مقبوضہ فلسطین

فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے صدر محمود عباس کو ہٹانے کی امریکی بیان کی مذمت

فلسطینی انتظامیہ کے ترجمان نے فلسطینی صدر کو ہٹانے سے متعلق امریکی سفیر کے بیان کی مذمت کی۔

فلسطین کی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق فلسطینی انتظامیہ کے ترجمان نبیل ابوردینه نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ہٹانے اور ان کی جگہ فلسطینی تنظیم فتح کے سابق رہنما محمد دحلان کو نیا صدر بنانے سے متعلق مقبوضہ علاقے میں امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمین کے بیان پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ صرف فلسطین کے عوام ہی اپنے رہنماوں کو منتخب کرتے ہیں۔

نبیل ابوردینه نے کہا کہ امریکہ فلسطینی انتظامیہ پر دباو ڈال کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور امریکہ کی یہ پالیسی بھی ناکام ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہر قیمت پر امن و صلح قابل عمل نہیں ہے اور اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی برقراری اور غرب اردن کا الحاق کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمین نے کہا تھا کہ امریکہ فلسطینی صدر محمود عباس کو ہٹانے کا سوچ رہا ہے اور ان کی جگہ فلسطینی تنظیم فتح کے سابق رہنما محمد دحلان کو فلسطین کا نیا صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close