اہم ترین خبریںپاکستان

منصفانہ انویسٹی گیشن اور جاندار پراسیکیوشن ہی انصاف کی راہ ہموار کرے گی،علامہ ساجد نقوی

انہوں نے کہاکہ سیاسی اختلاف کوعناد یا دشمنی کی دھکیلنے کا نقصان صرف سیاست نہیں بلکہ جمہوریت اور جمہوریت کے نقصان سے ملک و قوم کا نقصان ہوتاہے

شیعت نیوز: شیعہ علماءکونسل پاکستان کے سربراہ اور ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدرعلامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیںسیاست جمہوریت کی بنیاد ہے، سیاسی اختلاف کو ذاتی عناد کی طرف دھکیلنا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں، نظام کی اصلاح کی جانب توجہ دی جائے، ہر قسم کی مداخلت سے پاک ، غیر جانبدارانہ و منصفانہ انویسٹی گیشن اور جاندار پراسیکیوشن ہی انصاف کی راہ ہموار کرے گی، مساوی حقوق و انصاف سے ہی ملک مستحکم و ترقی کرے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے حالیہ سیاسی صورتحال،حزب اقتدار و حزب اختلاف کے بیانات اور ملک کی مجموعی صورتحال پر تبصرہ اور مختلف رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ جمہوریت کی بنیاد سیاست ہے اور سیاست کا بنیادی مقصد اپنے نکتہ نظر سے عوام میں شعور و آگہی، عوامی مفاد ، قومی تحفظ اور ملک کو درپیش مسائل کے حل کےلئے کی جاتی ہے، اسی لئے سیاست جمہوریت کی بنیاد ہے اور سیاسی شعو ر کو مضبوط کرنے کےلئے اختلاف رائے کا احترام بہت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قانون و انصاف کی بالادستی کو یقینی بنانا ریاست کی زمہ داری ہے،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

انہوں نے کہاکہ سیاسی اختلاف کوعناد یا دشمنی کی دھکیلنے کا نقصان صرف سیاست نہیں بلکہ جمہوریت اور جمہوریت کے نقصان سے ملک و قوم کا نقصان ہوتاہے البتہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ نظریات کی بجائے ذاتی مفاد کی ترویج اور پاور پولیٹکس کے باعث آج جہاں جمہوریت کو نقصان ہورہاہے اس سے ملک و قوم بھی اس نقصان سے دوچار ہے جس کی وجہ سے ملک ایک طرف سیاسی طور پر عدم استحکام سے دوچارہورہاہے تو دوسری جانب معاشی طور پر بھی مشکلات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں، سچ کہنا، سچ سننا اور سچ بولنا معاشرے میں تقریباً ناپید ہوتا جارہاہے اور آئے روز شہری آزادیوں پر قدغنیں بڑھتی جارہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نظام میں موجود خرابیوں کو دورکرنے کےلئے سنجیدہ کوششوں اور اس کےلئے سسٹم میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے ہر قسم کی مداخلت سے پاک، غیرجانبدار انہ و منصفانہ انویسٹی گیشن اور جاندار پراسیکیوشن ضروری ہے کیونکہ جب منصفانہ انویسٹی گیشن اور جاندار پراسیکیوشن ہوگی اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ عدلیہ پر نہیں ہوگا توعدالتیں بروقت فیصلے کرپائیں گی اور تیز ترین اور شفاف انصاف کی جانب بڑھیں گی۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہاکہ کیسز اگر میرٹ پر بنائے جائیں، انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کے ساتھ انہیں صحیح معنوں میں اگے بڑھا کر منطقی انجام تک پہنچایا جائے تو اس کے اثرات معاشرے پر مثبت پڑینگے کیونکہ معاشرے ہمیشہ عدل و انصاف کے ساتھ قائم رہ سکتے ہیںاور ملکی استحکام و ترقی کےلئے اسی راہ پر گامزن ہونا ضروری ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close