مقالہ جات

قاضی شریح کے متعلق چند حقائق

یزید کو خلافت جب منتقل ہوئی تو یہ کوفہ میں تھے اور امام حسین ع کو خط لکھنے والوں نے قاضی شریح سے گواہی دلوائی تھی کہ یہ لوگ اہلبیت(ع) کے چاہنے والوں میں سے ہیں

شیعت نیوز: آ جکل ان ایّام میں قاضی شریح کے متعلق کافی گفتگو ہو رہی ہے۔ کئی لوگوں نے اس بابت ہم سے پوچھا تو کچھ حقائق پیش کئے تھے جن کو مرتب تحریری شکل میں آپ احباب تک پہنچا رہا ہوں۔

قاضی شریح کو خلیفۂ دوّم حضرت عمر بن خطاب (ر) نے پہلی دفعہ کوفہ میں قضاوت کے عہدے پر فائز کیا تھا یعنی جج مقرر کیا تھا۔ حضرت عثمان(ر) نے بھی ان کو اس عہدے پر برقرار رکھا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مولا علی(ع) نے بھی ان کو قاضی برقرار رکھا اور بنا بر روایتی ماہانہ مبلغ پانچ سو درہم ان کی تنخواہ مقرر تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس وقت تک ثقہ اور مورد اعتماد تھے۔ حضرت امام حسن ع کے مختصر دورہ خلافت میں بھی قاضی برقرار رہے۔ البتہ یہ روایت بھی ملتی ہے کہ امام علی ع نے کچھ غلط فیصلوں کی وجہ سے شریح کو قاضی کے عہدے پر کسی دوسرے شہر بھیج دیا تھا، اور بعد میں اس کو کوفہ دوبارہ بلا لیا گیا۔

امیر شام نے بھی اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان کو قاضی مقرر کیا اور جب زیاد بن ابیہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تو یہ ان کا دست و بازو بن گیا۔ ایک طرح سے یوں کہہ لیں کہ دو سابقہ محبان مولا علی(ع) آپس میں دوست بن گئے تھے۔ زیاد اپنے اہم کاموں کے معاملے میں انہی سے مشاورت کرتا تھا۔ حضرت حجر بن عدی(ر) کے خلاف گواہی دینے والوں میں بھی شریح کا نام نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یمنی مزاحمت کا ایک اور جوابی وار

یزید کو خلافت جب منتقل ہوئی تو یہ کوفہ میں تھے اور امام حسین ع کو خط لکھنے والوں نے قاضی شریح سے گواہی دلوائی تھی کہ یہ لوگ اہلبیت(ع) کے چاہنے والوں میں سے ہیں۔ عجب بات یہ ہے کہ ان 72 لوگوں کے گروہ میں حبیب ابن مظاہراور مختار ثقفی کے ساتھ ساتھ عمر بن سعد بھی موجود تھا۔ بعد ازاں ان میں سے اکثر لوگوں کے ساتھ ساتھ قاضی شریح بھی اپنی دعوت و گواہی سے پھر گیا تھا۔ عبیداللہ ابن زیاد کو جب گورنر نامزد کیا گيا تو اس کو زیاد سے دوستی یاد آگئی اور عبیداللہ ابن زیاد سے قریب ہو گيا۔ ابن زیاد کو اس وقت کوفہ میں معتبر شخصیات کی ضرورت تھی تاکہ ان کی مدد سے یزید کی حکومت کو مستحکم کر سکے۔

