پاکستان

ملتان، شیعہ مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلیے احتجاجی مظاہرہ

شیعیت نیوز : جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے زیراہتمام شیعہ لاپتہ عزاداروں کی عدم بازیابی کے خلاف ملتان پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، احتجاجی مظاہرے میں بچوں، جوانوں، خواتین اور بزرگوں نے بھی شرکت کی۔

مظاہرے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، آئی ایس او ملتان کے ڈویژنل صدر شہریار حیدر، علامہ قاضی نادر حسین علوی، مولانا کاشف حیدری اور مرزا وجاہت علی نے کی۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ جب تک محب وطن لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہو جاتے، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے، ہم اس غیرآئینی اقدم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہیں گے۔ ہم پاکستان کے محب وطن شہری ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان میں قانون و آئین کی بالادستی ہو، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ گذشتہ 5 سال سے جاری ہے، جس کے تحت کئی نوجوان تاحال لاپتہ ہیں، تاہم اس دوران کئی نوجوان اپنے گھروں کو واپس بھی لوٹ آئے ہیں، یقینی طور پہ لاپتہ افراد کی واپسی سے آئین و قانون کی بالادستی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے متعدد شیعہ افراد تاحال جبری طور پہ لاپتہ ہیں، تمام شیعہ لاپتہ افراد کو منظرعام پر لایا جائے اور اگر ان پر الزام ہیں تو عدالتوں میں پیش کرکے مقدمے چلائے جائیں اور بے گناہوں کو رہا کیا جائے۔

یہ خبر بھی پڑھیں اہل بیت علیہ السلام ہیں، پنجاب اسمبلی کے فرقہ وارانہ بل کو مسترد کرتے ہیں، علامہ مبارک موسوی

رہنمائوں کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں جاری شیعہ لاپتہ افراد کا مسئلہ انتہائی حساس ہوتا جا رہا ہے اور شیعہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ در در کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں، کوئی بھی ادارہ ان کی فریاد سننے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل انتہائی قابل تشویش ہے کہ لاپتہ افراد اس ملک کے باشندے ہیں اور ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کے اہلخانہ کو مکمل آگاہی دی جائے اور ان کی ملاقاتیں کرائی جائیں۔ کورونا وائرس جیسی موذی مرض کے پھیلاو کی وجہ سے شیعہ گمشدہ افراد کے خانوادے اس وقت شدید مشکلات اور اذیت کا شکار ہیں اور وہ اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے کیلئے بے چین ہیں۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کو جبری لاپتہ کرنا قانون و انصاف کا قتل اور آئین پاکستان سے صریحا انحراف ہے، جمہوری حکومت کے اس آمرانہ اقدام کے خلاف ملک کی ہر گلی محلے میں آواز بلند کی جائے گی، ہم نے ہمیشہ مظلوم کی حمایت اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

مقررین نے وزیراعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس اہم مسئلہ کی سنگینی کا ادراک کریں اور ان خاندانوں کے دکھ کو سمجھیں جن کے بچے کئی سالوں سے لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پر امن احتجاجی تحریک کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آخری شیعہ جوان بازیاب نہیں ہوجاتا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close