اہم ترین خبریںپاکستان

یمن کی آئندہ فیصلہ ساز قوت حوثی ہیں، سعودی عرب کو تسلیم کرنا ہو گا،ناصرشیرازی

حوثیوں نے اگر انقلاب اسلامی ایران سے امداد لی بھی ہے تو وہ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والی بدترین دہشتگردی اور بدترین جارحیت کے خلاف لی ہے، جو ان کا بنیادی حق ہے اور انہیں اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

شیعت نیوز: یمن کی موجودہ صورت حال اور سعودی جارحیت کے حوالے سے ایک انٹرویو میں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرعباس شیرازی ایڈوکیٹ نے کہاکہ یمن اس وقت بدترین قحط کا شکار ہے، وہاں غذا نہیں ہے، دوا نہیں ہے۔ وہاں زندگی کی بنیادی ضرورت میسر نہیں ہیں۔ بچوں کو غذا اور دوا کی قلت کا اس حد تک سامنا ہے کہ دنیا میں بھوک اور متعددی امراض کے ہاتھوں مرنے والے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد یمن کے اندر ہے اور یہ سب اس جنگ کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے کہاکہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ سعودی عرب کو یمن کے اندر اتنی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور ننگے پاؤں پھرنے والے یہ لوگ سعودی عرب کے اندر اس حد تک گھس جائیں گے کہ وہ جنگ جسے تین مہینوں میں سعودی عرب جیتنا چاہتا ہے، کئی سالوں پہ محیط ہو جائے گی اور اس جنگ کے نتیجے میں صورتحال یہ ہوجائے گی کہ یمن کے اندر حوثی مضبوط ترین پوزیشن میں ہوں گے، سیاسی لحاظ سے بھی، عسکری لحاظ سے بھی ہاں تک کہ نظم اور استحکام کے حوالےسے بھی، ان کے علاقے مستحکم اور پرامن ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : جارح سعودی حکومت کے اندر جوابی کارروائیاں یمنی افواج کا مسلمہ حق ہے

ناصرشیرازی نے کہاکہ اب سعودی عرب کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ کمپرومائز کی جانب آئے، مذاکرات ہوں اور سعودی عرب طاقت کے استعمال کی حماقتوں سے آئندہ کیلئے باز رہے۔ اگر چہ سعودی عرب کی پوری کوشش ہو گی کہ اس جنگ کے بعد بھی یمن اندرونی عدم استحکام کا شکار رہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ آئندہ یمن کے امور میں حوثیوں کا کلیدی و بنیادی کردار ہو گا۔ یہ وہی حوثی ہیں کہ جو الموت امریکہ، الموت اسرائیل کے قائل ہیں۔ جو نظریاتی فکری لحاظ سے انقلاب ایران کے بہت قریب ہیں اور اس سے رہنمائی لیتے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہیں اور اس کشیدگی میں سعودی عرب واضح شکست کھا چکا ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ایران کا اثر و رسوخ اس لحاظ سے خطے میں مسلسل بڑھ رہا ہے کہ ایران نے مظلوموں کی حمایت کی ہے۔ ان کی اقتصادی، سیاسی حمایت کی ہے اور عین ممکن ہے کہ انہیں تکنیکی تربیتی مدد بھی فراہم کی ہو مگر یہ درست ہے کہ سعودی عرب کو جتنا بھی ردعمل مل رہا ہے وہ یمن کی زمین سے آرہا ہے اور وہ یمنی ہی دے رہے ہیں۔ حوثیوں نے اگر انقلاب اسلامی ایران سے امداد لی بھی ہے تو وہ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والی بدترین دہشتگردی اور بدترین جارحیت کے خلاف لی ہے، جو ان کا بنیادی حق ہے اور انہیں اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close