اہم ترین خبریںپاکستان

سربراہ شیعہ علماءکونسل علامہ سید ساجد علی نقوی کا عید الاضحی 1440 ھ کے موقع پر پیغام

عید الاضحی کا بنیادی فلسفہ ہی قربانی‘ ایثار ‘ خلوص اور راہ خدا میں اپنی عزیز ترین چیز نچھاور کردینا ہے۔ اگر عید الاضحی سے قربانی کا تصور اور فلسفہ نکال دیا جائے تو پھر عید الاضحی کا مفہوم بے معنی ہوجاتا ہے

شیعت نیوز: خلقت حضرت آدم ؑ سے لے کر اب تک انبیاءو رسل ‘ ائمہ اور خاصان خدا نے احکام خداوندی کی بجا آوری‘ شریعت اور دین کے نفاذ‘ نظریے کی صداقت اور موقف کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے مختلف انداز سے قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ حضرت آدم ؑ کی زمین پر تشریف آوری ‘ حضرت نوح ؑ کا طوفان سے مقابلہ‘ حضرت موسی ؑ کا کوہ طور پر امتحان‘ حضرت یوسف ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کی جدائی‘ حضرت یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ میں رکھنا‘ حضرت عیسی ؑ کا مصلوب ہونا‘ خاتم الانبیاء کا کفار سے متعدد جنگیں کرنا اور ان کے ظلم و ستم سہنا‘ امیر المومنین حضرت علی ؑ کا طویل عرصہ خاموش رہنا اور خلافت کے زمانہ میں متعدد چیلنجز کا سامناکرنا‘ حضرت امام حسین ؑ کا میدان کربلا میں قربان ہونا غرض یہ کہ تمام ائمہ کے بعد فقہاء‘ علمائ‘ مجتہدین اور حق کا پرچار کرنے والے تمام انسان قربانی دیتے چلے آرہے ہیں۔ انہی قربانیوں میں سے ایک قربانی حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی ہے۔ جو رہتی دنیا تک مثال بن گئی اور اسلامی شریعت میں اس قربانی کی یاد عید الاضحی کی شکل میں منائی جاتی ہے۔

عید الاضحی کا بنیادی فلسفہ ہی قربانی‘ ایثار ‘ خلوص اور راہ خدا میں اپنی عزیز ترین چیز نچھاور کردینا ہے۔ اگر عید الاضحی سے قربانی کا تصور اور فلسفہ نکال دیا جائے تو پھر عید الاضحی کا مفہوم بے معنی ہوجاتا ہے۔یہ بات ہمارے مدنظر رہنا چاہیے کہ حضرت ابراہیم ؑ و حضرت اسماعیل ؑ نے اطاعت خداوندی میں حکم خدا اور رضائے خدا کو انجام دیتے ہوئے قربانی دی اس کے پس پشت میںان کے ذاتی مفادات یا خواہشات نہیں تھے۔ نہ ہی وہ کسی نمود و نمائش کے لئے خود کو قربان کررہے تھے۔ بلکہ ان کا مطمع نظر صرف اور صرف خوشنودی خدا کا حصول تھا۔ چونکہ یہ عمل خدا کے احکام اور اس کی منشا کے مطابق انجام پایا اس لئے اس کا ہدف اور نتیجہ دونوں اعلی و ارفع ٹھہرے۔

انبیاءکرام کی یہ قربانی انسانیت کے لئے روشن مثال اور مسلمین کے لئے اطاعت و ایثار کا ایک حسین نمونہ ہے۔ لیکن اس قربانی کے اہداف کا شعور رکھ کر اس پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ سنت ابراہیمی و اسماعیلی کو پورا کرنے کے لئے فقط جانوروں کی قربانی ضروری نہیں بلکہ اپنے مفادات‘ ذاتی خواہشات‘ غلطیوں ‘ کوتاہیوں اور خطاؤں کی قربانی ضروری ہے کیونکہ بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے یہ کہ خدا کے حضور ہمارے قربان کردہ جانور کا گوشت پوست اور خون نہیں پہنچتا بلکہ ہمارا ہدف‘ ہماری نیت‘ ہمارا ایثار‘ ہمارا خلوص اور ہمارا جذبہ پیش ہوتا ہے۔ لہذا ہمیں اس جانب اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے کہ ہم کتنے اخلاص اور ایثار کے ساتھ یہ قربانی پیش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر قربانی کے پس منظر میں اس زمانے کے حالات کے پیش نظر تمام انسانوں کے لئے مختلف اسباق مضمر ہوتے ہیں حالانکہ یہ اسباق واضح ہوتے ہیں لیکن عام لوگ ان اسباق کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ یہی معاملہ قربانی اسماعیل جیسے واقعات کے ساتھ ہوا اور ہورہا ہے بالخصوص مسلم معاشروں کا المیہ یہی رہا ہے کہ وہ فروعی معاملات اور رسوم و رواج اور سطحی نوعیت کے اقدامات کو اہمیت دیتے رہے ہیں لیکن قربانیوں کے مقاصد اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔

علامہ ساجد علی نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عید الاضحی کے نیک اور بابرکت موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم انبیاءکرام‘ ائمہ معصومین ؑ‘شہدائے اسلام کی قربانی سے بالخصوص حضرت ابراہیم و اسماعیل ؑ کی قربانی سے الہام اور سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ایک راہ متعین کریں گے ۔ امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی میں رکاوٹ بننے والے عوامل‘ بحرانوں‘ چیلنجز اور مشکلات کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں گے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close