کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
دنیا

ایران سے کشیدگی، او آئی سی نے سعودی اعلامیہ مسترد کردیا

شیعت نیوز: اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) نے ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے معاملے پر سعودی عرب کا اعلامیہ مسترد کردیا ہے۔

سعودی فرما نروا شاہ سلمان نے ہفتے کو او آئی سی کے رکن ممالک کو خبردار کیا کہ خلیجی علاقے میں دہشت گرد حملوں سے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی فرمانروا کی جانب سے یہ انتباہ چار بحری جہازوں پر حملے کے بعد آیا ہے۔

حملے کا نشانہ بننے والوں میں دو سعودی آئل ٹینکرز بھی شامل تھے۔

سعودی عرب اورایران کشیدگی کے معاملے پر تنظیم کا اجلاس سعودی شہر مکہ میں ہوا۔ مختصر عرصے میں او آئی سی کا یہ تیسرا اجلاس ہے جو اس معاملے پرہوا۔

شاہ سلمان نے اجلاس میں الزام لگایا کہ فجیرہ میں آئل ٹینکرز پر حپلہ ایران نے کروایا ہے لیکن متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کی تردید کردی گئی ہے، رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’ اس حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں‘‘۔

سعودی وفد نے اس اجلاس میں فلسطین میں اسرائیلی تسلط کو تسلیم کرنے کیلیے بنائی جانے والی ڈیل بنام ’’صدی کی ڈیل‘‘ پر بھی مسلم ممالک کو راضی کرنے کی کوشش کی لیکن دوسری جانب او آئی سی نے فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہوئے ’’صدی کی ڈیل‘‘ کو مسترد کردیا۔

او آئی سی اجلاس میںرہنماؤں نے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس (یروشلم) منتقل کرنے اورگولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی حاکمیت تسلیم کرنے کے متنازع امریکی اقدام کی مذمت بھی کی ۔تنظیم نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ان ملکوں کا بائیکاٹ کریں جنہوں نے بیت المقدس (یروشلم) میں سفارتی مشن کھولے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی او آئی سی اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ پاکستان فلسطین کو فلسطینیوں کا وطن اورگولان ہائٹس کو شام کا حصہ تسلیم کرتا ہے اور اسرائیل کے غاصبانہ تسلط کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close