کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
پاکستان

امریکہ اور اسکے حواری پاکستانی اور ایرانی بھائیوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنیکی کوشش میں ہیں، رحمٰن ملک

شیعیت نیوز: سینیٹ آف پاکستان کے رکن اور اپوزیشن رہنماءسینیٹر رحمٰن ملک کا ایک بین الاقوامی خبررساں ادارے کیساتھ انٹرویو میں کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی بنیادوں پہ تعلقات میں درپیش مشکلات کی وجہ خطے میں جاری پاکستان اور ایران کیخلاف امریکہ اور انڈیا کی پراکسی وار ہے، کوئٹہ میں دہشت گردی جاری ہے، مذہبی بنیادوں پر، اسی طرح نسلی بنیادوں پر بھی لڑائی کے ذریعے پاکستان کو کمزور اور مجبور کیا جاتا ہے کہ داخلی اور خارجہ سطح پر ہم فعال کردار ادا نہ کرسکیں، لامحالہ طور پر اس کا اثر پاک ایران تعلقات پر بھی پڑتا ہے، اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اسکی ابتداء ملاقاتوں اور مل بیٹھنے سے ہوتی ہے، اس سلسلے میں پرائم منسٹر نے یہ اچھا انیشیٹو لیا ہے، تجارت کی بات بھی کی ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ اور فارسی زبان سے ہمارے تعلق کا ذکر بھی کیا ہے، جس طرح انہوں نے صدر روحانی سے کہا کہ انگریز نے ہمارے لسانی رشتوں کو خراب کیا، اسی طرح موجودہ دور میں امریکہ اور انکے حواری پاکستانی اور ایرانی بھائیوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنیکی کوشش میں ہیں، لیکن دونوں ممالک کی قیادت کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، وزیراعظم عمران خان کی طرح ایرانی قیادت کو بھی پاکستان آنا چاہیئے، جس سے غلط فہمیاں ختم کرنے اور تعلقات کو فروغ دینے میں آسانی ہوگی۔

رحمٰن ملک نے مزید کہاکہ ایران کیخلاف بہت زیادہ زیادتیاں ہو رہی ہیں، لیکن وہ مقابلہ کر رہے ہیں، لیکن کوئی ملک اکیلے کہاں تک جا سکتا ہے، پاکستان کو عالمی سطح پر بھی اس پہ کام کرنا چاہیے، صاف نظر آرہا ہے کہ جو حالت عراق، لیبیا اور افغانستان کی کی گئی ہے، یہی سلوک وہ ایران کیساتھ کر رہے ہیں، یہ ایک عالمی سطح پہ بلاک بنایا گیا ہے، آسانی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، لیکن مسلم ممالک ملکر بہتر راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close