کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
مقبوضہ فلسطین

اسرائیل کو ایک بار پھر ذلت آمیز شکست، جنگ بندی پر مجبور

قاہرہ میں اقوام متحدہ اور مصر کی کوششوں سے فلسطین کی اسلامی مزاحمتی گروہوں اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی ہو گئی جس پر پیر کی صبح سے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

جنگ بندی سے قبل فلسطین کی اسلامی مزاحمتی گروہوں نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے بارے میں کہا تھا کہ اسرا ئیل کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی پر غیر مشروط طور پر عمل در آمد ہونا چاہئے۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران تقریبا چھے سو میزائل غزہ سے صیہونی علاقوں پر داغے گئے۔ جس میں پانچ صیہونی ہلاک اور ایک سو پندرہ دیگر زخمی ہوئے۔

ہلاک ہونے والے صیہونی فوجیوں میں اسرائیلی فوج کا ایک اعلی انٹیلی جینس افسر بھی شامل ہے جبکہ غزہ پر اسرائیلی حملے میں کمسن اور حتی نوزائیدہ بچوں نیز ایک حاملہ خاتون سمیت ستائیس فلسطینی شہید اور ایک سو ستر زخمی ہوئے-

فلسطین کے اسلامی استقامتی گروہوں کے بھرپور جوابی حملوں کے بعد اسرائیلی حکومت گذشتہ چھے مہینے میں دوسری بار فائربندی پر مجبور ہوئی ہے-

اسرائیل کے جنگی طیاروں نے گذشتہ جمعے سے غزہ پر ہوائی اور توپخانوں کے حملے شروع کئے تھے جن کا فلسطینی گروہوں نے سخت جواب دیا، نتیجے میں صرف چار روز کی جنگ کے بعد ہی مصر اور اقوام متحدہ کی وساطت سے اسرائیل ایک بار پھر جنگ بندی پر مجبور ہو گیا-

دریں اثنا اس جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل عام شہریوں اور فوجیوں کے درمیان کسی فرق کا قائل نہیں ہے۔ دوسری جانب فلسطین کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ غزہ پر صیہونی حکومت کے حملوں میں اب تک ستائیس فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں تین خواتین، تین بچے اور دو نوزائیدہ معصوم فلسطینی بچے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں میں ایک سو ستر فلسطینی زخمی ہوئے ہیں-

اطلاعات ہیں کہ صیہونی حکومت کی وحشیانہ جارحیتوں کے جواب میں جہاں پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں وہیں فلسطینی گروہوں نے صیہونی فوجیوں کی ایک گاڑی کو بھی میزائل سے اڑا دیا ہے-

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مقبوضہ فلسطین کے اندر ایک مسافر ٹرین بھی فلسطینی گروہوں کے میزائل کی زد پر تھی لیکن فلسطین کے اسلامی مزاحمتی گروہوں نے اس مسافر ٹرین کو نشانہ بنانے سے گریز کیا-

فلسطینی گروہوں کے سخت اور بھرپور جواب کے نتیجے میں غزہ کے قریب غیر قانونی صیہونی بستیوں میں رہنے والے صیہونیوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے اور کم سے کم پینتیس فیصد صیہونی یہ علاقے چھوڑ کر دیگر مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں-

اکتوبر دو ہزار اٹھارہ میں اسرائیل کے ذریعے جنگ بندی قبول کئے جانے کے بعد نتن یاہو کی کابینہ کا شیرازہ بکھر گیا تھا اور صیہونی حکومت کے وزیراعظم نے کوشش کی تھی کہ گذشتہ اکتوبر میں فلسطینیوں کے مقابلے میں ہونے والی شکست کا بدلہ لے لیکن اس بار نتن یاہو کو اس سے بھی زیادہ ذلت آمیز شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور چار دن بعد ہی وہ جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہو گیا-

اسرائیل کا آئرن ڈوم بھی فلسطینی گروہوں کے میزا‏ئلی حملوں کو روکنے میں ناکام رہا اور خود اسرائیلی فوج نے بھی اعتراف کیا ہے کہ چار سو سے زائد فلسطینی میزائلوں اور راکٹوں کو آئرن ڈوم ناکام بنانے میں بے بس دکھائی دیا-

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close