اہم ترین خبریںپاکستان

آئی ایس او پاکستان کے سابقین نے پاک فوج اور آئینی اداروں کے خلاف منفی پروپگینڈے کو قابل مذمت قرار دے دیا

اجلاس میں امید ظاہر کی گئی کہ ہفتہ وحدت کے پروگرام پہلے سے بڑھ کر مظہر عشق و عقیدت ہونگے ۔

شیعیت نیوز: آئی ایس او کے سابقہ مرکزی صدور کا مشترکہ اعلامیہ ،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے سابقہ مرکزی صدور کا اجلاس مورخہ 18اکتوبر 2020کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں موجودہ مرکزی صدر عارف حسین جانی نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں ملکی صورتحال سمیت مختلف امور زیر بحث آئے۔

اجلاس میں اربعین حسینی کے موقع پر ملک بھر میں جس طرح عوامی انداز سے پر امن واک کا اہتمام کیا گیا اور اس میں اتحاد امت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا وہ لائق احترام و اطمینان قرار دیا گیا ۔ بلا مبالغہ اربعین واک میں کئی ملین افراد نے شرکت کی تاہم بعض مقامات پر اس پر امن واک کے شرکاء کے خلاف مقدمات کا درج کیا جانا قابل افسوس ہے ۔ اجلاس میں ان ناروا مقدمات کو فوری طور پر واپس لیے جانے کا مطالبہ کیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان پھر لہولہو،تکفیری وہابی دہشت گردوں کے ہاتھوں ایک عزادار شہید دوسرا زخمی

اجلاس میں تمام عالم اسلام کو میلاد النبی ؐ کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی گئی نیز پاکستان کے تمام مسلمانوں سے درخواست کی گئی کہ وہ مل کر عید میلاد النبی ؐ منائیں کیونکہ رسول اللہ ؐ مرکز وحدت امت ہیں اور ہم سب کی محبتوں اور عقیدتوں کا محور اور محبوب پروردگار ہیں۔ اجلاس میں امید ظاہر کی گئی کہ ہفتہ وحدت کے پروگرام پہلے سے بڑھ کر مظہر عشق و عقیدت ہونگے ۔

آئی ایس او کے سابقہ مرکزی صدرور نے اپنے اس اجلاس میں یہ بات زور دے کر کہی کہ ہم پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی کے حامی ہیں ۔ آئین کے مطابق حقیقی جمہوریت کے تسلسل کو ملک کی فلاح اور ترقی و خوشحالی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے پاک فوج اور اس کے اداروں کو منفی انداز سے ہدف تنقید بنائے جانے پر اجلاس میں اظہار افسوس کیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، افواج پاکستان اور دین اسلام کے خلاف سوشل میڈیاپر موجود مواد پر پابندی عائد

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مضبوط دفاعی قوت پاکستان کی بقا اور سالمیت کی ضامن ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ہمارے دشمنوں بھارت ، اسرائیل اور ان کے سرپرستوں کے نظروں میں کھٹکتی ہیں۔ ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے ہم اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہیں تاہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ سلامتی کے ادارے اپنی ماضی کی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیں ۔بدلتے ہوئے عالمی حالات سے ہم آہنگ پالیسی مرتب کریں اور عالم اسلام کے لیے غیر جانبداری اور ثالثی کے اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے باوقار اور راہنما کردار ادا کرنے میں حکومت کی مدد کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close