مقالہ جات

صدی کی اصل حقیقت مقاومت ہے ڈیل نہیں

فلسطین کی تقدیر کا فیصلہ فلسطین کے اندر اور خود فلسطینیوں کے ہاتھوں انجام پائے گا جیسا کہ دنیا کی ہر قوم اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرتی آئی ہے۔ حتی اس صورت میں بھی جب کسی قوم کی تقدیر کا فیصلہ بیرونی قوتوں کی مداخلت سے انجام پاتا ہے اس مداخلت کا موقع خود اندر والے ہی فراہم کرتے ہیں۔ آج کسی کو اس بارے میں شک نہیں کہ ایک "فلسطینی قوم” موجود ہے اور مستقبل میں بھی اس کا وجود باقی رہے گا جبکہ گذشتہ 120 سال کے دوران "فلسطینی قوم” کے حقیقی خاتمے کیلئے انتہائی وسیع پیمانے پر سرتوڑ کوششیں کی جا چکی ہیں۔ اس دوران نت نئی سازشیں انجام پائی ہیں اور عالمی طاقتوں نے بھرپور انداز میں ان سازشوں کی حمایت کی ہے۔ یہ ماجرا بذات خود منطق کا ایک قضیہ فراہم کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وسیع پیمانے پر بھرپور سازشوں کے باوجود فلسطینی قوم کی مقاومت باقی رہے گی اور اپنے اہداف کی جانب قدم بڑھاتی رہے گی۔

1922ء سے 1948ء کے درمیان فلسطینی سرزمین پر برطانوی سرپرستی اور 1948ء میں اسی سرزمین پر ایک یہودی ریاست کے قیام میں گہرا اور بامعنی تعلق پایا جاتا ہے۔ اسی طرح ایرگون، ہاگانا، اشتون اور لہی نامی صہیونی دہشت گردانہ نیٹ ورکس اور تنظیموں کی کاروائیوں اور "اسرائیل” کے وجود کی قانونی حیثیت کی تکمیل کیلئے عالمی سطح پر بالخصوص اقوام متحدہ میں برطانیہ کے قانونی اور نیم قانونی اقدامات کے درمیان بھی انتہائی معنی دار تعلق قائم ہے۔ اسرائیلی رژیم کا 50 فیصد حصہ فلسطینی سرزمین پر برطانوی سرپرستی کے دور میں تشکیل پایا ہے۔ 1948ء سے لے کر 1967ء کی عرب اسرائیل فیصلہ کن جنگ تک غیر ملکی یہودیوں کے قبضے میں آنے والی فلسطینی سرزمین کی اہمیت ہر گز اس سرزمین سے کم نہیں جن پر یہودیوں نے 1922ء سے لے کر 1948ء تک قبضہ کیا تھا۔ یہ ظالمانہ اقدامات ایسے وقت انجام پائے ہیں جب اقوام متحدہ بھی موجود تھی اور سلامتی کونسل بھی اپنا کام کر رہی تھی اور یہ عالمی ادارے حقیقی معنوں میں فلسطینیوں کی مدد کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے اور انہیں کم از کم 1948ء سے 1967ء تک کھوئے ہوئے علاقے واپس لوٹا سکتے تھے۔

سلامتی کونسل ابتدا سے ہی اقوام متحدہ کا اہم ترین ذیلی ادارہ رہا ہے اور اس ادارے پر مسلط عالمی طاقتوں نے 1905ء سے غیر فلسطینی یہودیوں کے پہلے گروہ کی فلسطین آمد سے لے کر 1948ء میں اسرائیل کی موجودیت کے باقاعدہ اعلان تک فلسطینی سرزمین کے 50 فیصد حصے پر قابض ہونے میں غیر فلسطینی یہودیوں کی بھرپور مدد کی تھی۔ بعد میں جب عالمی نظام میں تبدیلی رونما ہوئی اور دنیا پر بائی پولر سسٹم نافذ ہو گیا جسے علم سیاسیات میں "یورپین کنسرٹ” کا نام دیا گیا ہے، امریکہ اور سابق سوویت یونین نے صہیونی تسلط کے پھیلاو میں اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں مسلمان، عیسائی اور یہودی سمیت تمام فلسطینی عرب باشندوں کے پاس کوئی محفوظ جگہ باقی نہ رہی۔ اگر ہم اسرائیل کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیز اور حتی اسرائیلی حکومت کے دہشت گردانہ اقدامات کا تاریخی جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ انہوں نے فلسطینیوں کی زندگی ویران کرنے اور انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے مکمل آزادی سے کھلم کھلا کاروائیاں کی ہیں۔

