اہم ترین خبریںایرانشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

حاج قاسم سلیمانی کی زندگی پر ایک مختصر نظر(حصہ اول)

حاج قاسم سلیمانی کی زندگی پر ایک مختصر نظر

حاج قاسم سلیمانی کی زندگی پر ایک مختصر نظر 

(پہلا حصہ)

عمار حیدری برائے شیعت نیوز اسپیشل
ایران کے فوجی جرنیل حاج قاسم سلیمانی امریکی افواج کے غیر قانونی حملے میں عراق کے دارالحکومت میں شہید ہوگئے۔
 امریکا اور اسکے اتحادیوں کی استکباری سازشوں کو پچھلے چار عشروں میں  ناکام بنانے والے لیفٹنٹ جنرل سلیمانی نے موت کا ذائقہ بھی اس طرح چکھا کہ خود ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید امر ہوگیا اور امریکی بلاک کو ذلیل و خوار،  رسوا کرگیا۔

یقینا بہت کچھ لکھا جاچکا اور بہت کچھ لکھا جانا باقی ہے۔  بعض احباب کی فرمائش ہے کہ انکا ایک پروفائل لکھا جائے۔  اس حکم کی تعمیل میں یہ تحریر پیش خدمت ہے۔ ​

حاج قاسم سلیمانی کی زندگی

ایران کے صوبہ کرمان کے شہر۔۔ رابر۔۔ کے دیہی علاقے قنات ملک میں 20اسفند 1335 ہجری شمسی میں قاسم سلیمانی کی ولادت ہوئی۔  13برس کی عمر میں انہوں نے پرائمری تعلیم کی تکمیل پرشہر رابر کو خیرباد کہا۔  18برس کی عمر تھی کہ محکمہ آب میں کنٹریکٹ پر ملازمت اختیار کی۔
 البتہ جسمانی کسرت اور کراٹے انکا پسندیدہ شعبہ تھا۔  اس شعبے میں استاد بھی تھے۔ حاج قاسم سلیمانی کے بھائی سہراب سلیمانی کا کہنا ہے کہ شہید حاج قاسم ان سے سات برس بڑے تھے۔  سہراب،  صوبہ تہران کے محکمہ جیل خانہ جات کے منتظم ہیں یعنی آئی جی جیل خانہ جات تہران۔  

قاسم سلیمانی کے بھائی سہراب سلیمانی

وہ کہتے ہیں کہ چھ بہن بھائیوں میں حاج قاسم سلیمانی سے بڑی ایک بہن ہیں جن کی عمر ساٹھ برس ہے۔  انکے والد کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔  انکی زندگی ایک دیہاتی یا قبائلی کی مانند ہوا کرتی تھی۔ جب حاج قاسم ادارہ آب میں ملازمت کیا کرتے تھے۔  تب سہراب اورانکے دو خالہ زاد بھائی زیر تعلیم تھے۔  ان دنوں یہ چاروں افراد کرمان میں کرائے کے کمرے میں رہا کرتے تھے۔ ​
سہراب سلیمانی کے مطابق جوں ہی سپاہ پاسداران نے ملکی دفاع کے لئے عام بھرتی کا اعلان کیا تو حاج قاسم نے نوکری چھوڑ کر پاسدار بننا قبول کیا۔

رہبرمعظم سے آشنائی

البتہ ایک اور رپورٹ کے مطابق انقلاب سے دو سال قبل ماہ رمضان میں مشہد سے حجت الاسلام رضا کامیاب تبلیغی دورے پر کرمان آئے۔  ان سے آشنائی ہوئی توقاسم سلیمانی انقلابیوں سے جاملے۔
گوکہ مشہدی عالم کو منافقین خلق نے شہید کردیا مگر اسی دوران قاسم سلیمانی مشہد ہی سے تعلق رکھنے والے ایک اور عالم دین سید علی خامنہ ای کے نام سے آشنا ہوچکے تھے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی لشکر ثاراللہ

وہ  انقلاب کے لئے کام کرنے لگے تھے۔  انقلاب کامیاب ہوگیا۔ اسی دوران وہ سپاہ میں شامل ہوگئے۔
 انہیں کرمان میں پاسداران کے لشکر ثار اللہ 41میں شامل کیا گیا تھا۔ 23برس کی عمر میں انہیں ایران کے انقلابی دفاعی نیم فوجی دستے لشکر ثار اللہ کی مسؤلیت دی گئی۔  
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ محسن رضائی کی جانب سے یہ فیصلہ ہواتھا۔ مگر منطقہ 6کے سربراہ محمود اشجع اس حکم سے متفق نہیں تھے۔ ​

