اہم ترین خبریںدنیا

مقبوضہ وادی پر بھارتی آئینی تسلط کا آغاز، کشمیری اپنے پرچم اور آئین سے بھی محروم

شیعت نیوز : بھارت کی جانب سے کشمیر میں عوامی غم و غصے کے باوجود مقبوضہ وادی پر براہِ راست وفاقی حکومت کی حکمرانی کا آغاز 31 اکتوبر سے ہوگیا، جس کے بعد متنازع علاقہ اپنے پرچم اور آئین سے بھی محروم ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی رکنِ پارلیمنٹ اور ریٹائرڈ کشمیری جج حسنین مسعودی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں’’جمعرات کو ہر چیز تبدیل ہوگئی، ایک ریاست سے ہم ایک قصبے میں بدل گئے ہیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں : سرینگر، مقبوضہ کشمیرمیں میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی کے خلاف صحافی انجمنوں کا احتجاج

خیال رہے کہ 5 اگست کو بھارتی پارلیمان نے مقبوضہ کشمیر کو 2 وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی تھی۔

مذکورہ فیصلے پر عملدرآمد کے پیشِ نظر وادی میں جمعرات کو کسی قسم کا بھارت مخالف احتجاج یا حملہ روکنے کے لیے سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی تھی۔

صورتحال کے پیشِ نظر بھارتی فوج اور پولیس کے ہزاروں کی تعداد میں اہلکار مقبوضہ وادی کی سڑکوں پر گشت کرتے رہے جبکہ زیادہ تر دکانیں، اسکول اور کاروباری مراکز اگست کے مہینے سے ہی بند ہیں۔

اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کا انتظام و انصرام گورنر کے پاس ہوتا تھا، بعدازاں اس عہدے کو لیفٹیننٹ گورنر سے تبدیل کردیا گیا اور اس عہدے کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے مقرر کردہ نئے سول ایڈمنسٹریٹڑ جی سی مرمو نے جمعرات کو سنبھال لیا۔

بھارتی حکومت نے 1947 میں برِ صغیر کی تقسیم سے بھی پہلے سے قائم ریاستی ریڈیو اسٹیشن کا نام بھی ریڈیو کشمیر سری نگر سے تبدیل کر کے آل انڈیا ریڈیو سری نگر کردیا۔

اس تمام تر صورتحال میں سب سے نمایاں تبدیلی مقبوضہ کشمیر کے پرچم اور آئین کی غیر موجودگی تھی، جسے متنازع علاقے کی نئی حیثیت کے تحت ختم کردیا گیا۔

تاہم کشیری عوام کو سب سے بڑا خطرہ مقبوضہ وادی سے تعلق نہ رکھنے والے بھارتیوں کی جانب سے زمین خریدنے کا ہے جبکہ اس سے قبل آئین میں کشمیریوں کے خصوصی مالکانہ حقوق کو محفوظ رکھا گیا تھا۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی نظر بند سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو مزید تنہا کرنے سے قبل بھارتی حکومت کو ان کو شامل کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دیے گئے پیغام میں کہا کہ ’بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے حقوق کو نظر انداز کر کے انہیں مصیبت میں لاکھڑا کیا ہے، اگر آپ انہیں اپنا سمجھتے ہیں تو ان سے رابطہ کریں اس سے قبل کہ بہت دیر ہوجائے۔

واضح رہے کہ بھارتی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو وفاقی اکائی میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے نفاذ پر چین نے بھی اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے اس اقدام کو مسترد کردیا۔

چین اس فیصلے کی سختی سے مذمت اور مخالفت کرتا ہے، بھارت یکطرفہ طور پر مقامی قانون اور انتطامی معاملات کو تبدیل کر کے چینی خودمختاری اور مفاد کو چیلنج کررہا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کامزید کہنا تھا کہ ’’یہ غیر قانونی اور کالعدم ہے، یہ اقدام اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا کہ متعلقہ علاقہ چین کے ماتحت ہے اور اس سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘‘۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close