مشرق وسطی

مزاحمتی محاذ نے عرب ممالک کے انحصار کو برملا کر دیا ہے، شامی پارلیمنٹیرین

شیعت نیوز : شامی پارلیمنٹیرین محمود جوخدار نے اپنے ایک انٹرویو میں تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں اسلامی مزاحمتی محاذ کا بھرپور قیام، دشمن کی عقل کے ضائع ہونے کا سبب بنا ہے۔

عرب ای مجلے المعلومہ کے مطابق محمود جوخدار نے کہا ہے کہ اسلامی مزاحمتی محاذ کی یہ کامیابیاں اور خطے سے امریکہ، غاصب صیہونی حکومت اور ان کے چیلوں کے بڑھتے ہاتھ کاٹ ڈالنے کے بارے اس کا واضح موقف، امریکہ و اسرائیل پر خلیج فارس کے عرب ممالک کے انحصار کو برملاء کرنے کا بھی سبب بنا ہے۔

شامی پارلیمنٹیرین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کے عرب ممالک اپنے (غربی و عبری) آقاؤں کے اشارے پر یمن کو برباد کرنے، لبنان میں اختلافات کو ہوا دینے، شام عراق و لیبیا کو اجاڑنے اور فلسطین میں موجود ہمارے مسلمان بھائیوں کے مقابلے میں غاصب صیہونیوں کے ساتھ اتحاد بنانے میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عراق سے امریکی فوجیوں کا مکمل انخلا ہونا ہے، قاسم الاعرجی

انہوں نے کہا کہ ان منحوس ممالک کے خلاف ہر ایک میدان میں اسلامی مزاحمتی محاذ کا بھرپور قیام دشمن کی عقل کو ضائع کر دینے کا باعث بنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عزت و وقار کے اس محاذ کے اندر نہ صرف ان (امریکی و اسرائیلی چیلوں) کے ہاتھ کاٹ کر رکھ دیئے ہیں بلکہ اپنی عزت و ناموس کی جانب بڑھتے ہر ہاتھ کو کاٹ دینے پر بھی پوری طرح تیار ہیں۔

دوسری جانب شام کے صوبے الحسکہ میں ہونے والے کار بم دھماکے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ شب شام کے صوبے الحسکہ کے شہر راس العین میں کار بم دھماکہ ہوا جس میں ترکی کے کئی فوجی زخمی ہوئے۔ الحسکہ وہ علاقہ ہے جو ترکی کی فوج اور دہشت گردوں کے زیر کنٹرول ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ترکی تین برسوں سے حکومت کی اجازت کے بغیر شام میں موجود ہے اور شمالی شام کے بعض علاقوں کو اپنے قبضے میں لئے ہوئے ہے جس پر اسے عالمی سطح پر مخالفت کا بھی سامنا ہے۔

یاد رہے کہ شام میں دو ہزار گیارہ میں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نیز سعودی عرب سمیت بعض مغربی ایشیا کے ملکوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ شام میں داخل ہو گئے تھے جس کے بعد وہاں سیاسی و سکیورٹی بحران کا آغاز ہوا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close