اہم ترین خبریںپاکستان کی اہم خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

سعودی اماراتی خارجہ پالیسی پر پاکستان کا نقاب

سعودی اماراتی خارجہ پالیسی پر پاکستان کا نقاب

.
مادروطن پاکستان کے ہر غیرت مند فرزند کو معلوم ہے کہ موجودہ حکومت آزاد ومتوازن خارجہ پالیسی پر بھی یو ٹرن لے چکی ۔ اور ہر جاننے والا جانتا ہے کہ یہ یوٹرن امریکی سعودی زایونسٹ بلاک کی بلیک میلنگ کی وجہ سے لیا گیا ہے ۔ اور جو نہیں جانتا ، وہ اس تحریر کو مکمل پڑھے تاکہ جان جائے کہ حقائق کیا ہیں ۔

انصافین حکومت خوفزدہ ہے

ٍوزیر اعظم عمران خان سے لے کر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تک سبھی سعودی بادشاہت کی دھمکیوں سے ڈر چکے ہیں ۔ دھمکیاں تو متحدہ عرب امارات نے بھی دیں ۔ جی سی سی تین گروپ عالم اسلام میں اسرائیل کے سرپرست امریکی حکومت کے غیر قانونی مفادات کا محافظ ہے ۔ جی سی سی تین یعنی سعودیہ ، امارات و بحرین ۔

یہ ان ممالک کی دھمکیاں ہیں کہ ریاست پاکستان اپنے نظریاتی موقف سے ہٹ چکی ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی اور انکی وزارت کے اعلیٰ ترین حکام اور ترجمان خاتون کا موقف پڑھ لیجیے ۔ کہنے کو وہ انٹرنیشنل لاء کے ترانے گنگناتے نظر آتے ہیں مگر انٹرنیشنل لاء کی بدترین خلاف ورزی کرنے والے امریکا کی مذمت نہیں کرتے ۔

بزدلانہ موقف پاکستان کے شایان شان نہیں

یہ بزدلانہ موقف کسی طور پاکستان کے شایان شان نہیں ۔ حالانکہ مذمت بھی محض بیان کی حدتک ہی کرنی ہے مگر خوف کا یہ عالم ہے کہ مذمت تک نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ غیر جانبدار ہیں ۔ مگر انکا عمل انکے اس قول سے متصادم ہے ۔ وہ سعودی اماراتی ڈکٹیشن اور بلیک میلنگ کی وجہ سے انہی کی جانب ہوچکے ہیں ۔ یعنی جانبدار ہیں ۔

انٹرنیشنل لاء کی خلاف ورزی

اسکی ایک مثال عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی افواج کے غیر قانونی فضائی حملوں میں ایران کے فوجی جرنیل حاج قاسم سلیمانی اور عراق کی حشد الشعبی کے کمانڈر ابو مھدی مھندس کی شہادت پر انکا موقف ہے ۔ اگر پاکستان حکومت غیر جانبدار ہے تو انٹرنیشنل لاء کی خلاف ورزی پر ، عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے پر امریکا کی مذمت کیوں نہیں کی ۔

ایران کے لیفٹننٹ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر امریکا کی مذمت اور ایران حکومت سے رسمی تعزیت کیوں نہیں کی ۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عراق اور ایران میں شہداء کے جنازوں میں شرکت کیوں نہیں کی. سعودی سفیر نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کرکے کیا دھمکی دی تھی

.

سعودی اماراتی خارجہ پالیسی

کشمیر ایشو

کشمیر ایشو پر جی سی سی تین کا پورا منافق گروپ بے نقاب ہوگیا ۔ کسی نے پاکستا ن کا ساتھ نہیں دیا ۔ اسکے باوجود ان تین ممالک کو ایران پر ترجیح کیوں دی جارہی ہے ۔ ایک نیوکلیئر مسلم ریاست ہوکر اتنا خوف!. ذرایع ابلاغ کو خصوصی ہدایات کہ سعودی لائن کس طرح بیان کرنی ہے ۔ کشمیر یوں کی حمایت پر آیت اللہ خامنہ ای صاحب کا شکریہ اداکرنا کافی نہیں ہے ۔ بلکہ سعودی عرب کو بھی یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ایران کی طرح امریکا کی غلامی سے آزاد ہوجائے ۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا سہولت کار نہ بنے ۔

امریکی زایونسٹ بلاک کا حصہ

مگر سعودی وہابی بادشاہت اور اسکے اتحادی اماراتی شیوخ دیدہ و دانستہ امریکی زایونسٹ بلاک کا حصہ بن چکے ہیں ۔ پاکستانی قوم کو یاد ہے کہ جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ یمن میں سعودی جنگ میں پاکستان غیرجانبدار رہے گا تو متحدہ عرب امارات کے وزیر انور قرقاش نے پاکستان کو کھلی دھمکی دی تھی ۔

پاکستان کو دھمکی

اپریل 2015ع میں کھل کر کہا تھا کہ پاکستان کو اس کی قیمت اداکرنی ہوگی ۔ تب نواز شریف کی حکومت تھی ۔ عمران خان وزیر اعظم بنے تو سعودی شاہی خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے آل راشد قبیلے کے عبدالرحمان ال راشد نے عرب نیوز کے مقالے میں دھمکی دی ۔ اورریاست پاکستان اس سعودی دھمکی کے آگے ڈھیر ہوگئی ۔