صہیونی دہشت گردانہ گروہ ایرگون کی جانب سے 1948ء میں فلسطینی قصبے دیریاسین کا وحشیانہ قتل عام جسے اس وقت کے اسرائیلی صدر نے "معجزہ” قرار دیا کیونکہ اس وحشیانہ قتل عام کے نتیجے میں دیگر فلسطینی قصبوں میں شدید خوف اور وحشت کی فضا قائم ہو گئی تھی اور بڑی تعداد میں فلسطینیوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر جلاوطنی اختیار کر لی تھی۔ اسی طرح سابق اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن کے زیر فرمان صہیونی دہشت گردوں نے دو فلسطینی قصبوں "لود” اور "راحلہ” میں گھس کر سینکڑوں نہتے شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اس اقدام کو "ہیروئیک” قرار دیا اور فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ احتجاج کرنے والے افراد کی ہڈیاں توڑ دیں اور فوجیوں نے یہ کام سرعام میڈیا کے کیمروں کے سامنے انجام دیا۔ ایک اور مثال 1982ء میں دو فلسطینی مہاجر کیمپس "صبرا” اور "شتیلا” میں اسرائیلی دہشت گردوں کے ہاتھوں نہتے فلسطینی شہریوں کا قتل عام ہے جو اس وقت انجام پایا جب ایریل شیرون نے وزارت جنگ کا قلمدان سنبھال رکھا تھا۔ ان تمام واقعات میں جب فلسطین میں اسرائیلی ظلم و ستم جاری تھا اور واشنگٹن میں اس ظلم کا زمینہ فراہم کیا جا رہا تھا، "ملت فلسطین” نامی حقیقت موجود تھی۔

آج یہ ملت ماضی سے زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔ یہ ماضی چاہے برطانوی استعمار میں النبی کی کمان کا زمانہ ہو یا مقبوضہ فلسطین پر غاصب صہیونی رژیم کا زمانہ ہو۔ اگر ماضی میں غاصب صہیونی حکمران رعب اور وحشت کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر جلاوطنی پر مجبور کیا کرتے تھے تو آج خود غاصب صہیونی رعب اور وحشت کا شکار ہو چکے ہیں۔ حالیہ جنگ میں غزہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطین خاص طور پر ڈیمونا کے شمالی علاقوں کی طرف 690 راکٹ اور میزائل فائر کئے جانے کے نتیجے میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کوئی مطلوبہ نتیجہ حاصل کئے بغیر ہی جنگ بندی کی پیشکش کرنے پر مجبور ہو گئی۔ آج استعماری قوتیں اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ماضی کا وہ رعب اور دبدبہ قائم کر سکیں جس کے نتیجے میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم معرض وجود میں آئی تھی اور اسی کی بدولت اب تک قائم رہی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ آج بھی اسرائیل کے حق میں فلسطینیوں کے خلاف قانونی اقدامات تو انجام دے سکتے ہیں اور دے رہے ہیں لیکن وہ ہر گز فلسطین کی تقدیر کا فیصلہ اپنی مرضی کے مطابق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

