مقبوضہ فلسطین

فلسطین کی تقسیم کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ حماس سربراہ

شیعت نیوز : فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور فلسطین کے سابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ فلسطین کی تقسیم کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور فلسطین کے سابق وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے کل رات یوم الارض کی 44 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ یوم الارض اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ سینچری ڈیل اور اسی طرح قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرانے کی امریکی کوششیں ناکام ہوئیں اور پورے فلسطین میں اسلامی مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔

اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ 1948 کے مقبوضہ علاقوں، قدس اور غرب اردن کے فلسطینیوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور فلسطین ایک ملک ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کے حکم پر سعودی عرب نے فلسطینی شہریوں کو قید کیا۔ محمد البخیتی

واضح رہے کہ فلسطینیوں کے کیلینڈر میں تیس مارچ کی تاریخ یعنی یوم الارض کی خاص اہمیت ہے۔

اسرائیلی حکام نے تیس مارچ انیس سو چھہتر کو فلسطین کے شمالی علاقے میں فلسطینیوں کی ہزاروں ہیکٹر اراضی پر جبری طور پر غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا۔

اسرائیلی حکومت کے اس مجرمانہ اقدام کے خلاف فلسطینیوں نے شدید احتجاجی مظاہرے کیے اور بھوک ہڑتال کی۔ فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہروں کے دوران صیہونی فوجیوں نے ان پر وحشیانہ فائرنگ کر دی جس سے کم سے کم چھ فلسطینی شہید اور سینکڑوں دیگر زخمی ہو گئے۔

فلسطین کی تقسیم کی مناسبت سے فلسطینی عوام خواہ وہ غزہ میں ہوں یا غرب اردن میں ہوں حتی پناہ گزین کیمپوں کے فلسطینی شہری ہوں، ہر سال تیس مارچ کو انیس سو چھہتر کے شہدا کی یاد منانے کے لئے یوم الارض مناتے ہیں اور اپنے مطالبے کے حق میں پرامن مظاہرے کرتے ہیں۔

یوم الارض جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں فلسطینی سرزمین پر غاصبانہ قبضے کے خلاف استقامت کا اعلان اور فلسطین کی ارضی سالمیت کے دفاع پر تاکید ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close