اہم ترین خبریںپاکستان

صیہونیت کی طرح مودی کی ہندوتوا اپنی انتہاکو پہنچ چکی ہے، علامہ سید ساجد علی نقوی

آئی سی کا اجلاس بلا کر متنازعہ بل کے خاتمے کیلئے سفارتی محاذ پر اقدامات طے کئے جائیں

شیعت نیوز: شیعہ علماءکونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے بھارتی لوک سبھا کے متنازعہ شہریت بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونیت کی طرح مودی کی ہندوتوا اپنی انتہاکو پہنچ چکی ہے، بھارتی لوک سبھا کا متنازعہ بل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سمیت بھارتی نام نہاد سیکولر ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے، قومی اسمبلی کی متفقہ مذمتی قرارداد لائق تحسین ، لیکن او آئی سی کا اجلاس بلا کر متنازعہ بل کے خاتمے کیلئے سفارتی محاذ پر اقدامات طے کئے جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھارتی لوک سبھا کے متنازعہ شہریت بل کی منظوری پر اپنے شدید ردعمل میں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران انسانی حقوق کو حربے کے طور پر استعمال کئے جانے کی مذمت کرتا ہے

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ بھارت کی مودی سرکار اب مکمل طور پر کھل کر سامنے آچکی ہے، ہندوتوا کا انتہاءپسندانہ نظریہ اب ڈھکا چھپا نہیں جس پر خود بھارتی اپوزیشن، سنجیدہ صحافتی حلقے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نکتہ چینی اور تنقید کررہے ہیں، بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی، بھارتی حیدر آباد دکن سے تعلق رکھنے والے بھارتی رکن پالیمنٹ اسد الدین اویسی،سابق مرکزی وزیر ششی تھرورنے بھی لوک سبھا میں متنازع سیٹزن شپ ترمیمی بل کی بھر پور مذمت اور مخالفت کی ہے جب کہ دوسری جانب متنازع قانون سازی کیخلاف بھارت کے اندر سے عوام کی طرف سے آوازیں اٹھنے لگیں اور کئی شہروں میں مظاہرین نے ہنگامہ آرائی کی ، آسام ، منی پور ، تریپورہ ، بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں سمیت دیگر مختلف ریاستوں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اورسڑکیں بلاک کر دیں جبکہ بھارتی حکمران بھارتی جنتا پارٹی کے اتحادی اکالی دل نے بھی بل میں مسلمان تارکین وطن کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھاکہ بھارتی حکومت کے اس رویے نے اس کے منہ سے نام نہاد سیکولرریاست کا چہرہ بھی بے نقاب کر دیا اور قائد اعظم کی دو قومی نظریہ کی تھیوری کو آج وہ بھی ماننے پر مجبور ہیں جو ماضی میں مخالفت کر تے رہے ۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو اب خواب غفلت سے جاگ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جس کا بنیادی منشور ہی مسلم معاشرتی امور اور نظریہ کا تحفظ اور امہ کو متحد کرنا ہے، اگر ایسے سنگین معاملات پر بھی او آئی سی خاموش رہی تو اُمت مسلمہ کا اعتماد کھو بیٹھے گی اور اس کی رہی سہی حیثیت بھی ختم ہوجائیگی۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی حقوق کے تحفظ کا پیغام نبی اکرمﷺ نے 1400 سال قبل دیا، عمران خان

علامہ سید ساجد علی نقوی نے قومی اسمبلی سے منظور کردہ متفقہ مذمتی قرارداد کو لائق تحسین قرار دیتے ہوئے کہاکہ صرف قومی اسمبلی سے قرارداد کافی نہیں حکومت او آئی سی کا اجلاس بلا ئے جسمیں متنازعہ سیٹزن شپ ترمیمی بل کے خاتمے کے لئے ٹھوس سیاسی و سفارتی اقدامات طے کئے جائیں اور ان پر عمل درآمد کے ذریعے اس بل کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے اور اس کے ساتھ کشمیرو فسلطین پر بھارتی و اسرائیلی مظالم بند کرانے اور مسائل کو حل کرانے کےلئے ٹھوس و عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close