اس بنیاد پر سینچری ڈیل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ آج امریکہ، برطانیہ وغیرہ اسے کامیاب نہیں کرنا چاہتیں بلکہ اس کی وجہ ان کی عاجزی ہے۔ وہ خطے پر اثرانداز ہونے سے عاجز ہیں۔ ایک زمانہ ایسا تھا جب عالمی استعماری بلاک کسی قسم کی رکاوٹ کے بغیر دنیا میں جہاں بھی چاہتا ایک نئی ریاست تشکیل دے دیتا تھا یا ایک حکومت کو سرنگون کر دیتا تھا لیکن آج وہ خطے میں ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔ آج امریکہ، برطانیہ، اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور حتی خطے میں ان کی پٹھو عرب حکومتیں حزب اللہ لبنان اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو کنٹرول کرنے سے عاجز ہیں۔ جبکہ حزب اللہ لبنان اور فلسطینی جہادی گروہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور ان کے علاقائی اور عالمی حامیوں کو کنٹرول کرنے کی مکمل صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسرائیل اپنی سکیورٹی برتری پر مبنی ڈاکٹرائن کی بنیاد پر حزب اللہ لبنان کی جانب سے بعض مخصوص رینج والے میزائلوں کی دستیابی کو اپنے لئے ریڈ لائن کے طور پر پیش کرتا تھا اور جیسے ہی اسے اس کی بھنک ملتی تھی حزب اللہ اور حماس کے اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنا ڈالتا تھا۔ لیکن آج اس قسم کے میزائل حزب اللہ لبنان کے پاس بھی موجود ہیں اور حماس کے پاس بھی ہیں۔

جب اسرائیل نے اپنی بے بسی کا مشاہدہ کیا تو اس نے اپنی ریڈ لائن میں تبدیلی کرتے ہوئے جی پی ایس گائیڈڈ میزائلوں کو نئی ریڈ لائن کے طور پر متعارف کروایا۔ یہ ایسی قسم کے میزائل ہیں جو 100 کلومیٹر کی رینج کے حامل ہیں اور ایک میٹر سے بھی کم خطا کے ساتھ مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس قسم کے میزائلوں سے اسرائیل کی انتہائی حساس اور اسٹریٹجک تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسرائیل نے حزب اللہ لبنان اور حماس کو گائیڈڈ میزائلوں سے لیس ہونے سے روکنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن آج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ حزب اللہ لبنان کے پاس گائیڈڈ میزائلوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ لہذا اسرائیل اپنی اسی ریڈ لائن سے بھی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اب اس نے اپنی نئی ریڈ لائن کا اعلان کیا ہے جو لبنان کے اندر گائیڈڈ میزائلوں کی تیاری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چند ماہ بعد وہ اپنی اس ریڈ لائن سے بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائے گا اور کوئی نئی ریڈ لائن اختیار کرے گا جو مثال کے طور پر حزب اللہ لبنان کو طاقتور جنگی طیارے حاصل کرنے سے روکنے پر مشتمل ہو سکتی ہے۔

سکے کا دوسرا رخ غاصب صہیونی رژیم کے سب سے بڑے حامی امریکہ کی فوجی صورتحال ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکی حکام نے کم از کم روزانہ ایک بار اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اس کی بنیادی وجہ ایران کی اعلی درجے کی فوجی طاقت اور ملک کے اعلی سطحی عہدیداروں میں امریکہ سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم راسخ ہے۔ یہ امر خطے میں مغرب کے خلاف جدوجہد میں ایک اسٹریٹجک تبدیلی ہے۔ 1948ء، 1956ء، 1967ء اور 1973ء کی جنگوں کا زمانہ ذہن میں لائیں جب اسرائیل کے خلاف متحدہ عرب محاذ ایک طرف تو عالمی طاقتوں سے اسلحہ خریدنے کا محتاج تھا جبکہ اس محاذ میں شامل ہر ملک کسی نہ کسی عالمی طاقت سے منسلک تھا۔ آج اسلامی مزاحمتی بلاک فوجی لحاظ سے نہ ہی امریکہ اور نہ کسی اور طاقت کا محتاج ہے اور سیاسی اعتبار سے بھی نہ صرف کسی بلاک میں شامل نہیں بلکہ خود ایک انتہائی طاقتور سیاسی، ثقافتی اور فوجی بلاک شمار ہوتا ہے۔ فلسطین کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا یہ مزاحمتی بلاک ہے نہ مذاکرات اور ایسے ممالک کے اجلاس جو عالمی طاقتوں کے عروج کے زمانے میں خطے میں اثرورسوخ کے حامل تھے۔

