کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
اہم ترین خبریںپاکستان

جشن آزادی کے دن عہد کرتے ہیں کہ دفاع وطن کےلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے،علامہ ساجد نقوی

یوم آزادی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ ارض پاک کو آزاد ہوئے 7 دہائیوں سے زائد عرصہ بیت چکا لیکن افسوس ہم ابھی تک داخلی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہوئے جو وقت کا تقاضا تھا

شیعت نیوز: سربراہ شیعہ علماءکونسل پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ وطن عزیز اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، ان حالات میں تحریک پاکستان کا وہ جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے جو تشکیل پاکستان کے وقت تھا جب پرجوش عوامی جدوجہد سے تکمیل پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ، آج اسی جذبے کی ضرورت کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دلانے کےلئے ہے، بانی پاکستان نے فرمایا تھا کہ کشمیر شہ رگ ہے، یوم پاکستان پر عہد کیا جائے کہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، تشخص اور جغرافیہ کے تحفظ کےلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائےگا، ہمیں ملکی امن و استحکام ، خارجی مسائل کے ساتھ داخلی مسائل و بحرانوں کے خاتمے کےلئے بھی ا سی طریقے سے یکسوئی یکجہتی دکھائینگے جس طرح ہم دشمن کےخلاف متحدو متفق ہیں، اسی طرح ہمیں کرپشن، فرقہ واریت، دہشتگردی و انتہاءپسند ی کے خلاف بھی متحد ہونا ہے، زندہ قومیں ہمیشہ وقار کے ساتھ جیتی ہیں۔

یوم آزادی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ ارض پاک کو آزاد ہوئے 7 دہائیوں سے زائد عرصہ بیت چکا لیکن افسوس ہم ابھی تک داخلی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہوئے جو وقت کا تقاضا تھا ، ہمیں یوم آزادی کے موقع پر ان مسائل اور تلخ ماضی سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے بلکہ مسائل کے حل اور مشکلات کے خاتمے اور درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے نئے عزم کے ساتھ جدوجہد کاآغاز کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان کو ترقی، خوشحالی، استحکام اور مضبوطی تب حاصل ہوسکتی ہے جب ملک میں عادلانہ نظام کا نفاذ کیا جائے ، عدل و انصاف اور جرم و سزا کاقانون رائج کیا جائے، ظلم، ناانصافی، تجاوز ، زیادتی اور طبقاتی تفریق اور توازن کی ظالمانہ پالیسی کو ختم کیا جائے ۔

ان کا مزید کہنا تھا تمام اداروں کا احترام اوراپنے دائرہ اختیار میں فرائض کی انجام دہی کویقینی ، آئین کا احترام اور قانون کی پابندی کو یقینی بنایا جائے ، ملک سے بے روزگاری، رشوت ستانی، جہالت، فحاشی، عریانی، ناانصافی اور بے عدلی کا خاتمہ کیا جائے، اتحاد بین المسلمین اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، تمام طبقات کے درمیان قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، دور جدید کے تمام سائنسی ، علمی ،ثقافتی اور ارتقائی تقاضوںکو اسلام اور اسلامی قوانین سے ہم آہنگ کیا جائے، کیونکہ جب تک ہم مذکورہ بالا تمام امور پر سختی سے عمل پیرا نہیں ہوتے، اس وقت تک ہم مضبوط داخلی استحکام کی جانب گامزن نہیں ہوسکتے، ان کامزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل بھی ہمارے اندرونی حالات کے مستحکم ہونے سے جڑا ہے ، جب ہم داخلی طور پر مضبوط ہونگے تو مسئلہ کشمیر اور مظلوم کشمیری عوام کی صحیح معنوں میں ترجمانی و وکالت اور انکا حق نمائندگی ادا کرسکیں گے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ہمیں اپنی شہ رگ کے تحفظ کےلئے مزید کاوشیں بروئے کار لانا ہونگی، اپنے تمام اختیارات اور اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت، بنیادی حقوق ، تشخص اور جغرافیہ کے تحفظ کےلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہیے، زندہ اور آزادقومیں وقار کے ساتھ جیتی ہیں، وقت کا تقاضا ہے کہ بھارتی لابیز کا منہ توڑ جواب دیا جائے، مقبوضہ کشمیر میں جس ننگی جارحیت کا ارتکاب یہ نام نہاد جمہوری ملک کررہاہے اسے دنیا پر آشکار کرکے اس کی حقیقت بتائی جائے۔ہم آج کے دن عہد کرتے ہیں کہ دفاع وطن کےلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close