قاضی شریح کا کردار کوفہ کے حالات میں بخوبی واضح ہوتا ہے۔ حضرت مسلم بن عقیل جب حضرت ہانی بن عروہ کے گھر میں مقیم تھے، عبیداللہ ابن زیاد نے ہانی کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے پکڑ لیا تھا تاکہ ان سے مسلم بن عقیل کے متعلق پوچھا جا سکے۔ کوفہ میں یہ بات پھیل گئی کہ ہانی بن عروہ کو عبیداللہ ابن زیادہ نے قتل کر دیا ہے۔ یہ بات سن کر قبیلۂ مذحج کے جنگجوؤں نے ہانی بن عروہ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے عبیداللہ ابن زیاد کے قصر کا محاصرہ کر لیا۔ اس وقت جبکہ ہزاروں لوگ مسلم بن عقیل کے ہاتھ بیعت تھے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد تلوار لئے کوفہ کی گلیوں میں موجود تھی، ابن زیاد کو ان حالات میں اپنی موت قریب نظر آ رہی تھی۔ پریشانی کے عالم میں اس نے قاضی شریح سے کہا کہ لوگوں کو جا کر بتا دو کہ ہانی زندہ ہے اور خیر و عافیت سے ہے۔ قاضی شریح بپھرے ہوئے ہجوم میں گیا اور ان کو یقین دلایا کہ ہانی زندہ ہے اور امیر نے بہت عزت و احترام کے ساتھ اپنے پاس رکھا ہے۔ قاضی شریح چونکہ برسوں سے کوفے کا قاضی تھا لہذا لوگ ان کا کافی احترام اور ان کی بات کا یقین کرتے تھے۔ قاضی کی بات سن کر پورا ہجوم منتشر ہو گيا اور اس طرح ابن زیاد کی گلوخلاصی ہوئی۔ اگر قاضی شریح یہ کہتا کہ ہانی زندہ ہے لیکن بہت بری طرح زخمی ہے اور ابن زیاد نے ان کو قید کیا ہوا ہے تو یہ ہجوم دارالامارہ میں داخل ہو جاتا اور ابن زیاد مارا جاتا، اور شاید اس وقت تاریخ کا رخ کچھ اور ہی ہوتا، کیونکہ امام حسین ع بہت آرام سے کوفہ داخل ہو جاتے۔

یہ بھی پڑھیں: کربلا اور ہمارا نصاب

جناب مختار ثقفی نے جب کوفہ کی حکومت حاصل کی تو یہ قضاوت کے عہدے سے ہٹ چکا تھا، جناب مختار نے اس کو دوبارہ نامزد کیا لیکن اپنی فوج کی مخالفت کی وجہ سے یہ حکم ان کو واپس لینا پڑا۔ بعد میں حجاج بن یوسف نے اس کو دوبارہ قاضی مقرر کیا اور یہ اس کے بھی قریبی ساتھیوں میں سے ہو گیا۔ حجاج بن یوسف ان پر کافی اعتماد کرتا تھا اور انہی کے مشوروں پر چلتا تھا۔یہ بات کافی مشہور ہے کہ قاضی شریح نے امام حسین ع کو قتل کرنے کا فتوی دیا تھا، لیکن یہ بات معتبر مصادر میں نہیں ملتی۔ اور ایسا بعید نظر آتا ہے جبکہ کوفہ کی اکثریت امام حسین ع کے ساتھ تھی۔ اگر اس نے واقعی ایسا فتوی دیا ہوتا تو جناب مختار اس کو نہیں چھوڑتے اور اس کا انجام وہی ہوتا جو دیگر قاتلان امام حسین (ع) کا ہوا تھا۔ لیکن اس کے باوجود امام حسین ع کی شہادت میں اس کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا کہ ہانی بن عروہ کو قیدی بنانے کے بعد بپھرے ہوئے ہجوم کو، جو ابن زیاد کو قتل کرنے کے درپئے تھا، کیسے قاضی شریح نے حالات کو ابن زیاد کے حق میں تبدیل کر لیا۔

جو کچھ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ شریح کافی ڈرپوک شخص تھا اور متعدد مقامات پر اپنے مفادات کو عزیز رکھتا تھا۔ ہر زمانے کے حاکم کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات اسی بات کی طرف اشارہ ہیں۔ تاریخ میں اس نے متعدد پینترے بدلے ہیں۔ یہ وہ شخص ہے جو حق کو پہچانتا تھا لیکن افسوس کہ یہ شخص پھر بھی مصلحتوں کا شکار رہا۔

تحریر: سید جواد حسین رضو ی

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close