اہم ترین خبریںپاکستان

قاسم سلیمانی مدافع ایران نہیں بلکہ امت مسلمہ تھے، فلسفہ وحدت الوجود کانفرنس

سکھ کہتے ہیں کہ بابا فرید کا کلام ان کی مقدس کتاب سے نکال دیا جائے تو گرنتھ میں کچھ نہیں رہتا۔

شیعت نیوز: خانقاہیں امن کا گہوارہ ہیں، صوفیاء کا پیغام محبت اور اخوت ہے، اولیاء اللہ نے پوری زندگی تمام مذاہب و مسالک سے پیار کیا ہے، محبت اور پیار کی وجہ سے ہی میاں میر اور بابا فرید مسلمانوں اور سکھوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، سکھ کہتے ہیں کہ بابا فرید کا کلام ان کی مقدس کتاب سے نکال دیا جائے تو گرنتھ میں کچھ نہیں رہتا۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے جمعیت علمائے پاکستان اور سائیں میاں میر فاونڈیشن کے زیراہتمام سجادہ نشین پیر علی رضا گیلانی کی زیر صدارت ” فلسفہ وحدت الوجود کانفرنس ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سےشیعہ سنی علماومشائخ کا وفد قاسم سلیمانی کی تعزیت کیلئے ایران روانہ

جمعیت علما پاکستان کے سربراہ پیر معصوم حسین نقوی، جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ، مولانا راغب نعیمی، پیر قمر سلطان، دیوان عظمت، ڈاکٹر امجد حسین چشتی، علامہ محمد حسین اکبر، صاحبزادہ عقیل حیدر شاہ، پیر اختر رسول قادری، بابا اسلم حیدری، پرویز اکبر ساقی، مولانا عاصم مخدوم، سکھ رہنما ڈاکٹر ایس پی سنگھ اور دیگر نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر اتحاد امت کیلئے کام کرنیوالوں میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ مشرق وسطی سےفی الفور اپنی فوجیں واپس بلائے،شیعہ سنی علمائے کرام کا مشترکہ مطالبہ

علامہ محمد حسین اکبر نے پیر علی رضا گیلانی کی خدمت میں مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، خطوط اور کلمات حکمت کے مجموعہ نہج البلاغہ کا نسخہ بھی پیش کیا۔ پیر علی رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ فلسفہ وحدت الوجود عزت و احترام کا نام ہے، یہ فلسفہ درویشوں کا دل ہے، جسے کوئی معمولی مولوی نہیں سمجھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ اس وقت تک سجدہ ریز نہیں ہوتے جب تک معبود برحق اللہ تعالی کو اپنے سامنے نہ پا لیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن محبت اور بھائی چارہ ہے، اقلیتوں کا احترام کیا جاتا ہے۔ یہاں سکھ، ہندو مسیحی، پارسی کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے دھشتگرد تکفیری اثاثے وزیر دفاع کی آغوش میں۔۔ کیا ایسے بنے گا محفوظ پاکستان ؟؟

پیر معصوم نقوی نے فلسفہ وحدت الوجود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محبت رواداری اور اخوت اولیاء اللہ کا پیغام ہے، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے صوفیاء کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ صوفیا کے ماننے والوں نے ہی طالبان داعش اور القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کا مقابلہ کیا اور ان کو مار بھگایا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے درمیان مزید ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ معصوم نقوی کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت تنہا امریکہ کا مقابلہ کر رہا ہے، امت مسلمہ کو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: قاسم سلیمانی کی شہادت اسلامی معاشرے کی مزید بیداری کیلئے ایک نوید ہے، علامہ امین شہیدی

علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ صوفیا کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر معاشرے کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ صوفیا نے امن کا پیغام دیا اور ہر مذہب کا احترام کرتے تھے اور اپنے پیرو کاروں کو بھی احترام کا درس دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی پر نہیں بلکہ امت مسلمہ پر حملہ کیا ہے، وہ ایران کے نہیں بلکہ امت مسلمہ کا دفاع کر رہے تھے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close