اہم ترین خبریںپاکستان

ہم سب ایک قوم بن کر کرونا کی وبا کو شکست سے دوچار کر سکتے ہیں، علامہ راجہ ناصرعباس

حکومت کے اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی

شیعت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتان بارڈر پر زائرین کے معاملے میں احتیاط نہیں برتی گئی جس سے کرونا وائرس کے پھیلائو کے امکانات میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ ایران سے آنے والے زائرین کو تشخیصی عمل سے گزارے بغیر اکھٹے رکھا گیاجو کرونا سے بچائو کی تدابیر کی صریحاََ خلاف ورزی ہے۔ حکومت کے اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومتی غفلت اور نا اہلی کے سبب تفتان بارڈر پر درجنوں زائرین کورونا وائرس میں مبتلا ، اہم رپورٹ

ان کا کہنا تھا کہ تفتان بارڈر پر بزرگوں،خواتین، بچوں اور مریضوں کی بڑی تعداد کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک نامناسب ہے۔تفتان میں موجود زائرین کے فوری ٹیسٹ کرکے جو لوگ صحت مندہیں انہیں ان کے گھروں کی طرف روانہ کیا جائے جب کہ مریضوں کو قرنطینہ سینٹرز میں داخل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس عالمی وبا کی صورتحال اختیار کرچکا ہے۔جس کا مقابلہ حکومت اور عوام کو مل کر کرنا ہو گا۔عوام کو چاہیے کہ وہ محکمہ صحت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔کسی بھی آفت ناگہانی یا ہنگامی صورتحال کا مقابلہ جرات و استقامت سے کیا جاتا ہے۔ ہم سب ایک قوم بن کر کرونا کی وبا کو شکست سے دوچار کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نا اہل حکومت تفتان بارڈر پر زائرین کی قیمتی جانوں سے کھلواڑبند کرے، علامہ موسیٰ رضاجسکانی

انہوں نے کہا کہ اس انسانی المیہ کو سیاست کی نذر کرنے والوں کی سوچ پر افسوس ہوتا ہے ۔تفتان کے زائرین کے حوالے سے خواجہ آصف کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور حقیقت سے عدم آگہی کا ثبوت ہے۔متاثر مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کے اظہار کی بجائے اسے انتقامی رنگ دیا جانا افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے سندھ حکومت کے اقدامات باقی صوبوں کی نسبت قدرے بہتر ہیں تاہم ان میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔پنجاب کی وزیر صحت کو چاہیے کہ وہ مختلف علاقوں اور صحت کے مراکز کا دورہ کریں اور حالات کو قابومیں رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ڈبلیوایم کے رہنماؤں کی جانب سے زائرین کی مشکلات کے خلاف کوئٹہ میں بھوک ہڑتال کا آغاز

بلوچستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے صوبے کے عملی اقدامات ناکافی اور غیر تسلی بخش ہیں۔بلوچستان حکومت کو چاہیے کہ محض بیانات سے کام چلانے کی بجائے جنگی حکمت عملی طے کرے تاکہ کرونا وائرس کو شکست دی جاسکے۔عوامی رہنمائی اور آگہی کے سلسلے میں بلوچستان کے علما اور دیگر موثر شخصیات کو بھی اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ نے شوری عمومی کے ملک گیر سالانہ کنونشن منعقدہ اپریل 2020 کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close