سعودی عرب

خاشقجی کے قتل میں بن سلمان کے ملوث ہونے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

اقوام متحدہ نے سعودی عرب کی طرف سے خاشقجی کے مقدمہ کے خاتمہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاشقجی کے قتل کے معاملے میں سعودی فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

خبررساں ایجنسی نے روسیا الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹراگنس کیلا مار نے سعودی عرب کی طرف سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے مقدمہ کے خاتمہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاشقجی کے قتل کے معاملے میں سعودی عرب کے فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر نے کہا کہ سعودی عرب کے فیصلوں کی قانونی اور اخلاقی لحاظ سے کوئي حیثیت نہیں ہے ۔ اس نے کہا کہ خاشقجی کے قتل میں سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی رپورٹوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اس نے کہا کہ خاشقجی کے قتل میں ابھی تک انصاف کو فتح حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس قتل میں ملوث مجروں کو فتح ہوئی ہے ۔ اقوامتحدہ کی خصوصی رپورٹر نے کہا کہ کہ عالمی اداروں کو خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں انصاف کی حمایت کرنی چآہیے اور سعودی عرب کے فیصلوں کی اس سلسلے میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018ء میں استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے حکم پر بہیمانہ طور پر قتل کردیا گیا تھا اور سعودی عرب نے خاشقجی کی لاش ابھی تک اہلخانہ کے سپرد نہیں کی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close