اہم ترین خبریںمقالہ جات

کیا پاکستان کا اسرائیل کے حوالے سے موقف بدل گیا ہے؟؟

تحریر: تصور حسین شہزاد

شیعیت نیوز : یہودی غاصب ہیں، جنہوں نے فلسطین کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کرکے "اسرائیل” کے نام سے ایک ناجائز ریاست قائم کی ہے۔ پاکستان کا اس حوالے سے روزِ اول سے واضح موقف ہے اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے واضح لائن دی تھی کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، اسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ایک چیز یہ بھی واضح رہے کہ ہم عربوں کی وجہ سے مسئلہ فلسطین میں فلسطینی عوام کی حمایت نہیں کرتے، بلکہ ہم ظالم اور مظلوم کے فرق کے پیش نظر مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ عرب اسرائیل کو تسلیم کریں یا نہ کریں، اس سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آئے گی، البتہ عربوں کی یہ منافقت اُمتِ مسلمہ کی پیٹھ میں چُھرا ضرور ثابت ہوگی اور اس سے اُمت کمزور ہوگی۔

متحدہ عرب امارات نے انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کے خون کا سودا کر دیا ہے۔ اپنی اس اوچھی حرکت کو یو اے ای کے معاون وزیر برائے امور خارجہ، ثقافت اور عوامی سفارتکاری انور قرقاش نے ڈیفنڈ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انور قرقاش کا کہنا ہے کہ یو اے ای ایک خود مختار ریاست ہے، جسے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کیلئے فلسطینیوں کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو کے دوران یو اے کے معاون وزیر کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے پاس ایسی کوئی ضمانت نہیں کہ مستقبل میں اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم نہیں کرے گا۔ یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کیساتھ تعلقات معمول پر لاتے اس معاہدے کے باوجود اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے جیسے علاقوں پر اپنی خود مختاری کے دعوے کے اعلان کو صرف معطل کر رہا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں ترکی اور ایران نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل معاہدے کو امت مسلمہ سے غداری قرار دے دیا

انور قرقاش نے انٹرویو کے دوران کہا کہ صدر ٹرمپ نے سب سے پہلے جس حیرت انگیز معاہدے کا اعلان کیا تھا، اس میں ایسی کوئی شرائط نہیں رکھی گئیں اور نہ ہی یہ معاہدہ پتھر پر کوئی لکیر ہے۔ اگرچہ کچھ عالمی رہنماؤں نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے، لیکن فلسطینی قیادت اور دیگر غیور مسلمان ممالک نے اس پر شدید تنقید کی ہے۔ حماس نے اسے فلسطین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا عمل قرار دیا ہے، جبکہ صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کوئی بھی پیشرفت فلسطینی عوام کے بغیر قابل قبول نہیں ہوگی، متحدہ عرب امارات نے فلسطینی عوام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا عندیہ دے دیا، رجب طیب اردوان نے استنبول میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات معطل کرنے یا وہاں سے اپنا سفیر واپس بلانے کے اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ فلسطینی اسلامی گروپ حماس نے کہا کہ اس معاہدے سے فلسطینی کاز میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے "امن معاہدے” کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے فلسطین کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ دراصل متحدہ عرب امارات کیساتھ معاہدہ اسرائیلی قبضے اور جرائم کا صلہ ہے۔ انور قرقاش نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک خود مختار ریاست ہے، جسے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کیلئے فلسطینیوں کی شرائط کی ضرورت نہیں، معاہدے کے ذریعے اسرائیل کی توسیع پسندی کو معطل کر دیا گیا ہے، جس سے دونوں فریقین کو امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا۔ جو کئی بار ناکام ہو چکے ہیں۔

انور قرقاش کے مطابق اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی بحالی کیلئے کسی اور عرب ملک نے کوئی اقدام نہیں کیے، درحقیقت یہ امارات کے ہی قائدین ہیں، جنہوں نے یہ نہایت جراتمندانہ اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسے اقدام کی بجائے اس اصل روح میں دیکھا جانا چاہیئے۔ بے شرمی کی انتہا دیکھیں کہ انور قرقاش نے اس معاہدے کو پورے خطے کیلئے جیت قرار دیتے ہوئے اس کو اُمید کی کرن قرار دیا۔ اماراتی وزیر نے کہا کہ ہم اس معاہدے کو اسرائیلیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقوں کو ضم کرنے کے عمل میں وقفے کی بجائے اسے روکنے کے عزم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ مذاکرات اور تعاون سے فلسطین اور اسرائیل تنازع کے پائیدار حل کیلئے سازگار حالات پیدا ہوں گے، لیکن انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں، یہ محض ہمارا گمان ہے۔ ہم نے اسرائیل پر اعتماد قائم کیا ہے۔

