اہم ترین خبریںپاکستان

ایم ڈبلیو ایم کےتحت بین الاقوامی سید الشہداءؑکانفرنس ،مقاومتی تحریکوں کے نمائندگان کی شرکت

علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اربعین حسینی کا عظیم اجتماع مقاومت اسلامی کا مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا اگر مقاومت نہ ہوتی تو اربعین حسینی کا یہ عظیم اجتماع بھی نہ ہوتا۔

شیعت نیوز: عراق کے شہر کربلا مقدسہ میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شعبہ امور خارجہ کے زیر اہتمام دوسری سالانہ بین الاقوامی سید الشہداء کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ جناب حجت الاسلام و المسلمین علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے سید الشہداء کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ان کے علاؤہ بزرگ عالم دین اور ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے بانی رکن جناب حجت الاسلام و المسلمین غلام حر شبیری، انصاراللہ یمن کی سیاسی شورای کے رکن جناب شیخ محمد قبلی، کتائب سید الشہداء عراق کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن جناب حجت الاسلام و المسلمین شیخ کاظم فرطوسی، اسلامک موومنٹ نائجیریا کے جناب شیخ انس شعیب آدم نے بطور مہمان مقرر شرکت کی۔ ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے شعبہ امور خارجہ کے سربراہ جناب حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے افتتاحی کلمات ادا کیے۔

اس کانفرنس میں ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنماعلامہ اقبال بہشتی، اسد عباس نقوی، ملک اقرار حسین، نثار علی فیضی ،صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ سید باقر عباس زیدی،صوبہ بلوچستان کے سیکریٹری جنرل علامہ برکت مطہری، سابق وزیر قانون بلوچستان آغا رضا ،ہنگو کے معروف عالم دین علامہ خورشید انور جوادی سمیت مختلف ممالک سے تشریف لائے زائرین ابا عبداللہ الحسین ع نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: اربعین حسینیؑ1441ہجری پر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کا ملت پاکستان کے نام پیغام

مجلس وحدت مسلمین شعبہ امور خارجہ کے زیر اہتمام حرم امام حسین ؑکے خاتم الانبیاءہال میں منعقدہ دوسری سالانہ سید الشہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کے مہمان خصوصی ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سربراہ جناب حجت الاسلام و المسلمین علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اربعین حسینی کا عظیم اجتماع مقاومت اسلامی کا مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا اگر مقاومت نہ ہوتی تو اربعین حسینی کا یہ عظیم اجتماع بھی نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ مقاومت کی کامیابیوں نے اربعین حسینی کے بے مثال اجتماع کا مقدمہ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا قیام امام حسین ع کا مقصد اور مخاطب امت اسلامی ہے۔ انہوں نے زیارت عاشورا کے پرنور جملات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جب ہم زیارت عاشورا میں قاتلین امام حسین ع کی مذمت کرتے ہیں تو ایک جگہ اس امت کی مذمت کرتے اور اس پر لعنت کرتے جس نے امام پر ظلم کی بنیاد رکھی۔

انہوں نے کہا کہ غرض و غایت تشکیل و اصلاح امت محمدی ہے اور اربعین حسینی تشکیل امت کا مرحلہ ہے، ایک ایسی امت جس میں تمام انسانی فضائل بدرجہ اتم موجود ہوں جیسے اربعین حسینی کے اجتماع میں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے حضرت زینب س کے اس پرنور اور بامعرفت جملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب سیدہ زینب س نے دربار یزید میں یزید کے جواب میں فرمایا تھا "میں نے سوائے جمال کے کچھ نہیں دیکھا” انہوں نے فرمایا سیدہ زینب س اس ہمارے دور کو دیکھ رہی تھیں اور ان کی اس معرفت بھری گفتگو میں ہمارے زمانے کے حالات کی پیشگوئی بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ڈبلیوایم کے وفدکی صوبائی وزیر عاطف خان سے ملاقات، ہنگو، پاراچنارکے قومی وملی مسائل کے حل کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ آج آپ دیکھتے ہیں کہ اربعین حسینی کا اجتماع سوائے جمال اور خوبصورتی کے یہاں کچھ نظر نہیں آتا۔ ہر طرف اعلی انسانی صفات اور فضائل ہی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مقاومت کی کامیابیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ دور تشکیل امت کا مرحلہ ہے انہوں نے کہا ہم تشکیل امت کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ ایک ایسی امت جس میں ہر رنگ نسل قوم قبیلے اور دین و مذہب کے لوگ شامل ہوں گے یعنی ایک عظیم انسانی معاشرہ تشکیل پارہا ہے۔ انہوں نے اس عنوان سے کہا کہ ہمیں اس مرحلے پر اپنی ذمہ داریوں کی پہچان کرنی اور ان کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اربعین کے اس عظیم اجتماع کے موقع پر شہدائے کربلا کے جوار میں کانفرنس منعقد کرنے کا ایک مقصد دنیا بھر سے تشریف لانے والے مومنین سے رابطہ اور ملاقات ہے۔ انہوں نے کہا اس اہم موقع پر سید الشہداء کانفرنس کے انعقاد کا مقصد اربعین حسینی کے عظیم اجتماع کی برکات اور پیغام کی تبلیغ اور تشہیر کی مہم میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

