اہم ترین خبریںپاکستان کی اہم خبریں

ایران کیساتھ تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے وزیراعظم پاکستان کا پختہ عزم

وزیر اعظم پاکستان نے پہلے مرحلے میں دو سرحدی بازاروں کی تعمیر کا اعلان کیا ، جو رواں برس فروری کے وسط (فروری 2021) تک مکمل ہوں گی ۔

شیعیت نیوز: پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا حالیہ فیصلہ جس کا مقصد تجارتی تعلقات اور سرحد پار تبادلے کو فروغ دینا، صوبہ بلوچستان میں سرحدی انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنا تھا ، پاک ایران سرحد پر مارکیٹس کے قیام کا اعلان پاکستانی میڈیا میں بہت گونج رہا تھا۔

یہ فیصلہ ایک غیر معمولی اجلاس جس میں پاک فوج کے کمانڈر ، پاکستان کے وزرائے خارجہ، داخلہ ، تجارت، خزانہ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے شرکت کی تھی، کیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے 29 اپریل کو وزیر اعظم پاکستان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت سے متعلق پروٹوکول کی مکمل تعمیل کے ساتھ دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین سرحدی منڈیوں کے کھلنے سے تہران- اسلام آباد تجارتی تعلقات کی ترقی کا باعث بنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ کا اسلام آباد میں شیعہ مخالف جلسہ،مقدمے میں انسداددہشتگردی کی دفعات شامل کرنے کی درخواست

روحانی نے کہا کہ ہم کچھ ہمسائہ ممالک کی طرح پاکستان کے ساتھ بھی سرحد پار تبادلوں کو فروغ دینے پر دلچسبی رکھتے ہیں۔

ایران کے ساتھ سرحدی انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کے اعلی سیاسی، اقتصادی اور فوجی عہدیداروں کے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری "عبد الرزاق داود”ایران اور پاکستان کی مشترکہ تجارتی کمیٹی کے نویں اجلاس میں شرکت کیلیے تہران کا دورہ کرنا چاہتا ہے۔

یہ عمران خان کے سنیئر مشیر کا دوسرا دورہ ایران ہے۔ سرحدی انفراسٹرکچر کی ترقی ، تجارتی تعلقات کی مضبوطی اور معاشی تعاون میں اضافہ کے لئے ایک روڈ میپ کی تعمیر، پاکستانی وزارت تجارت کے قائم مقام کے دورہ ایران کے اہم مقاصد میں ہیں۔

جمعرات کی رات وزیر اعظم پاکستان کےآفس نے ایران کے ساتھ سرحدی منڈیوں کی ترقی کے مقصد کیلیے پاکستانی سینئر سیاسی اور فوجی عہدیداروں کی موجودگی میں عمران خان اور پاکستانی آرمی کے کمانڈر کے مابین ہونے والی نشست کا ایک باضابطہ بیان جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ کا رہنما مولوی عقیل معصوم بچی کیساتھ جنسی درندگی کےالزام میں گرفتار

اس بیان میں آیا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سرحدی تعلقات میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر سرحدی باشندوں کی فلاح و بہبود کے لئے سرحدی منڈیوں کی ترقی کو مضبوط بنانے ، نوجوان نسل اور مزدور طبقے کے لئے معاش کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی تجارت (اسمگلنگ) کی روک تھام کے لئے ایک اہم حکمت عملی اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ پاک-ایران سرحدوں پر باڑ لگانے کا تسلسل ، جس کو پاکستانی فریق نے رواں سال اگست کے آخر تک 90 کلومیٹر سے زیادہ مکمل کرلیا ہے

انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کو فروغ دینےکے لئے سرحدی منڈیوں کی تعمیر، معاشی سرگرمیوں کا نظم و نسق اور بنیادی ڈھانچے اور بدانتظامی کی کمزوری سے اسمگلروں کا غلط فائدہ اٹھانے کے روکنے کیلیے ایک بہت اہم اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب، امارات اور اسرائیل عراق کے حالات خراب کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں

وزیر اعظم پاکستان نے پہلے مرحلے میں دو سرحدی بازاروں کی تعمیر کا اعلان کیا ، جو رواں برس فروری کے وسط (فروری 2021) تک مکمل ہوں گی ۔ جن کی بازاروں کی کامیابی اور جائزہ لینے کے بعد4 اور سرحدی منڈیوں کی تعمیر کیلیے اگلے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

عمران خان نے اس نشست میں اعلان کردیا کہ ہم سرحدی باڑ لگانے کے منصوبے کو مکمل کرنے اور سرحدی منڈی کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے ساتھ سرحدی باشندوں کی زندگی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے اور اسمگلنگ کے روکنے کے خواہاں ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داود نے 5 سپتمبر کو ارنا کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ایران کے ساتھ سرحدی منڈیوں کی تعداد بڑھانے اور سرحدپار تبادلوں کو آسان بنانے کی کوشش کے لیے پاکستانی حکومت کے منصوبے کے بارے میں کہا کہ ہمارا مقصد سرحدی باشندوں کی زندگی کی سہولیات کو فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس کا فیصلہ قومی سانحے کے 8 سال بعد سامنے آگیا

انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم سرحد پار تجارت کے فعال بنانے ایک سرحدی مارکیٹ کے کامیاب نفاذ کے ساتھ شروع کریں اور ان سرحدی بازار کے قیام کے بعد اس کی کامیابی کی شرح چیک کریں اور ان تمام اقدامات کے بعد ایک اور سرحدی بازار کے قیام کے منصوبے پر عمل درآمد کریں گے۔

عبد الرزاق داؤد ایران پاکستان مشترکہ تجارتی کمیٹی کے نویں اجلاس میں شرکت کے لئے ایک تجارتی اور اقتصادی وفد کی قیادت میں ایران کا دورہ کریں گے۔

یہ نشست تہران کی میزبانی میں اکتوبر کے وسط یعنیٰ (اکتوبر کے پہلے ہفتے) منعقد ہوگی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close