اہم ترین خبریںپاکستان

امریکہ کی پاکستان کے ساتھ دوستی نہیں منافقانہ پالیسی ہے، علامہ ساجد علی نقوی

ہم جنہیں اپنا اتحادی تصور کرتے رہے کڑے وقت میں ان کا کردار اس فارسی جملے ”قربان درم خدارا، یک دام دو ہوا را“ کے مصداق ہے اور ہمیشہ دہرا معیار اور رویہ اختیار کیا جاتا رہا

شیعت نیوز: سربراہ شیعہ علماءکونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نےکہاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے اس کے جمہوری ریاست کا پول کھول دیا، آج خود نام نہاد سیکولر ریاست میں ہزاروں افراد سراپا احتجاج ہیں، امریکہ جیسا استعمار بھی ایسے قابض ممالک کو شہ دیتاہے، پاکستان کو ایک جانب اپنا دوست دوسری طرف ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ایف اے ٹی ایف میں حمایت کی بجائے مزید مطالبات کا راگ الاپ رہاہے، خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی کو خود مختار ملک کے طور پر منظم اور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: شہید قاسم سلیمانی ؒ اور ساتھیوں کے قتل کے ماسٹر مائنڈ اعلیٰ سی آئی اے افسرکی ہلاکت کا انکشاف

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، سی پیک ، ایف اے ٹی ایف سے متعلق امریکی عہدیداروں کے ڈکٹیشن کے انداز میں بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ بھارت جو اپنے آپ کوخطے میں جمہوریت اور سیکولرازم کا استعار ہ قرار دیتے تھکتا نہیں ہے ، مقبوضہ کشمیر میں مہینوں سے جاری مسلسل کرفیو، بنیادی انسانی حقوق کی بندش اور خود بھارت میں گزشتہ کئی روز سے جاری مظاہرے اس بات کی غماز ہیں کہ بھارت بھی امریکہ جیسے استعمار کی روش اختیار کرتے ہوئے قابض ریاست کا روپ دھار چکاہے، نہ صرف وقت نے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے ویژن کو سچا ثابت کردیا بلکہ اب قائد ؒکے نظریے کو تسلیم کرنے کی بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سی ٹی ڈی خیبرپختونخواہ کی ٹانک میں کاروائی،کالعدم سپاہ صحابہ کے 2 دہشتگرد جہنم واصل

انہوں نے ایلس ویلز سمیت امریکی عہدیداروں کے سی پیک، ایف اے ٹی ایف سے متعلق ڈکٹیشن کے انداز میں بیانات پر اپنا موقف دہراتے ہوئے کہاکہ ہم جنہیں اپنا اتحادی تصور کرتے رہے کڑے وقت میں ان کا کردار اس فارسی جملے ”قربان درم خدارا، یک دام دو ہوا را“ کے مصداق ہے اور ہمیشہ دہرا معیار اور رویہ اختیار کیا جاتا رہا، آج بھی یہی صورتحال ہے ، سی پیک جو پاک چین عظیم دوستی کی مثال کے ساتھ اب اقتصادی تعلقات کی مضبوطی اور اقتصادی پوزیشن کو بہتر بنانے کا ایک بڑا منصوبہ ہے اس پر امریکہ کی جانب سے ہرزہ سرائی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ناقابل قبول ہے، ایف اے ٹی ایف جہاں پاکستان کے ساتھ دوستی نبھانے کا وقت تھا وہاں بھی امریکہ کی جانب سے مسلسل ڈکٹیشن دینے کی روش دراصل بھارت کی حمایت ہے، ہم عرصہ سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ خارجہ پالیسی کو آزاد، خود مختار اور ایٹمی ملک کے شایان ہونا چاہیے، ہمیں بھی اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کرتے ہوئے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں خارجہ پالیسی استوار کرنا ہوگی، تمام ممالک سے تعلقات ضرورت استوار کئے جائیں مگر یہ تعلقات برابری اور مساوی بنیادوں پر قائم کئے جائیں ۔

یہ بھی پڑھیں: قاسم سلیمانی کی شہادت پرحکمرانوں نے غیر جانبدارانہ موقف اپنا کر کشمیر کاز کو کمزور کر لیا ہے،تحریک وحدت اسلامی پاکستان

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان نے موجودہ صورتحال میں بہتر انداز میں مسئلہ کشمیر کو اٹھایامگر فی الوقت اسکا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا، کشمیر میں آج بھی کرفیو جاری ہے، انسانی و بنیادی حقوق آج بھی سلب کئے جارہے ہیں، میڈیا پر مسئلہ کشمیر کو اٹھانے کےساتھ ساتھ سیاسی و سفارتی سطح پر مزید ٹھوس اقدامات اور اثر و رسوخ استعمال کرتے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر ملائیشیا، ترکی اور ایران کے پاکستان کا کھل کر ساتھ دیا البتہ دیگر ممالک کی جانب سے ایسی گرمجوشی نظر نہیں آئی، پاکستان کو چاہیے اس معاملے پر او آئی سی کو متحرک کرنے کے ساتھ سلامتی کونسل میں مزید حمایت حاصل کی جائے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close