پاکستان

آپریشن ضربِ عضب کے دوران 3400 سے زائدتکفیری دہشتگرد واصل جہنم جبکہ 350 جوان اور افسر شہید ہوئے

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیوں سے شہریوں کی شہادت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی شدید انداز میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ بھارت کے ہاتھوں شہری آبادی کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی روک تھام کیلئے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں شیخ روحیل اصغر کی زیرِ صدارت اجلاس کے دوران سیکرٹری دفاع لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ محمد عالم خٹک اور ملٹری آپریشن شعبے کے اعلٰی حکام کی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزیوں کی بارے میں آگاہ کیا۔
اعلٰی فوجی حکام نے قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ جون 2014ء سے شروع ہونے والے اس آپریشن کے دوران 3400 سے زائد دہشت گرد مارے گئے جبکہ 350 جوان اور افسر شہید ہوئے جبکہ 60 ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشن کئے گئے ہیں، شوال میں ائیر فورس کی مدد سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جا رہا ہے اور بہت کم مزاحمت کے علاقے رہ گئے ہیں۔ تاہم آپریشن کے بعد پاک فوج 2019ء تک پاک افغان بارڈر پر تعینات رہے گی، تاکہ فرار ہونے والے دہشت گرد واپس نہ آسکیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ داعش افغانستان میں جڑیں مضبوط کر رہی ہے، جس میں پاکستان سے بھاک کر جانے والے دہشت گرد بھی شامل ہو رہے ہیں، تاہم ان کی پاکستان واپسی ممکن نہیں ہونے دیں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے جرم میں مزید گرفتاریاں ہوں گی، جس میں کچھ بڑے نام بھی آسکتے ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close