اہم ترین خبریںپاکستان

نئے پاکستان میں بھی ریاست کا طرز عمل وہی ماضی کی حکومتوں کی طرح غلامانہ ہے،علامہ راجہ ناصر عباس

دوسروں کی ڈکٹیشن قبول کرتے ہوئے مخلص دوست ممالک کو ناراض کرنا ملکی و قومی سلامتی کے لیے کوئی اچھا شگون ثابت نہیں ہو گا

شیعت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا کہ پاکستان کے داخلی و خارجی معاملات ہمیں خود طے کرنے ہوں گے۔پاکستان ایک خودمختار اور ایٹمی ریاست ہے۔مختلف ممالک سے ہمارے تعلقات کسی کی پسند و ناپسند کے کے تابع نہیں ہونے چاہیے۔اعلی سطح فیصلے ملک و قوم کے مفادات کو مقدم رکھ کر کیے جاتے ہیں۔دوسروں کی ڈکٹیشن قبول کرتے ہوئے مخلص دوست ممالک کو ناراض کرنا ملکی و قومی سلامتی کے لیے کوئی اچھا شگون ثابت نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ پر علامہ سبطین کاظمی کی زوجہ سمیت جہاز سے بلاجواز گرفتاری کی کوشش ناکام

انہوں نے کہا ہماری ذرا سی بے اعتنائی ہمیں ان دوست ممالک سے دور کر سکتی ہے جنہوں نے کشمیر کے معاملے میں عالمی فورمز پر ہماری کھل کر حمایت کی ہے۔ محمد بن سلمان اور محمد بن زید کے دباؤ پر خارجہ پالیسی کی تبدیلی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ نئے پاکستان میں بھی ریاست کا طرز عمل وہی ماضی کی حکومتوں کی طرح غلامانہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دونوں برادر پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران کا اپنی سمندری حدودمیں ہم آہنگی سے کام پر اتفاق

علامہ راجہ ناصرعباس نے کہاکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی کبھی حمایت نہیں کی اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو ترجیح دی۔ملک دشمن عالمی طاقتوں اور عرب حکمرانوں نے مادر وطن میں دہشت گرد تنظیموں کو ہر طرح کی سپورٹ فراہم کی تاکہ ملک عدم استحکام کا شکار رہے۔یہ طاقتیں خودمختار اور مستحکم پاکستان نہیں دیکھنا چاہتیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملکی استحکام کو لاحق خطرات ، آرمی چیف جنرل باجوہ کا اہم اعلان سامنے آگیا

انہوں نے کہا کہ کوالمپور سمٹ میں پاکستان کی عدم شمولیت کے اعلان نے خود مختار خارجہ پالیسی کا خواب چکنا چور کر دیا ہے۔مسلم ممالک کے سربراہی اجلاس میں دنیا کے بڑے رہنما شریک ہو رہے ہیں لیکن سعودی عرب کے دباؤ پر پاکستان کے شرکت سے انکارنے پوری قوم کو چونکا کے رکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اس عمل سے ہماری ساکھ پوری دنیا میں سخت متاثر ہو گی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close