سید الشہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یورپ سے تشریف لانے والے بزرگ عالم دین اور ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے بانی رکن جناب حجت الاسلام و المسلمین غلام حر شبیری نے کہا کہ کربلا کا اصل پیغام ذلت کی زندگی سے دوری ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا اربعین حسینی نے ایک نیا سماجی نظام متعارف کروایا ہے جس میں تمام انسانی فضائل دیکھے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا استکبار ہمیشہ سے معاشروں پر جہالت مسلط کرکے انہیں گمراہ رکھنا اور انسانی فضائل سے دور رکھنا چاہتا ہے لیکن مکتب کربلا انسان کو علم کے زیور سے آراستہ کرتا اور معاشروں میں انسانی فضائل کو رائج کرنا چاہتا ہے اور اربعین حسینی انہی انسانی فضائل کا مظہر ہے۔

سید الشہداء کانفرنس میں کتائب سید الشہداء عراق کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن حجت الاسلام و المسلمین شیخ کاظم فرطوسی نے کہا یہ اربعین حسینی کی برکات ہیں کہ آج ہم سب یہاں جمع ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے کربلا اور اربعین کی برکات کی بدولت داعش جیسے خبیث دشمن کو شکست دی ہے اور دنیا بھر میں مستضعفین جہاں بھی ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہیں وہ کربلا کی بدولت ہے کیونکہ کربلا نے انسانیت کو عزت کے ساتھ جینے کا راستہ دکھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا دشمنِ انسانیت یمن، کشمیر، عراق، شام، فلسطین اور لبنان میں ہر جگہ ظلم و ستم روا رکھے ہے جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان خطوں کے مسلمان دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ہمیں مقاومت اسلامی کی کامیابی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے، علامہ راجہ ناصرعباس

انہوں نے کہا کشمیری مسلمانوں کا قصور بھی یہی ہے کہ وہ ظلم کے سامنے نہیں جھکے اور یہ استقامت صرف مکتب کربلا سیکھاتا ہے۔ انہوں نے کشمیر سمیت دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے جس خطے میں بھی مظلومین ظالموں اور مستکبرین کے مقابلے میں استقامت دکھا رہے ہیں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم ان کی حمایت کرتے ہیں۔

ایم ڈبلیو ایم پاکستان شعبہ امور خارجہ کے زیر اہتمام کربلا میں منعقدہ سید الشہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انصار اللہ یمن کی سیاسی شورای کے رکن جناب شیخ محمد قبلی نے کہا کہ یمنی عوام نے امام حسین ع کے قیام سے سبق لیتے ہوئے ظلم کے مقابلے میں جو قیام کیا ہے اس اور امام حسین ع کے قیام میں کئی مماثلتیں ہیں۔ قیام امام حسین ع اور یمنی مزاحمت کے درمیان موجود مماثلتوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب شیخ محمد قبلی نے کہا کہ جیسے امام حسین ع اصلاح امت کے لیے اٹھے ہم یمنی بھی ویسے ہی اصلاح حالِ امت یمن کی جدو جہد کے بانی ہیں۔

انہوں نے کہا امام حسین ع نے فرمایا میں نے دین میں کوئی تبدیلی نہیں کی جو تم مجھے قتل کرو اسی طرح ہم یمنیوں نے دین یا کسی بین الاقوامی عرف یا قانون کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی جو ہمیں قتل کیا جائے۔ انہوں نے مزید فرمایا امام حسین ع ذلت

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close