اہم ترین خبریںپاکستان کی اہم خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال (دوسری قسط)

پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال (دوسری قسط)

پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال کے عنوان سے لکھی گئی اس تحریر کی پہلی قسط میں پچھلے سات عشروں کی پالیسی پر ایک مختصر نگاہ ڈالی گئی۔ دنیا کے ساتھ ریاست پاکستان کے تعلقات کی نوعیت یہی رہی۔ اور یہی پالیسی پاکستان کی موجودہ مشکلات کا اصلی سبب بھی ہے۔

 

سابق سوویت یونین کمیونسٹ بلاک کے مقابلے میں ریاست پاکستان سرمایہ دارانہ امریکی مغربی بلاک کے ساتھ رہی۔ اور یہی خارجہ پالیسی پاکستان کی تمام تر مشکلات کی جڑ ہے۔ اگر پاکستان میں امریکا مردہ باد کا نعرہ لگتا ہے تو بھی سبب پچھلے سات عشروں کے تاریخی حقائق ہیں۔

خراب اقتصادی مسائل کا ذمے دار بھی امریکا

مثال کے طور پر پاکستان کے خراب اقتصادی مسائل کا ذمے دار بھی امریکا اور اسکے اتحادی چند ممالک ہی ہیں۔ پاکستان کے خراب امیج کے ذمے دار بھی وہی ہیں۔

مذہبی و سیکولر انتہاپسندی اور مسلح دہشت گردی، حتیٰ کہ جدید تکفیری دہشت گردی بھی امریکی مغربی بلاک کی ہی تخلیق ہے۔

 

امریکی مغربی بلاک  کے اثاثے

بظاہر 1980ع کے عشرے میں افغانستان میں سوویت کمیونسٹ یلغار کے خلاف جنگ لڑی جارہی تھی۔ لیکن امریکی مغربی بلاک پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اس میں مجاہدین کے عنوان سے اپنے اثاثے بنارہا تھا۔ اس وقت کے سی آئی اے افسر گیری اسکروئن نے اپنی کتاب دی فرسٹ ان میں یہ نکتہ بیان کیا ہے۔ جسے شک ہے وہ یہ کتاب پڑھ لے۔ اوریہ امریکی سی آئی اے کے اثاثے ہی تھے کہ جنہیں بعد میں مذہبی انتہاپسند و دہشت گرد کہا گیا۔

یاد رہے کہ انہی امریکی اثاثوں میں سے ایک نے پاکستان کی سرزمین پر کا فر کافر کا نعرہ لگا یا۔

بانی پاکستان بھی مسلمان نہیں

?

اس نظریے کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح بھی مسلمان نہیں۔ با الفاظ دیگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو امریکی بلاک نے غیر رسمی طور پر وہابی ریاست میں تبدیل کردیا۔

یعنی ریکارڈ میں بانی پاکستان محمد علی جناح ہیں۔ کرنسی نوٹ پر انہی کی تصویر ہے۔ مگر ریاستی اداروں میں جناح صاحب کی تصاویر کے نیچے بیٹھ کر یا انکے مزار پر سیلوٹ مارنے والے ریاستی حکام کے لاڈلے جھنگوی و لدھیانوی ہیں۔

لاڈلے جھنگوی و لدھیانوی

جبکہ لدھیانوی ٹولہ، بانی پاکستان کے مزار تو کیا علی ہجویری داتا دربار کے مزار پر حاضری کو بھی شرک قرار دیتا ہے۔

یعنی وہ ریاستی حکام یا پاکستانی قوم کی وہ غالب مسلمان اکثریت جو بزرگان دین یا مسلمانوں کی قبور پر فاتحہ خوانی و حاضری کے لئے جاتی ہے، لدھیانوی ٹولہ ان پر سعودی وہابی نظریے کے مطابق شرک کا فتویٰ صادر کرتا ہے۔

 

سعودی عرب مذہبی منافرت کا سبب

 

سعودی عرب میں بیٹھا ایک پاکستانی تکفیری مولوی شیخ مکی الحجازی جھنگوی نظریے کی حمایت کرتا ہے۔ ان دنوں شیخ مکی الحجازی کی ایک وڈیو وائر ل ہے۔ اس میں انہوں نے واضح طور پر سنی بریلوی کی اقتداء میں نماز جمعہ پڑھنے کو منع کردیا۔ واضح رہے کہ یہ انکے مسلکی اختلافات ہیں۔