بنی صدر کی خیانت

البتہ یہ بھی یاد رہے کہ صدام کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ اور اس وقت کے منافق ایرانی صدر ابوالحسن بنی صدر کی جانب سے خیانت کی وجہ سے ایرانی افواج ملکی دفاع کرنے میں ناکام ہورہیں تھیں۔
یہی وجہ بنی کہ جب ​شہریورسال 1359 ہجری شمسی میں صدام نے ایران پر جنگ مسلط کردی تو قاسم سلیمانی کرمان سے ملک کے جنوبی محاذ پر نیم فوجی دستے بھیجنے لگے۔ 

ملکی دفاع میں پیش پیش

خودایک دستے کے ساتھ سوسنگرد گئے۔مالکیہ کے محاذ پر دشمن کی پیش قدمی کو روک کر اپنے کنٹرول میں لائے۔
 اور یہی ابتدائی اقدامات تھے کہ بعد میں آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے مختلف مراحل
بشمول والفجر 8آپریشن میں موثر طور پر حصہ لیا۔ اسی سے فاوکے محاذ پر فتح ہوئی۔
کربلائے 4 اورکربلائے 5 سے تک شلمچہ تک کے انکا موثر کردار رہا۔ کرمان سے جب محاذ پر گئے تو بعد ازاں اہوز کے علاقے حمیدیہ کے ایک محاذ پر کرخہ نور آپریشن کے دوران انہیں ایک دستے کا معاون سربراہ بھی بنایا گیا۔​

حاج قاسم محاذ کی سربراہی

 اس وقت صوبہ کرمان کے سابق آئی جی جیل خانہ جات مہاجری اس دستے کے سربراہ تھے۔ سہراب سلیمانی تب ان مشقوں میں شریک تھے۔
انہی کی وجہ سے سہراب کو بھی محکمہ جیل اور عدلیہ میں شمولیت کا شوق ہوا تھا۔  البتہ مہاجری صاحب کے زخمی ہونے پر حاج قاسم کو دستے کا سربراہ مقرر کیا گیا۔  

سہراب سلیمانی

چونکہ سہراب کمسن تھا اور محاذ پر مطلوبہ اہلیت کا حامل نہیں تھا۔ حاج قاسم چاہتے تھے کہ سربراہ کے بھائی ہونے کے لحاظ سے مکمل طور پر نظم و ضبط کا پابند رہے مگر کمسنی کی وجہ سے پابند نہیں رہ پاتا تھا۔
اسی وجہ سے حاج قاسم پریشان رہا کرتے تھے۔ اسی لئے اس وقت سپاہ سے سہراب کو خارج ہونا پڑا۔  البتہ بعد میں دوبارہ شمولیت اختیار کی اور نظم و ضبط کی پابندی بھی کی اور حاج قاسم کے ساتھ محاذوں میں شریک بھی رہا۔ ​

مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے بعد

چونکہ بنیادی طور پر وہ ایران کی انقلابی دفاعی فوج پاسداران کے لشکر ثار اللہ 41 کرمان کے کمانڈر تھے،  اس لئے جنگ ختم ہونے پر کرمان لوٹے۔  یہاں سے انہیں ایران کے مشرق میں واقع  دشمنانہ حملوں سے نمٹنے کا کام سونپا گیا۔  یہ شرپسند خاص طور پر افغانستان کی سرزمین سے ایران میں در اندازی کیاکرتے تھے۔

قدس فورس کی سربراہی

 البتہ جب انہیں قدس فورس کی سربراہی ملی تو وہ خطے میں اسرائیلی توسیع پسندانہ عزائم اور امریکی مداخلت کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی طرف متوجہ ہوئے۔​
سال  1376ہجری شمسی تک سہراب زنجان میں تھا، وہاں سے کرمان آیا اور پھر تہران ہجرت کی۔  حاج قاسم لشکر ثار اللہ کی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوئے تو انہیں سال 1379ع میں انہیں رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے پاسداران انقلاب اسلامی کی سپاہ قدس کا سربراہ مقرر کیا۔  

لیفٹننٹ جنرل سپھد نشان ذوالفقار سلیمانی

چار بھمن 1389ع کو امام خامنہ ای نے انہیں مزید ترقی اور زندہ شہید کے عنوان سے نوازا۔  تب سے وہ فوجی لحاظ سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔  انکے عہدے کو فارسی میں سپھبد کہا جاتا ہے۔  رہبر معظم نے انہیں ایران کا اعلیٰ ترین نشان ذوالفقار بھی عطاکیا۔  یہ انکی خدمات کا اعتراف تھا۔ ​

(پہلا حصہ)

عمار حیدری برائے شیعت نیوز اسپیشل
چونکہ ایران میں اسلامی ہجری شمسی کیلنڈر رائج ہے اس لئے ماہ و سال ایرانی کیلنڈر کے مطابق ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close