اہم ترین خبریںایرانشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

حاج قاسم سلیمانی کی زندگی پر ایک مختصر نظر (حصہ دوم)

فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور حماس کے مرکزی رہنما اسماعیل ہنیہ نے انہیں شہید قدس یعنی بیت المقدس کی آزادی کی جنگ کا شہید قرار دیا۔

حاج قاسم سلیمانی کی زندگی پر ایک مختصر نظر

دوسرا حصہ

عالم انسانیت کا مدافع

حاج قاسم سلیمانی کی زندگی

حاج قاسم سلیمانی کی خدمات محض ایران کے ملکی دفاع تک محدود نہیں تھیں۔ انہوں نے نہ صرف عرب اور مسلمانوں کے دفاع کی جنگ لڑی بلکہ پوری انسانیت کو دہشت گردی کے بہت بڑے خطرے سے نجات بھی دی۔ اگر تکفیری دہشت گرد گروہوں کو شام اور عراق میں نہ کچلا جاتا تو یہ یورپ اور امریکا تک بھی کھل کر کارروائیاں کرتے۔

 

امریکی اور یورپی حکومتیں اور ادارے اگر کسی کام کے ہوتے تو افغانستان کا آج یہ حال نہ ہوتا۔ بلکہ انکی موجودگی میں القاعدہ، داعش اور جبھۃ النصرہ یا ان جیسی ان گنت دہشت گرد تنظیمیں وجود میں آئیں۔ خدا بھلا کرے حاج قاسم سلیمانی اور انکی قدس فورس کا کہ انہوں نے انسانیت کو تکفیری دہشت گردی سے بچایا۔

سپہ سالار سلیمانی کا قانونی کردار

البتہ یہاں یہ بھی یہ یادرہے کہ حاج قاسم سلیمانی اور انکی ٹیم کے کردار کی قانونی حیثیت تھی۔ کیونکہ، شام اور عراق کی حکومتوں کی درخواست پر ایران حکومت کی طرف سے انہیں فوجی مشاورت و تعاون کے لئے مقرر کیا جاتا رہا۔

اور جب وہ تین جنوری کو علی الصبح بذریعہ ہوائی سفر دمشق سے بغداد پہنچے، تب بھی وہ عراق حکومت کے مہمان تھے۔

 

عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے آن ریکارڈ کہا ہے کہ جمعہ تین جنوری 2020ع حاج قاسم سلیمانی سے انکی ملاقات طے تھی۔ شام اور عراق دونوں ملکوں میں انکے کردار کی قانونی حیثیت تھی۔

اس لئے قانونی لحاظ سے امریکا خود مجرم ہے کیونکہ امریکی مشترکہ فوجی کمان نے انہیں غیر قانونی طریقے سے قتل کیا۔

فلسطین اور لبنان میں کردار

اب اس صورتحا ل کے اس پہلو پر بات کرلی جائے کہ وہ فلسطینی اور لبنانی قومی مزاحمتی تحریکوں کی بھی مدد و حمایت کیا کرتے تھے۔ اصل میں اس مدد پر اعتراض کرنے والوں کوتاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے کیو نکہ تنظیم آزادی فلسطین کی مسلح تحریک کو تقریباً سارے اہم اور بڑے عرب ممالک کی حمایت اور مدد حاصل رہی ہے۔

یاسر عرفات سمیت بہت سے فلسطینی رہنما عرب اور مسلمان دنیا میں ہیرو کے درجے پر تھے۔

یہاں یہ بھی یاد رکھا جانا چاہیے کہ عرب سرزمین فلسطین پر نسل پرست یہودی ریاست اسرائیل کے ناجائز قیام کے خلاف عرب ممالک کی افواج نے باقاعدہ جنگیں لڑیں ہیں۔ تو اسرائیل کے ناجائز قبضے سے آزادی کے لئے مسلح تحریک کا سلسلہ نہ تو ایران نے شروع کیا اور نہ ہی حاج قاسم سلیمانی یا حزب اللہ نے۔

پہلے سے اسکی نظیر موجود تھی۔ اور اسرائیل کے خلاف جنگیں لڑنے والوں میں کوئی سوویت بلاک کا حصہ تھا تو کوئی امریکی مغربی بلاک کا حصہ تھا۔