مذکورہ بالا حقائق کے باوجود اس میں کوئی شک نہیں کہ سینچری ڈیل جیسی سازشیں انتہائی خطرناک ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کیلئے بیداری اور استقامت کی ضرورت ہے۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جولائی میں منعقد ہونے والی کانفرنس سینچری ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پہلا قدم ہے۔ اس کانفرنس کے انعقاد کیلئے بحرین کا انتخاب انتہائی سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔ بحرین ایک شیعہ ملک ہے جسے برطانیہ کی سازش اور پہلوی رژیم کی خباثت کے نتیجے میں ایران سے علیحدہ ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ سینچری ڈیل کے بارے میں ایران اور اہل تشیع کا موقف انتہائی واضح ہے جیسا کہ سنی اسلامی ممالک کی اکثریت نے بھی اس کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ لہذا سینچری ڈیل کیلئے عملی اقدامات کی ابتدا بحرین سے کئے جانا سنی ممالک پر یہ ظاہر کرنے کی خاطر ہے کہ بہت جلد شیعہ بھی اس ڈیل کو قبول کرنے والے ہیں۔ دوسری طرف بحرین کی حکومت اسلامی دنیا کی سب سے کمزور اور بے اختیار حکومت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے پٹھو ترین عرب حکمران بھی سینچری ڈیل کا نقطہ آغاز بننے سے گھبرا رہے ہیں۔ منامہ میں امریکی آرمی کے سنٹرل کمانڈر کی موجودگی بھی سکیورٹی امور سے متعلق ان کی پریشانی کو ظاہر کرتی ہے۔

سینچری ڈیل کی ابتدا ایک بہت بڑے جھوٹ سے ہو رہی ہے یعنی "فلسطینیوں کی اقتصادی مشکلات کا حل”۔ انہوں نے اس نعرے سے اس ڈیل کا آغاز اس لئے کیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سینچری ڈیل کا سب سے بڑا مخالف خود فلسطینی ہیں۔ لہذا گذشتہ کئی سالوں بلکہ کئی عشروں سے حتی معمولی حد تک فلاح و بہبود والی زندگی سے محروم فلسطینیوں کو ایک "مطلوبہ اقتصادی صورتحال” دکھا کر اس ڈیل کی راہ سے اہم ترین رکاوٹ برطرف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سینچری ڈیل کے خلاف اسرائیل سے سازباز میں معروف گروپ سے لے کر جہادی گروہوں تک تمام فلسطینی گروہوں کی جانب سے سینچری ڈیل کی واضح مخالفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ڈیل کے بانی فلسطینیوں کو لالچ دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ سینچری ڈیل خطے میں جیوپولیٹیکل تبدیلیوں اور سرزمین پیش کر دینے اور اس میں وسیع پیمانے پر ردوبدل کا منصوبہ ہے تاکہ غاصب اسرائیل کی پوزیشن مضبوط کی جا سکے اور فلسطین کو یہودیانے کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچایا جا سکے۔

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ فلسطین کو یہودیانے یا اس سے ملتا جلتا ہر عمل ایک سماجی عمل ہے نہ کہ سیاسی، اور سماجی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ فلسطین کے عرب باشندے یہودیوں کی آبادی میں 1.2 اضافے کے مقابلے میں اپنی آبادی میں 7.4 فیصد اضافے کے ساتھ نہ صرف فلسطین کے یہودیانے جانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ فلسطین کو عرب سرزمین بنانے کی سمت تیزی لا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ فلسطین ایک عرب سرزمین تھی اور عرب سرزمین باقی رہے گی اور آخرکار مکمل طور پر انہیں واپس مل کر رہے گی۔

 

تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close