اہم ترین خبریںپاکستان

جناب زہرا ؑ نےزخمی بدن کیساتھ سخت اور مشکل حالات کے باوجود ولایت کا دفاع کیا،قاضی نیازحسین نقوی

لامہ نیاز نقوی نے کہا کہ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کا اسلامی ملک و معاشرہ میں منانا ہرگز درست نہیں

شیعت نیوز: امامت و ولایت کا دفاع خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے جہاد کا اہم پہلو ہے، ایک عورت ہوتے ہوئے، زخمی بدن کیساتھ سخت اور مشکل حالات کے باوجود ولایت کا دفاع کیا، مہاجرین و انصار کے گھر جا کر انہیں یاد دلاتی رہیں کہ کیا علی ؑ کے حق میں پیغمبر کے فرامین بھول گئے ہو؟ غدیر کو زیادہ دن تو نہیں گزرے، کیا اتنی جلدی پیغمبر ِ اسلام کو بھول گئے ہو؟ آپ نے ہر لحاظ سے صحابہ کرام کو امامت کے بارے رسول اکرم کے فرامین یاد دلائے، اِس عظیم ہستی کی عظمت اِس حوالے سے بھی قابل ِ غور ہے کہ اسلام کیلئے جو خدمات ان کے والد بزرگوار، ان کے شوہر ِ نامدار، بیٹے اور بیٹیوں کی ہیں، وہ کسی اور کی نہیں۔ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اورملی یکجہتی کونسل پاکستان کے نائب صدرعلامہ  قاضی نیازحسین نقوی نے جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جناب سیدہ زہراؑ کی عظمت کو جاننے کیلئے محمد و آل محمد ص کی معرفت ضروری ہے،علامہ راجہ ناصرعباس

انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کی 41ویں سالگرہ کے موقع پر رہبر معظم، مراجع عظام اور ملت ایران کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، جنرل قاسم سلیمانی کا چہلم بھی منایا گیا، تہران میں سپاہ ِ پاسدارن کی طرف سے منعقدہ چہلم کی تقریب میں حضرت علامہ سید ریاض حسین نجفی نے شرکت کی۔ اِس موقع پر شہید جنرل قاسم سلیمانی کا وصیت نامہ بھی پیش کیا گیا جس میں رسالت و امامت کے سلسلہ کے بعد ولایت ِ فقیہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ولی فقیہ حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی اطاعت کی تاکید کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے بچاو کیلئے دعاء، توبہ و استغفار سے اور متاثرین کی صحتیابی کیلئے دعا کرنا چاہیے۔ قاضی نیازحسین نقوی نے کہا کہ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کا اسلامی ملک و معاشرہ میں منانا ہرگز درست نہیں، بالخصوص نامحرم لڑکے اور لڑکیوں کا اظہار ِ محبت، فعل ِ حرام اور اخلاقی فساد کا موجب ہے، اِس طرح کی خرافات سے اجتناب کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ سہون شریف پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے، سید علی حسین نقوی

قاضی نیازحسین نقوی نے کہا کہ محرم و صفر کی طرح جمادی الثانی میں بی بی کی یاد میں منانی چاہیے کیونکہ ان جیسا کوئی مظلوم نہیں، آپ کی سب سے بڑی مظلومیت یہ ہے کہ 1500 سال بعد بھی اِن پر ہونیوالے مظالم کے واقعات بیان نہیں ہو سکتے، اگر کوئی جرات کر کے کوئی بات کر بھی لے تو اس کی سخت مخالفت اور مقدمات تک نوبت آ جاتی ہے جیسا کہ گزشتہ دنوں ایک خاتون کی اِس حوالے سے ہونیوالی حق بات کے بعد ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناب سیدہ کے شہادت و ولادت کے ایام میں اِن کے خطبات کا ذکر بہت ضروری ہے جن سے اِن کی شخصیت کے کئی پہلو اجاگر ہوتے ہیں بالخصوص عبادت، ایثار، علم، صبر اور امامت و ولایت کی حمایت و دفاع جنابِ سیدہ نے حضرت علی کا دفاع اپنے شوہر کی حیثیت سے نہیں بلکہ امام ِ وقت، نمائندہ خدا اور ولی خدا کی حیثیت سے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کی بڑی کاروائی، کالعدم وہابی دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی کے دودہشتگردہلاک

علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ حضور کا فقط اِسی ہستی کیلئے یہ فرمان ہے "ابنتی فاطمہ سیدةالنساءالعالمین” میری بیٹی فاطمہ کائنات کی عورتوں کی سردار ہے، امام محمد باقر، امام محمد جعفر صادق اور امام زمانہ نے اِس بی بی کو اپنے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا، قرآن نے پیغمبر اکرم کو اسوہ حسنہ قرار دیا تھا اِسی طرح اِن معصوم آئمہ نے بھی آپ کو اسوہ حسنہ کہا ہے، آپ کے فضائل و مناقب بہت زیادہ ہیں جن میں سے سورہ الکوثر کا مصداق ہونا بہت بڑی فضیلت ہے۔ پیغمبر اکرم کے بیٹے عبداللہ کی رحلت کے بعد دشمن آپ کو ابتر کا طعنہ دیتے تھے، یعنی جس کی نسل ختم ہو چکی ہو، عمرو ابن عاص کا والد عاص بن وائل اکثر اِسی لفظ ابتر کے ذریعہ آپ کی شان میں گستاخی کرتا تھا تو آپ پر سورہ کوثر نازل ہوئی۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close