اہم ترین خبریںپاکستان کی اہم خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال (تیسری قسط)

پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال

پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال کی تیسری اور آخری قسط پیش خدمت ہے۔

پچھلی دو قسطوں میں تلخ حقائق بیان کئے گئے۔ اسی تسلسل میں یہ بھی یاد رہے کہ جس صدر جنرل پرویز مشرف کی جرنیلی حکومت نے سپاہ صحابہ کو غیرقانونی گروہ قرار دے کر پابندی لگادی تھی۔ اسی مشرف کے دور میں اسی کالعدم دہشت گرد گروہ کا سرغنہ اعظم طارق جیل سے بیٹھ کر عام انتخابات میں قومی اسمبلی کا رکن بنا دیا گیا۔ جب مشرف باوردی صدر تھا، تب بھی اسلام آباد میں اسی غیر قانونی دہشت گرد ٹولے کو ریلی نکالنے، جلسہ کرنے کی اجازت دی گئی۔

اور امریکا کے فرنٹ لائن اتحادی سیٹ اپ نے جو باوردی جرنیلی صدارت کے تحت جمہوری حکومت قائم کی اس کو ایک ووٹ اسی اعظم طارق کا تھا۔ میر ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنانے میں ایک ووٹ کالعدم دہشت گرد ٹولے کے اسی سرغنہ کا ہی تھا۔

گلوبل وار آن ٹیرر

جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ نائن الیون کے بعد امریکا کی قیادت میں جو جنگ

افغانستان میں لڑی گئی تو اسے گلوبل وار آم ٹیرر کہا گیایعنی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ۔ یاد رہے کہ اعظم طارق ملا عمر کی طالبان کی حمایت میں جلسے جلوس بھی کرچکا تھا۔ اب کوئی پاکستانی قوم کو یہ بھی بتادے کہ ملاعمر کی طالبان کے خلاف امریکی اتحادی بننے والے جنرل پرویز مشرف کی سرپرستی میں بننے والی حکومت کے لئے اعظم طارق نے ووٹ کیوں دیا!؟

کوئی یہ بھی بتادے کہ جنرل پرویز مشرف نے جس ٹولے کو خود ہی دہشت گرد ی کی وجہ سے کالعدم قرار دیا، اسی کے سرغنہ کو الیکشن کیوں لڑنے دیا اور پھر اسی کے ایک ووٹ سے مشرف کی جمہوریت کا پہلا وزیراعظم کیوں منتخب کیا گیا!؟ سال 2018ع کے عام انتخابات کے بعد پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بوزدار کو کالعدم سپاہ صحابہ کے بانی دہشت گرد حق نواز جھنگوی کے بیٹے مسرور جھنگوی کے ایک ووٹ کا محتاج کیوں بنادیا گیا!؟

 

آرمی پبلک اسکول پشاور

 

آرمی پبلک اسکول کے سانحے کی ذمے داری قبول کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے احسان اللہ احسان کے فرار کی رپورٹس کے بعد شہید بچوں کے والدین نے پشاور میں احتجاج کیا۔

 

آج سنی بریلوی جمعیت علمائے پاکستان نیازی گروپ کے سربراہ پیر معصوم حسین شاہ نقوی لا ل مسجد میں مولوی عبدالعزیز کو بے لگام دیکھ کر پریشان ہیں۔

آرمی پبلک اسکول پشاورمیں جام شہادت نوش کرنے والے بچوں کے والدین سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ریاست کے حکام نے اس نوعیت کی آزادیاں اسی ایک ٹولے کے لئے مخصوص کررکھیں ہیں۔

جی ایچ کیو پر خود کش حملے

یہ مخصوص ٹولہ خواہ جی ایچ کیو پر خود کش حملے ہی کیوں نہ کردے، اس کے لئے ریاست دیدہ و دل فرش راہ کئے نظر آتی رہی ہے۔اپنے ملک کے بانی (محمد علی جناح) کو کافر کہنے والے جس ریاست کے لاڈلے اور سگے ہوں، اس کو بیرونی دشمنوں کی ضرورت ہی کب تھی!؟

 

حقائق پر غور و فکر کرنے کی ضرورت

نوجوان نسل کو ان حقائق پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان دشمنوں کے لئے سونے کی کان ہے جبکہ پاکستانیوں کے لئے جہنم بنادیا گیا ہے۔ دشمن یہاں سے فائدے لیتا آرہا ہے۔ مشرف کو تحفے میں گھر اور راحیل شریف کو نوکری دے دینے سے یا ادھار پر تیل دے دینے سے یا سود پر دو تین بلین ڈالر دے دینے سے کوئی ملک دوست یا اچھا قرارنہیں دیا جاسکتا۔

پاکستا ن کو کھربوں ڈالر کا نقصان

حقیقت یہی ہے کہ امریکی بلاک بشمول سعودی و خلیجی ممالک کی وجہ سے پاکستا ن کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ کیونکہ ان ممالک نے پاکستان کو مشکلات کی دلدل میں دھکیلا ہے۔

ان کی وجہ سے پاکستان میں انرجی کا بحران ہے، بجلی گیس نہ صرف قلیل ہے بلکہ مہنگی بھی ہے۔ لیکن امریکی، سعودی و اماراتی مطالبہ یہی ہے کہ پاکستان ایران سے گیس پائپ لائن کے ذریعے گیس نہ خریدے۔ صرف اس ایک وجہ سے پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔

پاکستانی قوم کے خراب امیج کا اصل ذمے دار بھی یہی امریکی مغربی بلاک ہے۔ حتیٰ کہ امریکا،یورپ اور ان خلیجی عرب ممالک تک میں پاکستانی قوم کو گھٹیا سمجھا جاتا ہے۔

حالانکہ دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی انہی ممالک کی اپنی حکومتوں نے مل جل کر ایجاد کی۔ اور کالعدم قرار دیے جانے والے تکفیری دہشت گرد ٹولے ہوں کہ ریاستی حکام یا امریکی مغربی بلاک، یہ سب خود کو حاجی غازی نیک نمازی ہونے کا تاثر دیتے ہیں۔ رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی۔

سانحہ پانچ اگست 2019ع کے بعد

ریاستی حکام امریکی و مغربی بلاک کے کھوکھلے آسروں سے قوم کو بہلا پھسلا نہیں سکتے۔ سانحہ پانچ اگست 2019ع کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے ظلم و ستم کے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ مودی سرکار نے تو مین لینڈ بھارت میں ہی ہندی مسلمانوں کی وطنیت، شہریت، حب الوطنی کو متنازعہ کردیا ہے۔ پنڈی اسلام آباد سے بیانات جاری کردینے سے یا امریکی صدر ٹرمپ کے لارے لپے مسئلہ کشمیر حل کرسکتے ہوتے تو کرچکے ہوتے۔

طالبان و امریکا اگر امن معاہدہ کررہے ہیں تب بھی پاکستان کو اس سے کیا مل جانا ہے!؟ مگر بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کے مصداق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اسے بھی پاکستان کی کامیابی قررار دیتے ہیں۔

امریکا کی نظر میں پاکستان کی اوقات

قریشی صاحب ذرا آسمانوں سے زمین پر آکر دیکھیں کہ آپ جس صدر ٹرمپ کی مدح سرائی کررہے ہیں، یہ وہی ہیں جنہوں نے ہاؤڈی مودی اجتماع میں شرکت کی تھی۔ یہ وہی ٹرمپ ہیں جن کیلئے نمستے ٹرمپ کا اجتماع نریندر امودی نے کیا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی امریکا گئے، جلسہ عام سے خطاب انہوں نے بھی کیا مگر ان کے لاڈلے امریکی صدر ٹرمپ عمران خان کے جلسے میں شریک نہیں ہوئے۔ ٹرمپ نے تو پاکستان کا دورہ تک نہیں کیا۔ یہ اس ریاست کی اوقات ہے! کم از کم امریکا کی نظر میں پاکستان کی یہی اوقات ہے۔

ریاست پاکستان متبادل آپشن

ریاست پاکستان کے پاس ہر حوالے سے متبادل آپشن موجود ہیں مگر پاکستان کے اہم افراد امریکی مغربی بلاک اور اس کے جی سی سی اتحادی کی چاپلوسی کی پرانی پالیسی ترک کرنے پر آماد ہ ہی نہیں ہیں۔ اس پورے خطے میں موجودہ مشکلات کی ذمے داری امریکی بلاک پر ہی ہے۔ اور امریکی بلاک بھی اس سونے کی چڑیا جیسے قیمتی خطے پر اپنا تسلط کھونا نہیں چاہتا۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا کی موجودگی کی وجہ سے وہ محفوظ ہیں، وہ خود فریبی کی اس کیفیت سے نکلیں اور 1980ع کے عشرے کے افغان جہاد سے اب تک کا جائزہ لے لیں۔

جی ایچ کیو پر حملہ

نائن الیون کے بعد امریکی افواج کے خطے میں موجود ہوتے ہوئے حتیٰ کہ پاکستان کی سرزمین پر ہوتے ہوئے بھی دہشت گردوں نے جی ایچ کیو پر حملہ کردیا تو باقی کس گنتی میں ہیں۔

خطے کی صورتحال غیر یقینی ہے ہی اس لئے کہ یہاں امریکی اصل حاکم بن بیٹھے ہیں اور مقامی قیادتیں امریکا سے ڈرتی ہیں۔

خطے میں موجودہ مشکلات کا ذمے دار امریکی بلاک

بلا شبہ اس پورے خطے میں موجودہ مشکلات کی ذمے داری امریکی بلاک پر ہی ہے۔ امریکی بلاک کے لئے یہ خطہ سونے کی کان ہے اسی لئے وہ اس قیمتی خطے پر اپنا تسلط کھونا نہیں چاہتا۔ لگ یوں رہا ہے کہ راحیل شریف جب سے سعودی عرب کے سرکاری ملازم بنے ہیں تب سے پاکستان سعودی عرب کی قدم بوسی کررہا ہے۔

خوش قسمتی سے ریاست پاکستان کے پاس متبادل آپشن تو موجود ہیں مگربدقسمتی سے وہ امریکی مغربی بلاک اور اس کے جی سی سی اتحادی سعودیہ و امارات کی چاپلوسی کی پرانی پالیسی ترک کرنے پر آماد ہ ہی نہیں ہیں۔ اسی لئے نہ صرف خطے کی صورتحال بلکہ خود پاکستان کی اپنی صورتحال بھی غیر یقینی کی کیفیت میں ہے۔

عین علی برائے شیعیت نیوز اسپیشل

 

پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال (پہلی قسط)

پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال (دوسری قسط)

Pakistan Turkey relations remain low due to Saudi Arabia

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close