسہ سہراب گوٹھ لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ قائم ہے۔ وہ نماز کی ادائیگی کے بعد درس قرآن دینے کے بعد اپنے بیٹے ابراہیم کے ہمراہ گھر جارہے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار مسلحہ ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی تھی جس کی وجہ سے وہ زمین پر گر گئے تھے۔

جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مفتی یامین عبد اللہ پر حملہ ذاتی لین دین کا سبب ہے۔ ملزم مدثر نے اپنے قریبی رشتے دار کےکہنے پر مفتی یامین عبد اللہ پر حملہ کیا جس کی بھاری رقم مفتی یامین عبداللہ پر واجب الاداتھی، ذرائع کاکہنا ہے کہ حالیہ دنوں کراچی میں فرقہ وارانہ منافرت کے لئے تقسیم کی گئی سعودی ، امریکی واماراتی امداد کا بھاری حصہ مفتی یامین عبد اللہ نے قبضہ کرلیا تھااور با ربار کے تقاضے کے باوجود رقم دینے سے انکاری تھے اس بناء پر دیگر حصہ داروں نے مدثر کے ذریعے مفتی یامین عبد اللہ پر حملہ کرواکر انہیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کی ۔

دوسری جانب موقع پرست کالعدم سپاہ صحابہ کے سرغنہ اورنگزیب فاروقی نے اس واقعے کو بھی فرقہ وارانہ کاروائی قرار دیکر ملزمان اور مذکورہ سابق ایس ایچ جمشید کوارٹرز ظفر اقبال مہمند کو شیعہ قرار دینے کی ناکام کوشش کی مگر تحقیقاتی رپورٹس نے اورنگزیب فاروقی کی تمام سازشوں پر پانی پھیر دیا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close