سعودی عرب

محمد بن سلمان کی یمن سے شکست کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش

چین نے بھی سعودی عرب کے ایران پر الزام تراشی کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے

شیعت نیوز :سعودی عرب کو گذشتہ 4 سال سے یمن کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کی مدد کے باوجود یمن سے شکست نے سعودی عرب کی جنگی صلاحیتوں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اسے دنیا بھر میں رسوا کر دیا ہے۔

اپنی شکست کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش میں محمد بن سلمان نے عالمی برادری سے ایک ایسے اسلامی ملک ایران کے خلاف متحد ہو کر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو روز اول سے ان الزامات کی تردید کرتا آ رہا ہے۔

حتی کہ چین نے بھی سعودی عرب کے ایران پر الزام تراشی کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامع تحقیقات کے بنا کسی بھی ملک پر الزام لگانا مناسب نہیں۔

اس زمرے میں سب سے مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ ان حملوں کی زمہ داری نہ صرف یمن قبول کر چکا ہے بلکہ مستقبل میں مزید حملوں کا عندیہ بھی دے چکا ہے لیکن سعودی عرب کو نہ تو یمن کا بیان قبول ہے اور نہ ہی ایران کی تردید۔ سعودی عرب اور امریکا بضد ہیں کہ ان حملوں میں ایران ہی ملوث ہے۔

محمد بن سلمان نے بیان دیا ہے کہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورا خطہ اورعالمی امن ایران کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہے۔

واضح رہے 14ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے دو پلانٹس پر ڈرون حملوں ہوئے تھے۔

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں اور اس کے نتیجے میں تیل کی پیداوار میں کی جانے والی کمی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 19.5فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ ہوگیا تھا۔اس ضمن میں سعودی عرب کی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایران کو حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ تیل تنصیبات پر حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیے گئے تاہم چند گھنٹے بعد ہی سعودی عرب نے اس معاملے کی تحقیقات عالمی سطح پر کروانے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ یمن نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ایران مسلسل ان الزامات کی تردید کر رہا ہے پھر بھی امریکا اور سعودی عرب بضد ہیں کہ یہ حملوں میں ایران ملوث ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close