مگر ہم اس لئے اس تکفیری نظریے اور ٹولے کو یہاں بیان کرنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان میں مذہبی منافرت، انتہاپسندی اور مسلح دہشت گردی کا سبب یہی لوگ ہیں۔

 

امریکی بلاک کے سہولت کارسعودی حکام

اگر بات القاعدہ کی کریں تو یہ سعودی عرب کے شہری اسامہ بن لادن کی قیادت میں کام کررہی تھی۔ اسامہ بن لادن کو افغانستان لانے والے کون تھے!؟

امریکی بلاک کے سہولت کارسعودی حکام جو کہ آل سعود میں سے تھے۔ یہ سب حقائق تاریخ کا حصہ ہیں۔

برطانوی اور امریکی موقف

برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ رابن کک نے اعتراف کیا تھا کہ القاعدہ مغربی انٹیلی جنس اداروں کی پیداوار تھی مگر انہوں نے اسے مس کیلکیولیشن قرار دیا۔

جبکہ سی آئی اے کے سابق اعلیٰ افسر گیری اسکروئن کا موقف ثابت کرتا ہے کہ افغانستان میں سوویت یلغار سے پہلے سے امریکی سی آئی اے افغانستان کے لئے پالیسی وضع کرچکی تھی۔

تکفیری دہشت گردی اور آل سعود

ٍ جبکہ اسامہ کا بن لادن خاندان بھی حکمران شاہی خاندان کا منظور نظر تھا۔ اور سعودی شاہ فہد نے اپنے بھتیجے ترکی الفیصل کو سعودی عرب کی فارین انٹیلی جنس کا سربرا ہ مقرر کیا تھا۔

ترکی الفیصل نے حیاتیات کے استاد احمد بدیب کو اپنا چیف آف اسٹاف بنالیا۔ اسکے بھائی سعید بدیب کو تجزیہ و تحلیل کے شعبے کا سربراہ مقرر کیا۔ احمد کو اس نام نہاد جہاد میں پیسے پہنچانے کا کام سونپا گیا۔ اسامہ بن لادن اسی نیٹ ورک کا حصہ تھا جو احمد بدیب کے توسط سے ترکی الفیصل سے تعلقات استوار کرچکا تھا۔ البتہ اسامہ کا بڑا بھائی سالم بن لادن شاہ فہد کا قریبی دوست تھا۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز

پاکستان میں مذہبی منافرت، انتہاپسندی، مسلح دہشت گردی میں بھی مذکورہ مسلک کے مدارس و مساجد کا ہی کردار رہا۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز کے مطابق کہ امریکا نے ”مجاہدین“ کو بھرتی کیا، تربیت کی، پیسہ دیا۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ایسے مدارس قائم کئے تھے جن میں رضاکار بھرتی کرکے یہ تربیت دی جاتی تھی۔
(ریفرنس: Between Dreams and Realities by Sartaj Aziz, OUP 2009, Chapter 11, Page 247)۔

 

 

ٍ پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان نے بھی وہابی اور دیوبندی مدارس و تنظیموں کو سعودی و خلیجی عرب ممالک کی فنڈنگ
سے متعلق نکات تحریر کئے ہیں۔ حتیٰ کہ اسلام آباد میں عراقی سفارتخانے میں اسلحے کی کھیپ بھی پکڑی گئی جوکہ کالعدم تکفیری دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کو دی جانے والی تھی۔ (یہ الگ بات کہ بہت سی کھیپ کو نہ پکڑا گیا اورسپاہ صحابہ نے 1990ع کے عشرے سے لشکر جھنگوی کے نام سے شیعہ نسل کشی کا اعتراف کرتی رہی)۔ کالعدم لشکر جھنگوی بھی طالبان دور حکومت میں افغانستان میں قائم کی گئی۔ اسکے بانی سپاہ صحابہ گروہ میں عہدیدار رہ چکے تھے۔

(ریفرنس: Afghanistan and Pakistan by Riaz Mohammad Khan OUP 2011-12 Chapter 5 Page 217)

پاکستان کی بدحالی کے اسباب پر مزید  پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال تیسری قسط میں

 

پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال (پہلی قسط)

عین علی برائے شیعیت نیوز اسپیشل

 

Turkey under Erdogan continue to fall to US trap in Syria

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close