سعودیہ نے دھمکی دی

سعودیہ نے پاکستان کو دھمکی دی کہ ایران یا سعودی عرب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں ۔ سعودی ڈکٹیشن ہے کہ ایران کو خارجہ پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے پر مبنی دباءو میں پاکستان سعودیہ کے ساتھ مل کر اضافہ کرے ۔ سعودیہ نے دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے ایسا نہ کیا تو پھر اس کے برعکس کرنے کے قابل بھی نہیں رہے گا ۔ یہ دھمکی 21اگست 2018ع کو دی گئی تھی ۔

بھارت کو استعمال کیا

اس کے بعد امریکی زایونسٹ سعودی بلاک نے بھارت کو استعمال کیا ۔ 2019ع میں بھارت کی در اندازی ، 5اگست کو کشمیر پر قبضے کو نئی شکل دینا ۔ یہ سب امریکی زایونسٹ سعودی سازش تھی ۔ سعودی عرب سمیت جی سی سی تین نے کھل کر بھارت کا ساتھ دیا ۔ یہ سب کچھ پاکستان کو دی گئی دھمکی کے بعد کے طے شدہ اقدامات تھے ۔

تین ملک پاکستان کے دوست نہیں

سعودی اور اماراتی دھمکیوں کی وجہ سے پاکستان حکومت نے کوالالمپور سربراہی کانفرنس میں شرکت نہیں کی ۔ جی سی سی کے تین ملک پاکستان کے دوست نہیں ہیں ۔ پاکستانی وہاں جاکر خون پسینہ بہاکر رزق حلال کماتے ہیں مگر یہ کام چور بادشاہ ملازمتیں دینے کا احسان جتاتے ہیں ۔ کیا پاکستانیوں کو ملازمتیں دے کر پاکستان کو خرید لیا ہے!. کیا ملازمتوں کا مطلب غلامی ہے!. جی ہاں ، سعودی اماراتی موقف یہی ہے ۔

انٹرنیشنل لاء کی خلاف ورزی

سعودی اماراتی دھمکیاں اور بلیک میلنگ بھی تو انٹرنیشنل لاء کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں ۔ کیا دنیا میں مزدوروں اور ملازمین کے تسلیم شدہ عالمی قوانین کی رو سے سعودی و اماراتی دھمکیاں ناجائز نہیں ۔ اور کیا پاکستان کی ریاست کی موجودہ پالیسی خود ان قوانین کی خلاف ورزیوں پر مجرمانہ خاموشی کے مترادف نہیں

!.

سعودیہ و امارات کا موقف

جو غلام ہیں وہ جانیں اور انکے سعودی و اماراتی آقا جانیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے پاکستان کے شہری اس بیانیہ کو مسترد کرتے ہیں ۔ اسلامی و انسانی قوانین کی رو سے سعودیہ و امارات کا موقف قرآنی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے تو دنیا پر نافذ قوانین کی رو سے بھی ناجائز ہے ۔

دنیا میں پاکستان کا تماشا

ریاست پاکستان اور انصافین حکومت دنیا میں پاکستان کا تماشا نہ بنائے ۔ سعودی ریال ، اماراتی درہم، امریکی ڈالر کی بجائے غیرت کی گولی کھائے ۔ آج اگر ڈٹ کر کھڑے نہ ہوئے تو جس طرح کشمیر پر بھارت نے مکمل قبضہ کرلیا ہے تو کل امریکا نیوکلیئر پروگرام پر بھی ڈکٹیشن پر عمل کروائے گا ۔ ریاستی قیادت اور انصافین حکومت سو پیاز اور سو جوتے کھانے کی قدیم حکایت کو یاد رکھے ۔ یہی سب کچھ آپ کے ساتھ ہورہا ہے ۔ مگر آپ اپنے جھوٹے بھرم پر ڈھٹائی سے جمے ہوئے ہیں ۔

پاکستانی اچھی طرح جانتے ہیں

حیف ہے، ننگ ہے کہ سعودی و اماراتی شیوخ و شاہ کے احکامات کی تعمیل کررہے ہیں ۔ پاکستانی اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودیہ اور امارات نے کیا کہا ہے ۔ مگر آپ اپنے جھوٹے بھرم پر ڈھٹائی سے جمے ہوئے ہیں ۔ آپ نہ تو غیر جانبدار ہیں ، نہ ہی آزاد و خودمختار ۔ اصل میں خوف بھی مصنوعی ہے ورنہ ذاتی مفادات اور لالچ نے یہ دن کھائے ہیں ۔ ایک سعودی ملازم بن چکا ہے تو دوسرا سعودیہ کے پیسوں سے خریدی گئی رہائشگاہ میں رہتا ہے ۔ یعنی آپ لوگوں کی نظر میں پاکستان اپنے ذاتی مفادات کے حصول کا ایک ذریعہ ہے ۔

سعودی اماراتی خارجہ پالیسی پر پاکستان کا نقاب

ہر پاکستانی یہ حقائق جانتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر مصنوعی فضاء ایجاد کرکے حقائق چھپائے نہیں جاسکتے ۔ اصل میں ذاتی مفادات کی وجہ سے بعض اہم حکام نے سعودی عرب اور امارات کی خارجہ پالیسی پر پاکستان کا ٹھپہ لگا دیا ہے۔ حالانکہ سعودیہ و امارات نے بھی امریکا کی پالیسی پر عرب مسلمان ٹھپہ لگایا ہے ۔ جبکہ امریکا نے بھی اسرائیل کی پالیسی کو میڈ ان امریکا کا لیبل لگا رکھا ہے۔

غلام حسین برائے شیعت نیوز اسپیشل

سعودی اماراتی خارجہ پالیسی پر پاکستان کا نقاب

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close