تو کیا تنظیم آزادی فلسطین عرب حکمرانوں کی پراکسی تھی!؟

قدس فورس اور بیت المقدس کی آزادی

یہی وجہ تھی کہ حاج قاسم سلیمانی اور انکی قدس فورس نے مشرق وسطیٰ میں عرب علاقوں کو اسرائیل کے قبضے سے نجات دلانے کی جدوجہد کرنے والی فلسطینی اور لبنانی قومی مزاحمتی تحریکوں کی درخواست پر انکی مدد کی۔ اور انکے اس شجاعانہ کردار کا اعتراف فلسطین کی منتخب قیادت و حکومت حرکت مقاومت اسلامی یعنی حماس اور حزب جہاد اسلامی فلسطین دونوں ہی نے کیاہے۔ یہ دونوں حاج قاسم سلیمانی کی خدمات کی معترف ہیں۔

 

اسی طرح لبنان کی منتخب نمائندہ پارلیمانی جماعت اور تحریک مزاحمت حزب اللہ بھی انکی خدمات کا برملا اعتراف کرتی ہے۔ یہ فلسطین اور لبنان میں عوام کی نمائندہ قیادتوں کا موقف ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملوں، ظلم وستم اور قبضوں کے خلاف انکے دفاع میں قاسم سلیمانی کا کلیدی کردار تھا۔

 

حاج قاسم شہید قدس، شہید قدس اور شہید قدس ہیں

یہی وجہ تھی کہ جب حاج قاسم سلیمانی کو امریکی افواج نے غیر قانونی حملے میں شہیدکردیا تو فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور حماس کے مرکزی رہنما اسماعیل ہنیہ نے انہیں شہید قدس یعنی بیت المقدس کی آزادی کی جنگ کا شہید قرار دیا۔ محصور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں نے حاج قاسم کی شہادت پر تعزیتی کیمپ لگایا۔

سنی، عیسائی، ایزدی، عرب کرد کا ہیرو

سنی عرب ہوں یا کرد ہوں، یا پھر مسیحی و ایزدی، عراقی ہوں یا شامی، لبنانی و فلسطینی، سبھی انکے احسانات کے بوجھ تلے دبے دکھائی دیتے ہیں۔

تکفیری دہشت گردگروہ داعش کی وحشیانہ دہشت گردی سے نجات دلانے والے اپنے محسن نجات دہندہ کو بھلا کون فراموش کرسکتا ہے۔ سبھی مانتے ہیں، رسمی اعتراف کرتے ہیں اور تحسین آمیز نامہ ہائے تشکر ارسال کرچکے ہیں کہ حاج قاسم سلیمانی کی مدد نے انہیں داعش دہشت گردوں سے نجات دلائی۔

امریکا اور یورپ کا بھی محسن

یورپ اور امریکا کے عوام کو بھی کوئی بتائے کہ یہ نیٹو فورسز تھیں کہ جن کی موجودگی میں القاعدہ اورداعش معرض وجود میں آئیں۔ اور اس کے برعکس یہ حاج قاسم سلیمانی، انکی قدس فورس یا سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران ہے کہ جنہوں نے القاعدہ اور داعش کے دہشت گردوں کا قلع قمع کیا۔

مدافع حرم آل رسول اللہ ﷺ

وہ کردار جو انہیں اسلام کے غیرت مند فرزندوں کی نظر میں سورما بنا گیا، وہ حاج قاسم کی جانب سے مقامات مقدسہ کے تحفظ کی دفاعی جنگ تھی۔ رسول اکرم حضرت محمد ص کی نواسی بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے حرم مطھر، صحابہ کرام حضرت جعفرطیار، حضرت حجر بن عدی، حضرت اویس قرنی رضوان اللہ تعالی علیہم، اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے مزارات مقدسہ کے دفاع کی جنگ کا سالار بھی حاج قاسم سلیمانی تھا۔

یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام و عرب میں حاج قاسم سلیمانی کو محبت، احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اور یہی وجہ سبب ہے کہ فلسطینی یا لبنانی تنہاسوگوار نہیں۔ ایران تو خیر ملک ہی سلیمانی کا تھا۔ مگر، عراق اور شام سے لے کر پاکستان اور ہندوستان تک حاج قاسم سلیمانی کو عالم اسلام و عرب کے سورما اور دیومالائی ہیرو کی حیثیت سے یاد رکھا جارہا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل قاسل سلیمانی کی مظلومانہ شہادت پر عالم اسلام وعرب میں رائے عامہ کا یہ موڈ امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایک ریفرنڈم ہے۔ عالم اسلام و عرب حاج قاسم سلیمانی اورانکے ساتھ شہید ہونے والے ابومھدی مھندس اور دیگر شہداء کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔

عمار حیدری برائے شیعت نیوز اسپیشل

حاج قاسم سلیمانی کی زندگی پر ایک مختصر نظر پہلا حصہ

Also Read:

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close