اہم ترین خبریںپاکستان

علماء امامیہ نے ہفتے کو آل کراچی شیعہ علماء و ذاکرین کنونشن کا اعلان کردیا

محرم الحرام کے دوران ایک منصوبہ بندی کے تحت مذہبی منافرت اور دل آزاری کے کام ہوئے اور انہیں بڑھاوا دینے والے غیرذمّہ داروں نے اپنا منفی کردار ادا کیا

شیعیت نیوز: علماء امامیہ نے ہفتے کو آل کراچی شیعہ علماء و ذاکرین کنونشن کا اعلان کردیا،عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات اس خطے کے لیے اتنی بھیانک ہےکہ جس پر پورا اسلامی ملک پاکستان مخالف ہوسکتا ہے، محرم الحرام کے دوران ایک منصوبہ بندی کے تحت مذہبی منافرت اور دل آزاری کے کام ہوئے اور انہیں بڑھاوا دینے والے غیرذمّہ داروں نے اپنا منفی کردار ادا کیا۔ ہم اس مجموعی ماحول کو ناپسند قرار دیتے ہیں ان خیالات کا اظہار علمائے امامیہ کراچی کی جانب سے نامور شیعہ عالم دین علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی ، مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ سید باقرعباس زیدی ، شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ ڈاکٹر شیخ شبیر میثمی نے درجنوں آئمہ مساجد کے ہمراہ بھوجانی ہال میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔،

علمائے کرام نے کہا کہ ہم بخوبی واقف ہیں کہ خطّے کی صورتِ حال تبدیل ہورہی ہے ، پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہےاور اس کے داخلی مسائل حل طلب ہیں، جہاں عالمی سیاست گزشتہ چند برسوں سے مسلسل فرسودہ اور آزمودہ پالیسیوں سے ہاتھ اٹھاکر نئے انداز میں اچھے دوستوں کی تلاش میں ہے وہاں پاکستان بھی چینج آف بلاک کررہا ہے جو پرانے بلاک کے ممالک کے لیے ناپسندیدہ ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات اس خطے کے لیے اتنی بھیانک ہےکہ جس پر پورا اسلامی ملک پاکستان مخالف ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس میں حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی، پاکستان میں تکفیریوں نے اپنے حصے کاکام کردیا

علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ اُدھر کشمیر میں مسلسل ظلم و بربریت سے توجّہ ہٹانا عالمی شیطانی طاقتوں کا اہم ہدف ہے، جس کے لیے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بھرپور کوششیں ہوئیں اور ہورہی ہیں، چاروں(صوبائی )قومیتوں کی تقسیم جیسے ناپاک عزائم ، اسی طرح مذہبی منافرت بھی اِن پاکستان دشمن عناصر کے لیے ایک بہترین راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے اِس کی مثالیں سامنے آتی رہی ہیں ۔ نواسۂ رسولؐ، جگر گوشۂ بتول ؑ، دلبندِ علی ابنِ ابی طالبؑ کی عظیم قربانیوں کی یاد(یعنی محرّم الحرام جس میں پاکستان کا ہر مکتب و مسلک بلکہ ہر دین و دھرم اپنا حصہ اپنے اپنے طریقوں سے ڈالتا ہے) کے دوران ایک منصوبہ بندی کے تحت مذہبی منافرت اور دل آزاری کے کام ہوئے اور انہیں بڑھاوا دینے والے غیرذمّہ داروں نے اپنا منفی کردار ادا کیا۔ ہم اس مجموعی ماحول کو ناپسند قرار دیتے ہیں اور اتحاد و وحدتِ اُمّت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور اِس میں ہماری کسی طرح کی کوئی دوہری پالیسی نہیں ،کیوں کہ ہم نے اِس ملک میں اس وحدت کی خاطر بہت قربانیاں دی ہیں ، تمام فُقہائے امامیہ کا فتویٰ ہے کہ مُسلّمہ اسلامی مسالک کے مقدّسات کی توہین شرعاً ناجائز ہے لہٰذا ہم مقدسات کی توہین کرنے والوں سے عملاً لاتعلق رہے البتہ شیعیانِ حیدرِ کرّارِؑپاکستان کسی مسلک کے عقائد کو جو خود اُن کے نزدیک مُسلّم نہ ہوں، تسلیم کرنے کے پابند نہیں اور اپنے مُسلّمہ عقائد پر عمل کرنے کا قانونی اور شرعی حق رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عزاداروں پر مقدمات عزاداری کو محدود کرنے کی پالیسی کا تسلسل اور تبدیلی کے دعووں کی نفی ہے، علامہ قاضی نیاز

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ملکی صورتِ حال پرجامع اور بہتر پالیسی مُرتّب کرنے کے لیے مِلّتِ جعفریہ کی جانب سے آل کراچی عُلمائے امامیہ، آئمۂ جُمعہ و جماعت و ذاکرینِ اہلبیت ؑ کا کنوینشن بروز ہفتہ مورّخہ5ستمبر 2020ء بمقام بھوجانی ہال ، سولجر بازار ،کراچی منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران خان اور سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ اشتعال انگیزی، یک طرفہ بلاجوازگرفتاریاں ، اجتماعات کو منافرت کے لیے استعمال کرنا اور سوشل میڈیا پر آزادانہ اور نامناسب انداز سے اختلافات کو ہوا دینے والوں پر توجّہ دیں نیز مغربی ممالک میں قرآن سوزی اور حضرتِ نبی مکرّم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی توہین آمیز خاکہ بندی کی شدید الفاظ میں مذمّت کرتے ہیں اور حکومتِ پاکستان سے سفارتی انداز سے اس مسئلے پر توجّہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close