مقبوضہ فلسطین

 فلسطینی گھروں اور تجارتی مراکز کی مسماری پر عالمی برادری کی شرمناک خاموشی

گزشتہ چند ماہ سے غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے خصوصا قدس شریف کے اندر فلسطینی گھروں اور تجارتی مراکز کی مسماری کی ایک نئی اور شدید لہر وجود میں آئی ہے جس پر عالمی برادری نے شرمناک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

عرب اخبار القدس العربی کے مطابق انسانی حقوق کی فلسطینی تنظیم "الحق” نے اپنے ایک بیان میں واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کی جانب سے فلسطینی سرزمین اور مقبوضہ فلسطین کے اندر ہونے والے جرائم اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ عالمی برادری اس قابض رژیم کو سزا دینے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ اس تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے خصوصا قدس شریف کے اندر فلسطینی گھروں اور تجارتی مراکز کی مسماری کی ایک نئی اور شدید لہر وجود میں آئی ہے جس پر عالمی برادری نے شرمناک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

عرب اخبار کے مطابق فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق جاری سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے ہر ماہ اوسطا 31 فلسطینی عمارتیں مسمار کی جاتی تھیں جس کے حساب سے اس عرصے کے دوران کل 186 فلسطینی املاک کو مسمار کیا گیا ہے جبکہ اب صرف گزشتہ 2 ماہ، جولائی و اگست کے اندر اندر ہی غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے 113 فلسطینی املاک کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنے بیان میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینی املاک کی مسماری میں آنے والی شدت کو مغربی کنارے کے خلاف مذموم صیہونی "الحاقی منصوبے” پر عملدرآمد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جاری سیاست و عالمی برادری کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم سے جواب طلب نہ کئے جانے نے اس غاصب رژیم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مزید گستاخ بنا دیا ہے کیونکہ سال 2019ء کے دوران ہر ماہ اوسطا 30 فلسطینی املاک کو مسمار کیا گیا تھا جبکہ سال 2018ء میں یہی تعداد 18 تھی۔

الحق نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران مسمار ہونے والی 44 فلسطینی املاک تمام کی تمام فلسطین کے مقبوضہ صوبے قدس کے اندر واقع ہیں، کہا کہ ان میں سے 16 کے علاوہ 28 فلسطینی املاک شہر مقبوضہ قدس کی حدود میں واقع ہیں۔ اس تنظیم کے مطابق غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے مسمار کی جانے والی فلسطینی عمارتیں ایسے صیہونی اقدامات کا نشانہ بنتی ہیں جن کا کسی طور جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس بیان کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف جنیوا کنونش کی شق نمبر 147 کے تحت کھلم کھلا جرم کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت روم کے آئین (Rome Statute of the International Criminal Court) کے مطابق بھی جنگی جرم شمار کئے جاتے ہیں۔ الحق کے مطابق اپنا دفاع نہ کر سکنے والے غیر فوجی شہریوں کے گھروں پر حملہ سمیت ایسے تمام اقدامات جو شہریوں کو زندگی گزارنے کے اپنے مقامات سے زبردستی بے دخل کرنے کا باعث بنیں نہ صرف جنیوا کنونشن کی شق نمبر 147 اور بین الاقوامی فوجداری عدالت روم کے آئین کی شق نمبر 7 بلکہ اقتصادی، سماجی و ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی چارٹر (International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights) کی شق نمبر 11 کی بھی کھلی خلاف ورزی پر مبنی ہیں جو ہر گھرانے کو میسر پناہ کے حق کی ضمانت فراہم کرتا ہے

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close