اہم ترین خبریںپاکستان

اگر عزاداروں پر ایف آئی آر کاٹنے سے فرصت مل جائے تو ایک نظرالقائدہ کی حامی پروفیسر نگار سجاد پربھی ڈال لیں

حکومتی اداروں سے استدعا ہے کہ خدارا عزاداران امام حسینؑ پر ذکر نواسہ رسولؐ کرنے کے جرم میں مقدمات کے اندراج سے فرصت پا کر اس طرح کے دہشتگرد عناصر اور ان کی نظریاتی آبیاری کرنے والوں کو فی الفور گرفتار کیا جائےتاکہ وطن کے نوجوانوں کو دہشت گردوں کی بھٹی کا ایندھن بننے سے روکا جاسکے۔

شیعیت نیوز: پاکستان کے پھرتیلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملک بھرمیں عزاداران امام حسین ؑ پر یوم اربعین کے موقع پر نکالے جانے والے جلوسوں، مجالس،مشی اور سبیلوں پر مقدمات کے اندراج سے فرصت مل جائے تو ذرا ایک نظر پروفیسرنگار سجاد بھی ڈال لیں جو عالمی وہابی دہشت گرد تنظیم القائدہ برصغیر کے بدنام زمانہ دہشت گردعاصم عمر کی کتب کی اشاعت کرکے نوجوانوں کی برین واشنگ کا کام انجام دے رہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: حسینیت کو محدود کرنے کیلئے شیطانی منصوبہ سازی میں مصروف سعود و یہود کے چیلوں کی عقلیں زائل ہو چکی ہیں،علامہ راجہ ناصرعباس

تفصیلات کے مطابق کراچی یونیورسٹی کی ریٹائرڈ پروفیسر نگار سجاد ظہیر القاعدہ کے امیر عاصم عمر کی کتابیں اعلانیہ طور پر شائع اور فروخت کر رہی ہیں ۔ اس سے قبل انہی خاتون پروفیسر نے شام اور عراق میں داعش کے پراپیگنڈے کو پاکستان میں پھیلانے اور خاص طور پر اہلسنت صوفی بریلوی اور اہل تشیع کے خلاف فرقہ پرستی اور تکفیریت پھیلانے کی کوشش کی تھی ۔

یہ بھی پڑھیں: جلوس اربعین امام حسین ؑ2020 میں عزاداروں کی شرکت، پاکستان کی73 سالہ تاریخ کے ریکارڈ ٹوٹ گئے

حکومتی اداروں سے استدعا ہے کہ خدارا عزاداران امام حسینؑ پر ذکر نواسہ رسولؐ کرنے کے جرم میں مقدمات کے اندراج سے فرصت پا کر پروفیسرنگار سجاد اور اس طرح کے دہشتگرد عناصر اور ان کی نظریاتی آبیاری کرنے والوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے تاکہ وطن کے نوجوانوں کو دہشت گردوں کی بھٹی کا ایندھن بننے سے روکا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:دہشتگرد تنظیمیں پاکستان میں خانہ جنگی کروانے کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہیں، شیخ رشید

پاکستان کے مظلوم عوام نے ستر ہزار سے زائد بے گناہ شیعہ سنی جوانوں، علماء اور اکابرین سمیت فوجی جوانوں کی قیمتی جانوں کی قربانیاں دیکر وطن عزیز میں امن و امان پایا ہے ، جس میں سکیورٹی اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں لیکن پاکستان کی قومی جامعہ کی ایک سابق  استاد کی جانب سے اس طرح کی سرگرمیاں قومی سلامتی کی لئے انتہائی خطرناک ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close