یہی تو یہودیوں کی پالیسی ہے کہ وہ ایسے معاہدے کرتے ہیں، جن میں سقم ہوتے ہیں اور بعد میں اسی سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور فریق مخالف کو اس وقت سمجھ آتی ہے، جب کشتی بیج منجدھار ڈوبنے والی ہوتی ہے۔ یہی کچھ اسرائیل نے یو اے ای والوں کیساتھ کیا ہے۔ راقم نے ایک ماہ قبل ہی لکھا تھا کہ اسرائیل نے دبئی، شارجہ اور العین میں اپنے مراکز بنائے ہیں، جنہیں وہ اپنا "دارالحکومت” بنا کر وہاں سے دنیا بھر کے معاملات آپریٹ کر رہا ہے۔ اب اس اطلاع کی تصدیق ہوگئی ہے اور یہ معاہدہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ ادھر وائٹ ہاؤس سے جاری ہونیوالی ایک پریس ریلیز جسے”فیکٹ شیٹ” کا نام دیا گیا ہے، میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای اور اسرائیل نے مفاہمت کے جس جذبے کا اظہار کیا ہے، اس کا دائرہ مشرق وسطیٰ اور دیگر اسلامی ملکوں تک پھیلنے جا رہا ہے۔ اسرائیل کیساتھ اسلامی ملکوں کو اصل اختلاف یہ تھا کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقے اسے واپس کرکے اس کی آزاد اور خود مختار حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا اور اب اگر اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرتے ہوئے اس کی آزاد حیثیت کو منظور کر لیتا ہے تو سارا اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔

وائیٹ ہاوس کے مطابق اس پیشرفت کے باعت توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ ایک سال کے دوران پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک یو اے ای کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیل کیساتھ اسی نوعیت کے معاہدے کر لیں گے، کیونکہ ایک سال کے اندر فلسطین کی آزاد ریاست کا اصولی خاکہ طے ہو جائے گا۔ ویسے بھی یو اے ای کا پاکستان، خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کی دوسری ریاستوں پر گہرا اثر ہے، جو اس کی درخواست پر اس کی تقلید کرنے کو تیار ہو جائیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر اسلامی ممالک امن، سلامتی اور اپنے عوام کو ترقی کے نئے مواقع سے روشناس کرنے کیلئے نیا انداز اختیار کیا جائے۔ وائٹ ہاوس کے مطابق یو اے ای اور اسرائیل کے معاہدے نے پورے مشرق وسطیٰ میں امن اور خوشحالی کے قیام کی نئی امید پیدا کر دی ہے۔ وائٹ ہاوس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس معاہدے میں امریکہ کے دباؤ کے تحت اسرائیل نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے پر اپنی موجودہ حاکمیت کے دعوے سے دستبردار ہو رہا ہے۔

وائٹ ہاوس کے مطابق "اس کا مطلب یہ ہے کہ اصولی طور پر اسرائیل یہ تسلیم کرچکا ہے کہ تمام مقبوضہ علاقہ فلسطین کو واپس دے گا اور جہاں قائم ہونیوالی فلسطینی ریاست کی جائز آزاد اور خود مختار حیثیت کو اس نے منظور کر لیا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ فلسطین بھی اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرلے۔” یہ وہ کڑی ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، یعنی امریکہ یہ چاہتا ہے کہ فلسطین کو اسرائیل تسلیم کرتا ہے، اب فلسطین بھی اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ یہی تو مسئلہ ہے کہ اسرائیل کو کیوں تسلیم کیا جائے؟ ایک غاصب اور ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے سے پوری دنیا میں بدامنی کو فروغ ملے گا۔ پھر کوئی بھی ملک اُٹھ کر کسی بھی ملک کے زمین پر قبضہ کر لے گا اور بعد میں "امن معاہدہ” ہو جائے گا کہ قبضہ کی گئی زمین آدھی آدھی بانٹ لیتے ہیں۔ اس سے بھارت کو کشمیر پر قبضے کا جواز مل جائے گا۔

پاکستان کی جانب سے قائداعظم کے فرمان کے مطابق پالیسی یہ تھی کہ اسرائیل مکمل طور پر ناجائز ریاست ہے، جسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا، مگر گذشتہ روز پاکستان کی جانب سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق دو ریاستی حل کو تسلیم کرتا ہے، کیوں؟؟ جب اسرائیل ہے ہی ناجائز ریاست تو دو ریاستی حل کیوں؟ دو ریاستی حل کا مطلب اسرائیل جن علاقوں پر قابض ہے، وہ اسرائیل کے پاس رہیں گے اور فلسطین کے پاس جو ڈیڑھ مرلہ رقبہ رہ گیا ہے، اس کا مالک فلسطین ہوگا؟؟ دوسرا یہودیوں نے گوگل سے فلسطین کا نقشہ ہی غائب کر دیا ہے، کیا یہ دو ریاستی حل ہے؟؟ یقیناً یہ اقدامات یہودیوں کی بدنیتی ظاہر کرتے ہیں اور بہت جلد یو اے ای کو بھی احساس ہو جائے گا کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرکے آستین میں سانپ پالا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی حکومت بھی ہوش کے ناخن لے اور امریکی زبان بولنے کی بجائے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرامین کی روشنی میں اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی پر کاربند رہے کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے، اسے قطعاً تسلیم نہیں کریں گے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close