اہم ترین خبریںپاکستان

نارووال میں پولیس گردی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی ناہونےکی صورت میں ایم ڈبلیوایم کا ملک گیر دھرنوں کا عندیہ

اگر عزاداروں کیخلاف پنجاب بھر میں درج کئے گئے مقدمات ختم نہ کئے گئے تو پھر ملت جعفریہ پاکستان بھی سڑکوں پر ہوگی، پھر حکومت کیلئے اپوزیشن جماعتوں اور اہل تشیع کے مظاہرے کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا اور حکومت یاد رکھے، ہم لاقانونیت کی حکومت نہیں چلنے دیں گے۔

شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے صوبائی سیکریٹریٹ وحدت ہاؤس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ لاہور، فیصل آباد، نارووال سمیت ملک بھر میں اربعین یعنی چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر پیدل چل کر جلوسوں میں شرکت کرنیوالوں کیخلاف مقدمات کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے۔ ۔ نارووال میں سب سے زیادہ اندوہناک واقعہ پیش آیا، جہاں ڈی پی او ذوالفقار احمد کی ایماء پر ایس ایچ او تھانہ سٹی نارووال ریاض تاثیر چیمہ نے محلہ محمد پورہ میں چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا۔ جلوس میں شریک ہونیوالوں کی گرفتاری کیلئے خواتین اور بچوں پر تشدد کیا، نہ صرف یہ بلکہ لیڈی پولیس کی بجائے خود مرد اہلکار خواتین کو گھیسٹتے ہوئے لے گئے۔ ایس ایچ او نے خود قانون کو پائمال کیا۔ اختیارات سے تجاوز کیا اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ یوں لگتا تھا کہ یہ نارووال نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کا کوئی علاقہ ہے۔ اس موقع پر علامہ عبد الخالق اسدی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پنجاب ،علامہ مبارک علی موسوی مرکزی رہنما مجلس وحدت مسلمین پاکستان، صوبائی رہنمارائے ناصر علی، سجاد نقوی،سید حسن رضا کاظمی ودیگر بھی موجود تھے ۔

یہ بھی پڑھیں: امت واحدہ کےقرآنی تصور کو عملی طور پر اجاگر کرنے کیلئےعالم اسلام پیغمبرختمی مرتبتؐ اورامام حسن مجتبیٰؑ کی سیرت طیبہ پر عمل پیراہو،علامہ ساجدنقوی

انہوں نے کہاکہ متعصب ڈی پی او اور ایس ایچ او نے قانون شکنی کی، اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ فی الفور ڈی پی او نارووال ذوالفقار احمد، ایس ایچ او ریاض تاثیر چیمہ اور دیگر اہلکاروں کو معطل کرکے ان کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ڈی ایس پی نے واقعہ کی انکوائری کی ہے اور انکوائری رپورٹ میں ڈی ایس پی نے واقعہ کا ذمہ دار ایس ایچ او کو قرار دیا ہے، لیکن ابھی تک ایس ایچ او کیخلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اس سے پولیس کی جانبداری واضح ہوتی ہے۔ جلوس ہائے عزا میں شرکت کرنا ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، پولیس ہمیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتی، ایس ایچ او بتا سکتا ہے کہ اس نے کس قانون کے تحت عزاداروں کو جلوس میں شریک ہونے پر مقدمہ درج کیا، گرفتاریاں کیں، خواتین پر تشدد کیا،؟؟ یقیناً اس کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں، سوائے اس کے اپنے اندرونی تعصب کے۔ اس لئے ہم پنجاب حکومت پر واضح کرتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی احتجاج پر سڑکوں پر نکلی ہوئی ہیں، اگر عزاداروں کیخلاف پنجاب بھر میں درج کئے گئے مقدمات ختم نہ کئے گئے تو پھر ملت جعفریہ پاکستان بھی سڑکوں پر ہوگی، پھر حکومت کیلئے اپوزیشن جماعتوں اور اہل تشیع کے مظاہرے کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا اور حکومت یاد رکھے، ہم لاقانونیت کی حکومت نہیں چلنے دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کی عزاداروں پر قائم بےبنیادمقدمات کے خاتمےکی یقین دہانی ،شیعہ علماءواکابرین کا 16اور 18اکتوبر کا احتجاج موخر کرنے کا اعلان

ان کا کہناتھا کہ مقدمات غیر قانونی اور پرامن شہریوں پر ظلم کے مترادف ہیں، کسی بھی شہر میں اربعین واک کرنیوالوں نے کوئی نقصان نہیں کیا، کہیں بھی ٹریفک بلاک نہیں ہوئی، کہیں بھی پتہ تک نہیں ٹوٹا، نہتے عزادار، خواتین اور بچوں کے ہمراہ پیدل چل کر مرکزی جلوسوں میں شریک ہوئے ہیں، یہ کون سا جرم ہے کہ ہم اپنے ہی ملک میں پیدل بھی نہیں چل سکتے؟؟ جب تکفیری عناصر ریلیاں نکال رہے تھے، کافر کافر کے نعرے لگا رہے تھے، اس وقت حکومت اور یہ پولیس کہاں تھی، ان کی متنازع ریلیوں کیخلاف مقدمات درج کیوں نہیں کئے گئے؟ صرف پرامن عزادار ہی دکھائی دیتے ہیں؟ یہ قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کی کسی طور اجازت نہیں دیں گے، اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام جھوٹے مقدمات خارج کئے جائیں اور گرفتار عزاداروں کو رہا کیا جائے بصورت دیگر ملک گیر سطح پر احتجاج کی کال دیدی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہاکہ مجلس وحدت مسلمین نے ہمیشہ فرقہ واریت کی مخالفت کی ہے، ہم پرامن لوگ ہیں، لیکن حکومت ناجائز تنگ کرکے خود حالات خراب کرنا چاہتی ہے۔ ملک میں عوام مہنگائی، بےروزگاری اور دیگر معاشی مسائل سے پریشان ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اپنی نااہلی سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسا کر رہی ہے، بلاوجہ عزاداروں کو تنگ کیا جا رہا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرے، عوام کی توجہ دوسرے ایشوز پر تقسیم نہ کرے اور ہم ملک میں حالیہ فرقہ وارانہ لہر کی بھی مذمت کرتے ہیں ، ہم نے محرم الحرام سے قبل ہی اس حوالے سے آگاہ کر دیا تھا، الحمد اللہ علماء متفق ہیں اور کوئی بڑا سانحہ نہیں ہوا، اسی طرح ہم متحد رہیں گے اور اپنے وطن کیخلاف ہر سازش ناکام بنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ڈبلیوایم شعبہ خواتین کے وفد کا دورہ نارروال ، پولیس گردی کی شکار مظلوم خواتین سے ملاقات

آخر میں انہوں نے کہاکہ ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ فرقہ واریت کی لہر کو کنٹرول کیا جائے، تکفیریوں کو لگام دی جائے اور گرفتار عزاداروں کو فوری رہا کیا جائے اور مقدمات ختم کئے جائیں، اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ملک گیر احتجاجی دھرنوں کی کال دیں گے. حکومت کو چاہیے کہ اس اثناء میں ملت جعفریہ کے تمام جائز مطالبات پورے کریں جبکہ اپوزیشن جماعتیں ملک بھر میں پہلے ہی احتجاج کر رہی ہیں مجبوراً ملت جعفریہ بھی سڑکوں پر نکل آئی تو حکومت وقت کیلئے کڑا وقت ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملت جعفریہ کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close