اہم ترین خبریںپاکستان

اہل بیت علیہ السلام ہیں، پنجاب اسمبلی کے فرقہ وارانہ بل کو مسترد کرتے ہیں، علامہ مبارک موسوی

شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ مبارک علی موسوی نے صوبائی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہل بیت علیہ السلام ہیں، پنجاب اسمبلی کے فرقہ وارانہ بل کو مسترد کرتے ہیں۔

1973انہوں نے کہا کہ کے آئین میں تمام مذاہب کی متفقہ رائے اور ہم آہنگی سے موجود ہے ہم اس آئین پر پورا یقین رکھتے ہیں۔اسلام کے نام پر ملکی سالمیت و استحکام کے خلاف گھناونی سازش کی جارہی ہے۔ تحفظ بنیاد اسلام بل کی آڑ میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کی قدر و منزلت کو نشانہ بنانے کے گھناؤنے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ جو سیاسی قائدین اس بل کی حمایت کر رہے ہیں ملت تشیع آئندہ الیکشن میں ان کی سیاسی حمایت سے مکمل طور پر قطع تعلقی کا اعلان کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الہی ایک منجھے ہوئے ایک سینئرسیاست دان ہیں ان کا تکفیریوں کے جال میں پھنسنا حیران کن ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کی یہ جانبداری ان کی سیاسی ساکھ کے لیے شدید دھچکا ثابت ہو گی۔گورنر پنجاب سے مطالبہ ہے کہ بل کے مندرجات پر ملت تشیع کے تحفظات سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ کالعدم مذہبی جماعتوں کے فکری پیروکاروں نے غلط بیانی کرکے پنجاب اسمبلی کے ممبران سے اس بل کی منظوری لی۔

یہ خبر بھی پڑھیں تحفظ بنیاد اسلام بل اہل تشیع کو دیوار سے لگانے کی سازش ہے، علامہ ناصر عباس

علامہ مبارک علی موسوی نے کہا کہ وحدت و اخوت کافروغ اور باہمی احترام ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں تاہم ہمارے بنیادی عقائد ہمیں ہر شے پر مقدم ہیں۔ کسی کو اس بات کی قطعاََ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی بل یا قانون کی آڑ میں ملت تشیع کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے۔ خاندانِِ رسالت کا جومقام خاتم النبین حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو بتایا ہے اس میں ردوبدل احکامات رسول ﷺ کی صریحاََ نفی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ متنازع بل اسلام کی بنیادی تعلیمات پر وار ہے جسے شیعہ سنی مل کر روکیں گے۔ ملت تشیع اور اہل سنت اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق اہل بیت ؑ کے ناموں کے ساتھ چودہ سو سالوں سے ” علیہ السلام“ لکھتے آئے ہیں۔پورے عالم اسلام میں صدیوں سے یہی طریقہ رائج ہے۔ تکفیری گرو ہ نے اپنے شرپسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے صوبہ پنجاب کا انتخاب کیا ہے۔ملک کے مدبر سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو اس سلسلے میں اپنافوری کردار ادا کرنا چاہیے۔ مذہبی آزادی اور عقیدے کا اظہار ہر شہری کا بنیادی وآئینی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف مسالک کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراءکر کے ملک میں ایک بار پھر مذہبی منافرت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ان عناصر کو بے نقاب کرنا انتہائی ضروری ہے جن کا بنیادی ایجنڈا تفرقہ بازی ہے۔ایسے فکری دہشت گردوںکو لگام دینا ہو گی جنہوں کا مقصد مقدسات کی عظمت اور ناموس کے نام پر انتہا پسندی کا فروغ رہا ہے۔اسی شدت پسندی کا خمیازہ دہشت گردی کی شکل میں آج بھی پوری قوم بھگت رہی ہے۔ملک اب کسی نئی آزمائش کا متحمل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس اسلامی نظریے کے قائل ہیں جس کی بنیاد پر یہ وطن حاصل کیا گیا۔جو عناصر قائد اعظم کی اسلامی ریاست کو مسلکی ریاست میں بدلنا چاہتے ہیں ان کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔1973کاآئین تمام مکاتب فکر کی مشاورت اور باہمی رضامندی سے منظور کیا گیا۔نصف صدی گزرنے کے بعد آج اس آئین کی اسلامی حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش ان قوتوں کی جانب سے کی جارہی ہے جنہوں نے اس ملک میں مسلکی نفاق کی بنیاد ڈالی۔ ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے والے دہشت گردوں سے بھی زیادہ خطرناک وہ عناصر ہیں جو شدت پسندی کی راہ ہموار کرنے کے لیے میدان فراہم کرتے ہیں۔

پریس کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ عبد الخالق اسدی،ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اقبال کامرانی،علامہ حسن علی ہمدانی،علامہ حسن نجفی اور علامہ امجد علی جعفری بھی شریک تھے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close