دنیا

صدر ٹرمپ ایک گھمنڈی انتہا پسند ہیں۔ امریکی سینیٹر کملا ہیریس

شیعت نیوز : امریکہ کی ایک سینیٹر کملا ہیریس نے اس ملک کے صدر کو ایک ایسا گھمنڈی انتہا پسند بتایا ہے جس کی نظر میں سیاہ فاموں کی زندگی کو کوئی قیمت نہیں ہے۔

امریکی سینیٹ میں کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن کملا ہیریس نے جمعے کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نسل پرستانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کبھی بھی سیاہ فاموں کی زندگی کی اہمیت اور ان کے ساتھ انصاف کے قائل نہیں رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پچھلے کئی ہفتوں سے امریکہ کے مختلف شہروں میں سیاہ فام باشندوں کے ساتھ پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مرجع عالیقدر آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی کی توہین قابل مذمت ہے، آغا حامد موسوی

دوسری جانب ایران کے امور میں امریکی حکومت کے خصوصی نمائندے نے ایران اور وینیزوئیلا کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

برائن ہک نے جمعے کے روز ایران اور وینیزوئيلا کے تعلقات کا جائزہ لینے کی غرض سے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہونے والی ایک نشست میں کہا کہ ہم ان دو ملکوں کے تعلقات میں فروغ سے تشویش میں ہیں۔ ہک نے دعوی کیا کہ ایران نے میزائيلی تجربات اور خطے کے لیے خطرہ پیدا کرنے والے اقدامات جاری رکھے ہیں۔

انھوں نے اسی طرح دعوی کیا کہ ایران میں امریکہ کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کے خلاف اعتراضات ہوتے ہیں۔ ایران کے امور میں امریکی حکومت کے نمائندے نے اپنے بے بنیاد اور گھسے پٹے دعوؤں کو ایک بار پھر دوہراتے ہوئے کہا کہ ایران کی حکومت قانونی جواز کے بحران میں پھنسی ہوئي ہے۔

برائن ہک نے دعوی کیا کہ ایران اور وینیزوئیلا کی معیشتیں، دنیا کی سب سے بری معیشتیں ہیں۔ انھوں نے دعوی کیا کہ حزب اللہ لبنان سے ایران کے تعلقات کے سبب لبنانی عوام کو نقصان پہنچا ہے۔

اس امریکی عہدیدار نے کہا کہ ان کی حکومت ایران کے خلاف اسلحہ جاتی پابندی کو جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات انجام دے گی۔

برائن ہک نے ایسے عالم میں ایران کے خلاف اپنے بے بنیاد دعوؤں کو دوہرایا ہے کہ امریکی حکومت، دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد حکومت ہے اور دنیا کے متعدد ممالک میں اس نے بدامنی پھیلا رکھی ہے۔

امریکہ کی موجودہ حکومت کی مقبولیت اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے اور کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی اور اسی طرح نسل پرستانہ رویے کے سبب وہ عوام میں اپنا قانونی جواز بھی کھو چکی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close